کسی واچ لسٹ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

کسی واچ لسٹ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں
کسی واچ لسٹ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

  



امریکا کی طرف سے پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے واچ لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش میں وقتی ناکامی کے بعد یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ جون 2018ء میں مہلت ختم ہونے کے بعدگرے لسٹ میں نہیں بلکہ بلیک واچ لسٹ میں پاکستان کا نام ڈالا جائے گا۔

اس دھمکی کے جواب میں فوری رد عمل دیتے ہوئے عوامی جمہوریہ چین کے پاکستان میں تعینات سفیر یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ’’ دنیا پاکستان کے ساتھ غیر جانبداری سے پیش آئے۔‘‘ ۔۔۔جبکہ اسی روز چین کے محکمہ خارجہ نے یہ بیان جاری کیا ہے کہ’’تنقید اور تعصب کی بجائے غیر جانبداری کے ساتھ پاکستان کی مثبت کاوشوں کا موازنہ کیا جائے۔

‘‘اسی انداز اور اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے ترکی کے محکمہ خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ ’’ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی لازوال قربانیوں کو فراموش کیا گیا تو آئندہ کوئی ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ بننے کو تیار نہیں ہوگا ۔

‘‘ چین اور ترکی جیسے دوست ممالک کی طرف سے مکمل تعاون اور ساتھ دینے کے ان کھلے بیانات کے بعد اگر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک واچ لسٹ میں ڈالنے کی امریکی دھمکی کو سیدھے الفاظ میں گیدڑ بھبکی کہا جائے تو بالکل غلط نہیں ہوگا۔

یہ بات شائد امریکا تسلیم نہیں کر پا رہا ہے کہ پاکستان کی حیثیت اورعالمی منظر نامہ کافی حد تک بدل چکا ہے اور جس پاکستان کے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو ایک فون کال پر اس نے ڈھیر کر لیا تھا اب وہی پاکستان تمام ترداخلی و خارجی مشکلات کے باوجود اسے ایک بار نہیں متعدد بار’ ڈو مور‘ کے جواب میں’ نومور‘ کا ٹھینگا دکھا چکا ہے۔

امریکا کے خلاف پاکستان کو ملنے والی اس ہمت اور استقامت کا بڑا کریڈٹ میاں محمد نواز شریف ، موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ا ور سابقہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو جاتا ہے۔

آج اگر چین ، ترکی ، یمن ، ملائشیاء، انڈونیشیاء ،سعودی عرب اور متعدددیگر ممالک پاکستان کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں تو اس میں میاں نواز شریف کی خارجہ پالیسی ، سفارتی کاوشوں اور ان ممالک کے سربراہان حکومت کے ساتھ میاں نواز شریف کے ذاتی تعلقات کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں!جس طرح 1998ء میں میاں نواز شریف پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے لئے امریکا کا شدید ترین پریشر تھا اس سے کہیں زیادہ پریشرمیاں نواز شریف پر سی پیک سے دست بردار ہونے کے لئے ڈالا گیا ۔ امریکا کسی بھی قیمت پر پاک چین تعلقات اور ان دونوں ممالک کے درمیان سی پیک منصوبہ کو زوال پذیر دیکھنا چاہتا تھا۔

اس کے لئے 2014ء میں عمران خان اور طاہر القادری کو صرف اس لئے اسلام آباد میں دھرنا دلوایا گیا تھا کہ چینی صدر کا دورۂ پاکستان منسوخ ہو اور سی پیک کے معاملات آگے نہ بڑھ سکیں، لیکن 126دن کے دھرنے اور امریکا کی طرف سے تسلسل کے ساتھ ملنے والی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میاں نواز شریف نے سی پیک منصوبہ کو جاری رکھا ۔

تمام تر امریکی رکاوٹوں اورانتشاری حربوں کے باوجود عوامی جمہوریہ چین کی اعلیٰ قیادت نہ صرف پاکستان تشریف لائی بلکہ اربوں ڈالر کے منصوبے بھی آغاز ہوگئے۔آج سی پیک کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتے پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

اس ضمن میں پاک فوج کی قیادت کا بھی بلاشبہ پاکستان کو مضبوط اور توانا بنانے میں پورا حصہ ہے کہ دھرنا پالیٹکس ، لانگ مارچوں ، غیر مہذب احتجاجوں، اخلاقیات سے گرے ہوئے جلسوں،جلوسوں اور لاک ڈاؤن کے دوران پاک آرمی کے سابق چیف جنرل راحیل شریف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نہ صرف پوری مستعدی سے اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں نبھاتے رہے بلکہ اس دوران جمہوریت پر شپ خون مارنے کے کئی ’’ موزوں مواقع ‘‘ ملنے کے باوجود آئین ، جمہوریت اور ملک وقوم کے ساتھ پورے قد کے ساتھ کھڑے رہے۔

اس زمینی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج پاک چین دوستی میاں نواز شریف کے وژن کی وجہ سے اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ اگر امریکا پاکستان کو گرے یا بلیک واچ لسٹ میں ڈالنے کی حماقت کر بھی لیتا ہے تو چین اس کے نتیجے میں ہونے والے ہر قسم کے نقصان کو اپنے سر لینے کو بالکل تیار کھڑا ہے۔ اس کے بعد پاکستان تو کسی نہ کسی طرح سنبھل ہی جائے گا، لیکن پھر امریکا کو جنوبی ایشیاء میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے شائد ہی کوئی نعم البدل مل سکے ۔

افغانستان میں امریکا کی موجودگی اور بقاء کا بڑی حد تک دارومدار پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ پر ہے۔ واچ لسٹ میں نام آنے کے بعد پاکستان کو بھی امریکا سے تعلقات منقطع کرنا پڑیں گے جس کے بعدپاکستان کی طرف سے لاجسٹک سپورٹ ختم ہونے کی صورت میں افغان سرزمین کو امریکی فوجیوں کا قبرستان بننے سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔

اس حقیقت کا ادراک ڈونلڈٹرمپ کو نہیں ہو رہا، لیکن امریکا کے تھنک ٹینک اور ٹاپ امریکن انٹیلی جنس ایجنسیز کوپاکستان کے ساتھ تعلقات ختم ہونے کے بعد پیش آنے والے حالات کا اچھی طرح اندازہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ، نیشنل سیکورٹی ایجنسی ، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اور پالیسی تھنک ٹینکس نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالا گیا تو پاکستان مکمل طور پر چین کے زیر اثر چلا جائے گا ، جس سے جنوبی ایشیاء میں امریکی مفادات کو شدیداور ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔ساتھ ہی ان اداروں نے پاکستان کے لئے ٹرمپ انتظامیہ کے کولیشن سپورٹ فنڈ برائے انسدادِ دہشت گردی کو معطل کرنے کے اقدام کو بھی عاقبت نا اندیشی قرار دیتے ہوئے اسے بحال کرنے کی سفارش کی ہے۔

امریکا کے ان حساس اداروں کی رپورٹ میںیہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کے پاکستان کے اندر سی پیک کی وجہ سے اسٹیک بہت ہائی ہیں جس کی وجہ سے اگر امریکا نے پاکستان کے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی تو چین پاکستان کے دفاع کے لئے بڑے سے بڑا اقدام اٹھانے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔

حساس اداروں کی طرف سے مشترکہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو دی جانے والی اس تازہ ترین رپورٹ اور اس میں کی گئی سفارشات نے پاکستان کوبلیک واچ لسٹ میں ڈالنے کی امریکی دھمکی کے غبارے سے ہوا نکال کر رکھ دی ہے۔

یہ امر بھی غور طلب ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے خلاف یہ کوئی پہلی دھمکی یا نئی زہر فشانی نہیں ہے بلکہ امریکی صدر نے بر سر اقتدار آتے ہی پاکستان کے خلاف اپنے خبث باطن کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ بھارت کی خوشنودی کے لئے کشمیر میں دراندازی کا الزام پاکستان پر لگا چکے ہیں تو افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی موصوف پاکستان کو ملوث قرار دے چکے ہیں، جبکہ جنوری، 2018ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف ایک انتہائی نامناسب اور شرمناک ٹویٹ بھی کی تھی جس میں پاکستان کے لئے امن کا نہیں ،نفرت، دشمنی، جنگ ،تباہی اور بربادی کا پیغام موجود تھا۔

امریکی صدرکی پاکستان کے خلاف یہ ٹویٹ ایک افسوسناک ، مایوس کن اور نا مناسب ترین حرکت تھی۔ٹرمپ کی انہی سفارتی آداب سے مبرا حرکتوں کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات آخری ہچکیاں لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے خلاف مسلسل مخالفانہ اقدامات اور الزامات کیوں سامنے آرہے ہیں؟

اس سوال کا جائزہ لیا جائے تووجوہات کی فہرست بہت طویل ہے، لیکن حالیہ چند ماہ میں پاکستان کی طرف سے ظاہر ہونے والے کچھ محرکات اہم ہیں۔ امریکا کی ناراضگی کا ایک محرک یہ بنا کہ گزشتہ برس کے وسط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خوش کرنے کے لئے کشمیر میں برسر پیکار کشمیریوں کی سب سے بڑی تنظیم حزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا،لیکن حکومت پاکستان نے نہ صرف اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ مظفرآباد میں حکومت کی طرف سے سید صلاح الدین کا ریڈ کارپٹ استقبال کر کے عملاً بتادیا کہ پاکستان ہر قیمت پر کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ اخلاقی،سیاسی اور سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ناراضگی کا دوسرا محرک شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے کے مطالبہ پر حکومت پاکستان کا صاف انکار بنا۔تیسرا محرک امریکہ کی منشاء کے خلاف عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے پاکستان کی مراجعت اور سی پیک جیسے تاریخ ساز منصوبہ کا آغاز بنا۔

امریکی صدر کی ناراضگی کا چوتھا محرک افغانستان میں 16سال سے جاری لاحاصل جنگ میں امریکی ’’ڈو مور ‘‘ کے جواب میں پاکستان کی طرف سے ’’ نومور ‘‘ کا جواب بنا، جبکہ پانچواں محرک بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے امریکی اعلان کی مخالفت بنا۔ پاکستان نے نہ صرف بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کی مخالفت کی بلکہ ترکی اور یمن کے ساتھ مل کر جنرل اسمبلی میں امریکا کے اس فیصلے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی پیش کی، جس پر ووٹنگ ہوئی تو اس قرارداد کے حق میں 128ووٹ پڑے ،جبکہ مخالفت میں امریکا سمیت صرف 9ووٹ سامنے آئے۔

اقوام متحدہ میں اتنے بڑے مارجن کے ساتھ ناکامی امریکا کے لئے پوری دنیا میں شدید سبکی کا باعث بنی تھی۔ یہ وہ محرکات تھے جن کے بعد امریکی صدرنے پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لئے مختلف حربے اختیار کرنے شروع کر دئیے، ان میں پاکستان کے لئے دہشت گردی کے خلاف طے شدہ کولیشن سپورٹ فنڈ معطل کرنے کے بعد تازہ واردات پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے واچ لسٹ یا بلیک واچ لسٹ میں شامل کرنے کی کاوشیں ہیں۔

ان نازک حالات اور ممکنہ امریکی اقدامات کی روشنی میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی سا لمیت، استحکام، سلامتی، دفاع اور علاقائی و بین الاقوامی کردار کو متعین کرنے کے لئے از سرِ نو مربوط حکمت عملی اور نئی داخلی و خارجی پالیسیاں وضع کی جائیں۔

اپنی معیشت کو اپنے وسائل کی بنیاد پر استوار کرنا ، اس حکمت عملی اور نئی پالیسیوں کا بنیادی نکتہ ہونا چاہئے۔ قومی غیرت ، ملکی وقار اور سلامتی کے امور پر امریکا سمیت کسی ملک کے ساتھ کوئی نرمی یا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔

عالمی برادری میں ایک فعال رکن کی حیثیت سے پاکستان کوامریکا سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ غیر ضروری بگاڑ کی پالیسی نہیں بنانی چاہئے، لیکن اتنی نرمی اور لچک بھی مناسب نہیں کہ کوئی ملک پاکستان کی عزت و سلامتی پر سوالیہ نشان لگانے کی جرأت کر بیٹھے۔

امریکا کے پاکستان مخالف اقدامات کے ردعمل میں سول ملٹری لیڈر شپ کومتحد ہوکر امریکا کو سخت اور دو ٹوک جواب دینا چاہئے۔اس ضمن میں مندرجہ ذیل جواب بروقت، بامعنی ، بامقصد اور تیر بہدف ہوسکتا ہے۔

اس وقت پاکستان کے ساتھ امریکا کے چار معاہدے موجود ہیں ۔ایک معاہدہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں خفیہ معلومات کے تبادلے کا ہے۔ دوسرا کراچی بندر گاہ سے طور خم بارڈر تک لاجسٹک سپورٹ کا ہے۔ تیسرا معاہدہ پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کا ہے۔

امریکا اور پاکستان کے مابین چوتھا معاہدہ سمندری حدود کے استعمال کا ہے، جس کے تحت امریکا کا جنگی بحری بیڑہ ہر وقت پاکستان کی سمندری حدود میں موجود رہتا ہے۔

موجودہ حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ پاکستان کو گرے یا بلیک واچ لسٹ میں ڈالنے کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں دونوں ممالک کے درمیان موجود یہ چاروں معاہدے ختم کرنے کی نہ صرف جوابی دھمکی دی جائے بلکہ ضرورت پڑنے پر ان معاہدوں کو بیک جنبش قلم منسوخ بھی کر دیا جائے۔

مزید : رائے /کالم