یوم پاکستان‘ تعبیر سے تعمیر تک

یوم پاکستان‘ تعبیر سے تعمیر تک
یوم پاکستان‘ تعبیر سے تعمیر تک

  



آج 78 سال گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں اپنے اندر 23 مارچ 1940 ء کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ تئیس مارچ کا دن اگر نہ آتا تو آج شاید ہم ایک آزاد ملک میں ایک آزاد زندگی بھی نہ گزار رہے ہوتے۔ آج ہمیں بولنے،لکھنے اور سننے کی آزادی نصیب ہوئی ہے،آج جس طرح ہم جمہوریت کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں اور پوری مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی کی خوشیاں منا رہے ہیں یہ سب یوم پاکستان کی وجہ سے ہی ہے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ 23 مارچ 1940ء کی قرارداد کی تیاری میں اس امر کو خاص طور پر توجہ کا مرکز بنایا گیا تھا کہ قرار داد میں کہیں بھی کوئی کمی یا خامی نہ رہ جائے، جس کا فائدہ دشمن عناصر اٹھائیں۔ اس مقصد کے لئے بہت سے دانشوروں اور قانونی ماہرین کو قرار داد کے متن کی تیاری میں شامل کیا گیا تھالیکن ہندوؤں کی کینہ پرور لیڈر شپ ایک جامع اور مکمل قرار داد پر تنقید کرنے سے باز نہ رہ سکی ، قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے قرار داد کی تیاری سے لیکر تمام معاملات بخیر و عافیت طے پا گئے ، آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے 22,23,24 مارچ 1940 ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس میں تاریخی اہمیت کی حامل یہ قرار داد لاہور پیش کرنا تھی جو بعد میں قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔

تاریخ شاہد ہے کہ جب21 مارچ 1940ء کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچے تووہاں لوگوں کا جم غفیر آپ کے شاندار استقبال کے لئے موجود تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور گرد و نواح کے تمام علاقے فلک شگاف نعروں سے گونج رہے تھے ۔قائد اعظم محمد علی جناح اپنے ضروری معاملات نمٹانے کے بعد جب جلسہ گاہ پہنچے تو انہوں نے تقریر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت کے میڈیا کے مطابق قائد اعظم نے تقریباََ 100 منٹ پر مشتمل شاندار تقریر کی ،جس کو سن حاضرین جلسہ دم بخود رہ گئے ۔

قائداعظم نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے جداگانہ قومیتی وجود کو حقیقی فطرت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔ہندوؤں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ اسلام اور ہندوازم مذہب کے عام مفہوم ہی نہیں ،بلکہ واقعی دو جداگانہ اور مختلف اجتماعی نظام ہیں اور یہ محض خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم بن سکیں گے بالآخر وہ وقت آن پہنچا کہ وزیراعظم بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے تاریخی قرار داد پیش کرنے کے بعد اس کی حمایت میں تقریر بھی کی جس میں انہوں نے بنگال اسمبلی میں اپنی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا اور یہ ثابت کیا کہ فرزندانِ توحید کی آزادی کی صرف یہی ایک صورت ہے ، چودھری خلیق الزماں نے اس قرار داد کی تائید کی، ان کی تائیدی تقریر کے بعد مولانا ظفر علی خاں،سرحد اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر سردار اورنگ زیب خاں اور سرعبداللہ ہارون نے تقاریر کیں، کم و بیش پورے برصغیر کی مسلمان قیادت نے اس پلیٹ فارم سے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے نئے عزم اور ولولے سے سفر آزادی شروع کرنے کا عہد کیا، اس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لیے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا شاخسانہ تھا۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے ۔ باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اْچھالنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

.

قرار داد کی پیشی اور منظوری کے بعد مسلمان ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ ایک روشن صبح کی جانب اپنا سفر شروع کرنے جا رہے تھے ،جس کی سربراہی تاریخ کے عظیم ترین لیڈر حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے ، یہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت و حالات کو دیکھتے ہوئے بہترین حکمت عملی اور خدائے بزرگ و برتر کا فضل و کرم تھا ،جس نے مسلمانوں کے لئے بروقت ایک آزاد ، خود مختار مملکت خدادا پاکستان قائم کرنے میں حقیقی کردار ادا کیا تھا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت میں جس قدر ترقی ہوئی ہے اتنی شاید ماضی کے کسی دور میں نہیں ہوئی۔ صرف سی پیک کا منصوبہ ہی لے لیں تو یہ پاکستان سمیت خطے کی تقدیر بدلنے کے لئے کافی ہے۔ چین ہمارا شہد سے میٹھا دوست ہمارے ساتھ ہر مشکل میں شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ بھارت ہمیں جب بھی آنکھیں دکھاتا ہے چین ہمارے ہاتھ میں ہاتھ ملاتا ہے۔ گوادر پورٹ کے آپریشنل ہونے سے جہاں معیشت کے نئے دروازے کھل رہے ہیں وہاں پاکستان کا شمار ترقی یافتہ ملکوں کی صفوں میں ہونے لگا ہے۔دیکھا جائے تو یہ سب قائد اعظم کے ان خوابوں کی تعبیر ہے جو انہوں نے آج سے ستر برس قبل دیکھے تھے۔ وہ ایسا ہی پاکستان چاہتے تھے جس میں تمام اقلیتیں آزاد ی سے زندگی بسر کریں،جہاں مسلمانوں کا علیحدہ تشخص قائم ہو،جہاں مسلمان اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے تحت گزار سکیں اور جہاں مسلمان زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سائنس کا شعبہ ہو یا آرٹس کا،وہ ہر شعبے میں نام کمانے کے لئے ان تھک جدوجہد کریں۔ قائد کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔ قائد کے اس فرمان یعنی کام کام اور کام کے تحت ملک بھر میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔

موٹر ویز کے جال بچھائے جا رہے ہیں،بجلی کی پیداوار کے منصوبے دھڑا دھڑ مکمل ہو رہے ہیں،لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی تیزی سے کی جارہی ہے،برآمدات بڑھانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں،کھیلوں کے میدان آباد ہو رہے ہیں،ٹیکسٹائل کا شعبہ تیزی سے دنیا میں اپنی جگہ بنا رہا ہے،امن و امان دوبارہ قائم ہو چکا ہے،دہشت گردوں کو شکست ہو چکی ہے،روشنیوں کا شہر کراچی دوبارہ سے آباد و شاد ہو چکا ہے،وہاں سے بھتہ خوری،ٹارگٹ کلنگ اور جرائم کا خاتمہ ہو چکا ہے،بلوچستان دیگر صوبوں کی طرح محرومیوں سے آزاد ہو رہا ہے،یہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے،یہاں کے لوگوں کو حقوق ملنے لگے ہیں۔غرض کہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں تبدیلیاں آ رہی ہیں اور یہ تبدیلیاں اس بات کی نوید اور بین ثبوت ہیں کہ تئیس مارچ کا جذبہ قوم میں اسی توانا انداز میں قائم و دائم ہے جس انداز میں آج سے 78برس قائم تھا۔ اگر یہ جذبہ اسی طرح زندہ و جاوید رہا تو کوئی شک نہیں پاکستان چند ہی برسوں میں جدید ترین ممالک کی صف میں کھڑا ہو جائے گا۔

مزید : رائے /کالم