دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی ذمہ داریاں

دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی ذمہ داریاں
دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی ذمہ داریاں

  

پاکستان کم و بیش پچھلے 16 سالوں سے جدید د ہشت گردی کا شکار رہا ہے (قدیم دہشت گردی۔ 1970ء سے 2000 ء تک تھی)، عام آدمی سے لے کر آرمی، پولیس، حکومتی اعلیٰ عہدہ داروں اور سیاستدانوں تک اس خونی کھیل کا شکار رہے ہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک کسی کو یہ تک معلوم نہیں ہے کہ دہشت گردی آخر کیا ہے، دہشتگرد کون ہیں، ان کے عزائم، عوامل، مقاصد، عناصر، پس منظر، مستقل اور اس کا حل کیا ہے۔ دہشت گردی آخر کس کو کہتے ہیں؟ دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟ یہ ایک بہت پیچیدہ مضمون ہے۔

ملک کی اعلیٰ سیکیورٹی ایجنسیوں اور مقامی فورسز کی مدد سے دہشت گردی کو روکنے اور ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے کسی حد تک اس کو روکا بھی گیا ہے، مگر اس دہشت اور خون سے بھرپور کھیل کو ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکا، اور اس کی اصل وجہ عوام کی دہشت گردی کے بارے میں معلومات کا نہ ہونا ہے، دہشت گردی کے شکار عوام کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ دہشت گردی کی تعریف (ڈیفی نیشن) کیا ہے؟

آپ جب تک دہشت گردی کے مطلب سے آگاہ نہیں ہوں گے، اس سے لڑنے اور اس کے خلاف حکمت عملی کس طرح طے کرپائیں گے! ملک کی اعلی عسکری قیادت بشمول سکیورٹی ایجنسیاں بغیر عوام کی مدد سے دہشت گردی کوکبھی بھی روک نہیں سکیں گی، اور عوام تب تک مدد نہیں کرپائیں گے، جب تک ان کو یہ تک معلو م نہیں ہوگا کہ دہشت گردی کیا ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ امریکا میں دہشت گردی کا خطرناک واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو وہاں سیکڑوں کی تعداد میں دہشت گردی پر ریسرچ انسٹیٹیوٹ بن جاتے ہیں، یوکے میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو یہاں کی انسٹیٹیوٹ دہشت گردی کو بطور مضمون پڑھانا اور ریسرچ کرنا شروع کردیتے ہیں ، اسرائیل میں کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور وہاں اب تک دنیا کے بہترین انسٹی ٹیوٹ قائم ہوچکے ہیں اور ان اداروں سے فارغ التحصیل لوگ دنیا کے بہترین کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، اور اسی طرح کینیڈا، آسٹریلیا اورپورے یورپ میں اس موضوع پر بھرپور آگاہی شروع کردی جاتی ہے، میڈیا میں دہشت گردی پر خصوصی سیل قائم کیے جاتے ہیں، حکومتی سطح پر اس موضوع پر الگ ڈپارٹمنٹس (محکمے)قائم کیے جاتے ہیں، لوگوں کے لیے بھرپور آگاہی مہم شروع کی جاتی ہے اور ہر طرح سے کوشش کی جاتی ہے کہ عوام کو اس ناسور کے بارے میں شعور ہونا چاہیے اور اس بیماری سے لڑنے کی حکمت عملی کا علم ہونا چاہیے۔

مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ ملک (پاکستان) جو دنیا میں سب سے زیادہ اس بیماری کا شکار رہا ہے اور ابھی تک اس بیماری سے لڑ رہا ہے وہاں نہ تو کوئی ڈپارٹمنٹ (حقیقی محکمہ)ہے اور اگر ہے بھی تو اس کی کارکردگی صفر ہے، نہ کوئی ریسرچ ڈپارٹمنٹ ہے، نہ کوئی اس پر اسٹڈی اور ریسرچ ہورہی ہے، نہ اس پر کوئی مخصوص لائبریری ہے، اور نہ میڈیا سیل ہے جو اس کے بارے میں آگاہی پیدا کرے، نہ عوام تک دہشتگردی کے بارے میں شعور پیدا کیا گیا ہے او رنہ عوام کو اس بارے میں کوئی معلومات ہیں کہ آخر یہ بلا کیا ہے اور کیوں نازل ہوئی ہے؟

عوام کو صرف ایک بات بتائی گئی ہے یا عوام صرف ایک بات جانتے ہیں یا یوں کہیں کہ وہ صرف ایک بات ہی جاننا چاہتے ہیں باقی باتوں سے ان کو کوئی غرض نہیں ہے۔

یہ کام انڈین ایجنسی (را) کا ہے۔* یہ دہشت گردی امریکی (سی آئی اے) کروارہی ہے۔* اس دہشت گردی کے پیچھے اسرائیل (موساد ) ہے۔* یہ دہشت گردی نہیں بلکہ جہاد ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی نہ کسی دہشت گردی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی یا مذہبی عمل دخل ضرور ہوتا ہے، مگر اپنے کندھوں سے یہ بوجھ دوسروں کے کندھوں پر منتقل کرنے سے یہ بوجھ ختم نہیں ہوگا، بلکہ نفسیاتی طور پر صرف اس کا احساس ختم ہوگا، بوجھ ادھر کا ادھر موجود رہے گا۔پاکستان کے بہت سارے لوگ دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں، مگر اسی قسم کا کوئی واقعہ امریکہ، اسرائیل، یوکے، انڈیا یا یورپ میں وقوع پذیر ہو تو یہ مذمت یا تو خوشی میں تبدیل ہوجاتی ہے یا پھر خاموشی میں بدل جاتی ہے۔ کچھ لوگ دہشت گردی کو جہاد کا نام دے کر اسلام کو خود اپنے ہاتھوں سے بدنام کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، حالانکہ اسی سیاسی اسلام نے پاکستان میں جہاد کا علم بلند کرکے ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا ہے۔دہشت گردی کی روک تھام کے لئے جہاں حکومتی اقدامات ضروری ہیں وہاں انفرادی ذمہ داریوں اور فرائض کی سرانجام دہی بھی انتہائی ضروری ہے تب نتائج بہتراور ملکی سلامتی اور استحکام کے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -