چشمۂ چشت

چشمۂ چشت
چشمۂ چشت

  

حق تعالیٰ فرماتے ہیں ہم جس کو پسند کر تے ہیں جس پر بہت پیا ر آتا ہے اُس کے دل میں قطرہ عشق ٹپکا دیتے ہیں،وہی قطرہ سمندر بن کر سالک کو نور حق میں شرابور کر دیتا ہے،نوجوان معین الدین ؒ کے لئے رحمت حق چھلک پڑی تھی،اشار ہ غیبی کے تحت کامل فقیر حضرت ابراہیم قندوزی ؒ روٹی کا خشک ٹکڑا نوجوان معین الدین ؒ کے منہ میں ڈال چکے تھے اپنا فرض ادا کر کے جناب ابراہیم قندوزی ؒ تو وہاں سے چلے گئے، لیکن درویش کامل روٹی کے ٹکڑے میں روحانی لنگر دے کر گئے تھے،ناجانے درویش کے نوالے میں کیا بات تھی روٹی کا ٹکڑا جیسے ہی حلق سے اُترا نو ر کی روشن لکیر با طن کے عمیق ترین گوشوں کو نور میں نہلاتی چلی گئی‘ نو رحق نے فوری اپنا کام کیا وہی با غ اور زمین جو کل تک درخشاں مستقبل کی امین نظر آتی تھی اب خا ر دار جھا ڑیاں لگ رہی تھیں با غ کی زرخیزی بنجر زمین نظر آرہی تھی با غ کی ہریالی کی جگہ سلگتے جھلستے ریگستانوں نے لے لی تھی ‘ہر چیز حقیر نظر آنے لگی ‘طبیعت میں ہیجان‘ وحشت، تلا ش اور اضطراب بھر گیا ‘قلب و روح عشقِ مصطفی ﷺ اور عشق الٰہی سے معمو ر ہو گئے ‘کامل درویش اپنا کام کر کے چلا گیا تھا، لیکن نو جوان کی دنیا ہی بدل گئی تھی دُنیا کی حقیقت ہیرے جواہرات مٹی کے ڈھیلے نظر آنے لگے دنیا سرا ئے لگنے لگی ‘آخرت کی فکر کا چشمہ پھو ٹ پڑا، اگلے دن ہی با غ اور چکی فروخت کر دی،لوگوں نے نوجوان سید زادے کو بہت سمجھا یا کہ یہ تم کیا بے وقوفی کر رہے ہو اپنی دنیا اور مستقبل اجاڑ کر خود کو کس کے سہا رے چھو ڑ رہے ہو،یہ حما قت نہ کرو، لیکن نوجوان کے سامنے دُنیا کی حقیقت کھل چکی تھی نوجوان راز زندگی ‘حقیقتِ زندگی جان چکا تھا با غ اورچکی بیچنے کے بعد جو اگلا عمل نو جوان نے کیا اُسے دیکھ کر لوگ ششدر رہ گئے،دنیا دار نوجوان سے ایسے عمل کی بالکل بھی تو قع نہیں کر رہے تھے، لیکن تاریخ کے اوراق ایسے ہزاروں واقعات سے روشن ہیں جب کسی پر حق تعالیٰ کے نو ر کی تجلی وارد ہو ئی تو اُس نے دنیا کے مال و زر زمین جائیداد کو جو تے کی ٹھو کر پر رکھ کر اڑا دیا اور پھر ساری عمر دنیااور دولت کی طرف سر سری نظر سے بھی نہ دیکھا۔

ما دیت پر ست لو گ حیران تھے کہ نوجوان نے جا ئیداد کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کھڑے کھڑے غریبوں مسکینوں میں با نٹ دی،دُنیا پر ست حیرت سے مستقبل کے عظیم ترین فقیر کو دیکھ رہے تھے جن کو قیا مت تک کے لئے دلوں پر حکمرانی کرنا تھی، دُنیا پر ست سمجھ رہے تھے نوجوان کسی ذہنی خلل کا شکا ر ہو گیا ہے نوجوان کی دما غی حا لت بگڑ گئی ہے، کیونکہ کو ئی بھی ہو ش مند انسان ساری جائیداد اللہ کی راہ میں خر چ کر کے ہاتھوں کو نہیں جھا ڑ تے، لیکن نوجوان معین ؒ اہل دنیا کو حیران کر چکا تھا ،دنیا دار اُس نو ر سے بے خبر تھے جو نوجوان معین الدین ؒ کے قلب و روح کو منور کر چکا تھا، ایسا نو ر جس کے سامنے مادیت پر ستی کے سارے اندھیرے اجا لوں میں بدل جا تے ہیں،بچپن میں ہی والدین کی آغوش سے محرومی کی وجہ سے معین الدین ؒ علم کی تکمیل سے محروم تھے ‘علم سے دوری معین الدین ؒ کو مضطرب رکھتی تھی علم سے دوری خلش کی طرح کانٹا بن کر خیا لا ت کو زخمی کر تی تھی نوجوان معین الدین ؒ کی شدید خو اہش تھی کہ وہ کسی طرح اپنا علمی سفر مکمل کر سکے، اب دنیا وی خرا فات سے آزادی ملی تو فوری طو ر پر علم کے حصول کی طرف متوجہ ہوئے، تلاش علم کے لئے خرا سان کو چھو ڑ کر ثمرقند بخارا کی راہ لی جو اُس وقت اسلامی تعلیمات کے لئے دنیا جہاں میں مشہو ر تھا یہاں پر معین الدین ؒ نے پہلے قرآن مجید حفظ کیا پھر تفسیر ‘فقہ ‘حدیث اور دوسرے علوم سے اپنی علمی پیا س بجھا ئی آپ ؒ نے دنیا وی علوم کے لئے بے شما ر اساتذہ کے در پر حا ضر ی دی ‘تا ریخ میں آپ کے زیادہ اساتذہ کا تذکرہ نہیں ملتا، لیکن مولانا جسام بخا ری ؒ کا ذکر ملتا ہے جن سے معین الدین ؒ نے قرآن مجید حفظ کیا ۔

کامل درویشوں کی طرح بچپن سے ہی معین الدین ؒ مضطرب اوربے چین فطرت کے مالک تھے ‘آپ سمجھتے تھے کہ دنیا وی علوم حاصل کر نے کے بعد با طن کا ہیجان ‘وحشت‘ اضطراب ختم ہو جا ئے گا با طنی سکون کا جام ملے گا ظا ہر ی علوم کے بعد بھی دِل و دما غ آتش سوزاں میں اُسی طرح جھلس رہے تھے، بلکہ علم حاصل کر نے کے بعد یہ بے چینی اور بھی بڑھ گئی کسی پل چین نہ تھا معرفت الٰہی اور عشق الٰہی کی آتش پہلے سے بھی تیز ہو گئی اِس آتش کو صرف مر د کامل یا نگا ہِ مر شد ہی سرد کر سکتی تھی،اب کامل مرشد کی رہنما ئی ضروری ہو گئی تھی،اب کامل مرشد کی تلاش میں صحرا گردی شروع کر دی ۔

چپے چپے کی خا ک چھانتا یہ نو جوان نیشا پو ر کے نزدیک ایک بستی ہرون میں داخل ہو ا جہاں اِس جگر سوختہ بے قرار نو جوان کو مرد کامل مل گئے جن کا نام حضرت عثمان ہرونی ؒ تھا نوجوان مقناطیسی کشش کے تحت خانقاہِ چشتیہ کی طرف بڑھ گیا‘ چشتی کا لفظ سب سے پہلے حضرت خوا جہ اسحق شامیؒ کے نام کے ساتھ استعمال ہوا،خوا جہ اسحق شامی ؒ شام کے رہنے والے تھے، لیکن انہوں نے رشد و ہدایت کے لئے چشت کا انتخاب کیا تھا جو خراسان کے قریب چھوٹا سا قصبہ تھا لیکن قدرت نے اس چھو ٹے سے علا قے سے جلنے والے چراغ چشت کو شہرت دوام سے ہمکنا ر کر دیا۔ نوجوان سید زادے کو اپنی منزل یہاں نظر آئی تو ڈیرہ جما لیا ‘آپ ؒ طالب علم کے طو رپر حضرت عثمان ہرو نی ؒ کی بارگاہ میں داخل ہو تے رہے، مگر بے نیاز استاد نے معین الدین ؒ پر بالکل بھی تو جہ نہ دی استاد کا رویہ معین الدینؒ کو ما یو سی میں دھکیل دیتا، لیکن آپ ؒ ہمت کر کے بار بار حضرت عثمان ہرونی ؒ کی خدمت میں حا ضر ہو تے رہے ‘ ایک دن نوجوان نے استاد محترم سے گزارش کی کہ خدارا اب مجھے اپنی غلا می میں لے لیں مرید بنا لیں‘ بیٹا میں اپنا بو جھ نہیں اٹھا سکتا تمہا را کیسے اٹھا ؤں گا ‘استاد محترم معین الدین ؒ کو ٹا لنا چاہتے تھے، لیکن معین الدین ؒ بار بار اصرار کر تے رہے کہ آپ ؒ کے سینکڑوں مریدین ہیں ایک میں بھی ہو جاؤں گا تو کون سا فرق پڑھ جائے گا استاد اب بھی ٹال رہے تھے، لیکن معین الدین ؒ کا جذبہ ادب و احترام دیکھ کر حلقہ مریدی میں داخل کر لیا‘ معین الدین ؒ مرشد کی با رگا ہ میں تقریبا ڈھا ئی سال تک رہے آپ ؒ غلاموں کی طرح دن رات مرشدکی خدمت کرتے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ معین الدین ؒ کے جذبہ عشق و احترام میں اضا فہ ہو رہا تھا ‘حضرت عثمان ہرونی ؒ کے با رے میں تذکرہ نگا ر لکھتے ہیں کہ آپ ؒ نے جان بوجھ کر خود کو چھپا یا ہو ا تھا،دُنیا جہان سے لو گ آپ ؒ کی شہرت سن کر آپ ؒ کے پا س آتے بغور آپ کے شب و رو ز کا مطالعہ کر تے جب کوئی کرامت نہ دیکھتے تو واپس لوٹ جا تے کہ شیخ بھی دنیا دار انسان ہیں اِن کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے جب سارے لو گ شیخ کو چھو ڑ کر چلے گئے تو انہوں نے نوجوان معین الدین ؒ سے بھی کہاکہ جب سارے چلے گئے تو اب تم کیوں نہیں جاتے ‘اپنا وقت برباد نہ کر و کسی دوسرے در پر حاضری دو لیکن معین الدین ؒ نے مرشد کے پا ؤں پکڑ لئے اور کہا شہنشاہ اب میں صرف آپ ؒ کا ہو چکا ہوں کسی اور کا دروازہ نہ دکھا ئیں نہ میں نے کہیں جانا ہے ‘معین الدین ؒ کا جذبہ احترام دیکھ کر جوش رحمت حرکت میں آئی،مر شد نے والہا نہ انداز میں معین الدین ؒ کو سینے سے لگا یا آسمان کی طرف دیکھا اور کہا اے رب ذولجلا ل اب تو بھی معین الدین ؒ کو قبو ل فرما لے جس نے مجھے تنہا نہیں چھو ڑا ‘دعا قبو ل ہو چکی تھی معین الدین ؒ نو ر حق میں شرا بو ر ہو رہے تھے نو ر کی تیز شعاع قلب و روح کو منور کر تی چلی گئی نو ر کی شدت سے تمام حجا بات اٹھتے چلے گئے ‘مر شد بو لے اوپر دیکھو دیکھا تو نظریں درمیان میں حا ئل وسعتوں کو پا ر کر تی چلی گئیں، معین الدین متحیر تھے مرشد نے ہا تھ سامنے کیا اور کہا دو انگلیوں کے درمیان دیکھو ‘نو جوان معین الدین ؒ نے دو انگلیوں کے درمیان عجیب و غریب منا ظر دیکھے جو ماورائے عقل تھے ‘مرشد بولے معین الدین ؒ تم اٹھا رہ ہزار دنیا ئیں دیکھ رہے ہو ‘ معین الدین ؒ پو ری کائنات دو انگلیوں میں دیکھ رہے تھے‘ چشمہ چشت ابل رہاتھا ‘معین الدین ؒ کے قلب و روح منور ہو رہے تھے بعد میں جب بھی کو ئی سالک حضرت عثمان ہرونی ؒ سے روحانیت کی بھیک مانگتا تو آپ ؒ فرماتے میرے پا س جو کچھ بھی تھا وہ میں نے معین الدین ؒ کو دے دیا ۔ 

مزید :

رائے -کالم -