پورے بھارت میں کہیں پر بابری مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے،مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،ان کی 4شادیوں پر پابندی عائد کی جائے:وشوہندو پریشد کے صدر کی ہرزہ سرائی

پورے بھارت میں کہیں پر بابری مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے،مسلمانوں کی آبادی ...
پورے بھارت میں کہیں پر بابری مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے،مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ،ان کی 4شادیوں پر پابندی عائد کی جائے:وشوہندو پریشد کے صدر کی ہرزہ سرائی

  

احمدآباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہندوستان میں صرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہی مسلمانوں کے خلاف مورچہ زَن نہیں دیگر انتہا پسند ہندو سیاسی جماعتیں بھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور نفرت آمیز بیان بازی کرنے سے باز نہیں آتیں ،انڈیا کی بڑی سیاسی جماعت وشواہندو پریشد کے صدر پروین توگڑیا نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف اجودھیا ہی نہیں پورے بھارت میں کسی جگہ بھی مسلمان حکمران ظہیر الدین بابرؒ کے نام پرکوئی مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے،بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا واحد راستہ پارلیمنٹ میں قانون سازی ہے ،مسلمانوں کی دوسری شادی پر بھی بھارت میں پابندی ہونی چاہئے ،4شادیوں سے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،حکومت فوری پابندی لگائے۔

مزید پڑھیں:بابری مسجد نہیں رام مندر کروڑوں ہندوؤں کے عقیدہ کا مسئلہ،2018ء میں پارلیمنٹ سے قانون منظور کر کے تعمیر شروع کر دیں گے:بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما نے دھمکی دے دی

بھارتی نجی چینل ’’انڈیا ٹی وی ‘‘ کے مطابق وشوہندو پریشد کے صدر پروین توگڑیا نے احمد آباد میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے مشترکہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کان کھول کر سن لے، صرف اجودھیا ہی نہیں پورے بھارت میں کسی جگہ بھی مسلمان حکمران ظہیر الدین بابرؒ کے نام پرکوئی مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے، سردار پٹیل نے سومناتھ مندر کی تعمیر کے لئے مسلمانوں کی داڑھی نہیں پکڑی تھی اور نہ ہی کسی ٹوپی والے کو گلے لگایا تھا، اس وقت کی مرکزی حکومت کی رضامندی سے ڈنکے کی چوٹ پر مندر کی تعمیر ہوگئی تھی،اب بھی رام مندر کی تعمیر کے لئے مودی حکومت کو ایسا ہی کرنا چاہئے اور پارلیمنٹ میں قانون کے ذریعے مندر بناناہی واحد راستہ ہے، اگر ایسا نہیں ہوا تو پورے ہندوستان سے لوگ اجودھیا آ کر خود رام مندر تعمیر کریں گے ۔انہوں نے اپنی تقریر میں مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو 4شادیوں اور25بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے سے انڈیا میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،ہندوؤں کے جمع کئے ہوئے ٹیکس مسلمانوں پر خرچ ہو رہے ہیں ،اس لئے مسلمانوں کی دوسری شادی اور 2سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر بھی پابندی ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ سے ہندو پنڈتوں کو آباد کیا جائے اور پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے زبیحہ خانوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔

مزید :

بین الاقوامی -