کُھلے سگریٹ بیچنا منع ہے

کُھلے سگریٹ بیچنا منع ہے
کُھلے سگریٹ بیچنا منع ہے

  

ہائے رے عشق اچھے خاصے انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ کسی کو چرسی تو کسی کو پاگل کر دیتا ہے کوئی رکشہ چلانے پر مجبور ہو جاتا ہے تو کوئی پان کا رسیا ہو جاتا ہے ۔یہ تو انسان کے انسان سے عشق کی بات ہے ،ادھر ایسے ایسے انسان بھی پائے جاتے ہیں جو انسانی عشق میں ناکامی کے بعد نشوں سے عشق کر بیٹھتے ہیں کوئی سگریٹ پر شعر لکھتا ہے تو کوئی پان پر یہ ایک الگ بحث ہے کہ پان کی اہمیت و تاریخ کیا ہے۔ اس وقت اصل موضوع یہ ہے کہ چند دن پہلے پنجاب فوڈ اٹھارٹی کی جانب سے پان میں استعمال ہونے والی چھالیہ پر پابندی کا عندیہ دیا گیا جس سے پان کے رسیا انسانوں میں کھلبلی سی مچ گئی کیونکہ تین سو روپے کلو میں ملنے والی چھالیہ کو ڈالر کی طرح پر لگ گئے فوڈ اٹھارٹی کی جانب سے مراسلہ موصول ہوتے ہی چھالیہ یک دم تین سو روپے فی کلو سے پینتیس سو روپے فی کلو تک پہنچ گئی جس کے بعد نو سو روپے کلو میں بکنا والا پان کا پتہ پچیس سو روپے کلو تک جا پہنچا جس کے نتیجے میں پان بیچنے والوں نے پان کی قیمت میں ہو شربا اضافہ کر دیا۔

دس روپے میں ملنے والا پان تیس روپے میں ملنے لگا جس کے اثرات پان کھانے والوں پر تو پڑے ہی تھے پان بیچنے والوں کا بھی کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ ساری عمر بناء کوئی ہنر سیکھے پان بیچنے والے پنجاب فوڈ اٹھارٹی کی جانب دیکھنے لگے کے اگر اس کاروبار کو بند کر دیا گیا تو ان کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا

’’پان ہوں بدنام ہوں

منہ میں رکھتے ہی مر جاؤں گا

مگر مرتے مرتے اے صنم

تیرے ہونٹ رنگ جاؤں گا‘‘

ابھی پان شاپ والے اسی تذبذب میں تھے کے وزارت نیشنل ہیلتھ کی جانب سے ایک نوٹیفیکیشن کر دیا گیا کہ ’’ کھلے سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے‘‘ ہائیں ! یہ کیسا نوٹیفیکیشن ہے وزارت نیشنل ہیلتھ اگر یہ مراسلہ جاری کرتی کہ سگریٹ پینا ، بیچنا یا تمباکو کی کاشت کرنا جرم ہے کیونکہ یہ انسانی صحت کے لئے خطرناک ہیں تو بات سمجھ میں آ جاتی کہ وزارت نیشنل ہیلتھ کو انسانی صحت کا خیال ہے مگر یہ عجیب منطق سمجھ سے بالا تر ہے بلکہ ہمیں بھی تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے کہ آخر اس حکم کے پیچھے کیا امر پوشیدہ ہے کہ کھلے سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے مگر پوری سگریٹ کی ڈبی لے کر آپ سارا دن آسانی سے بڑے بڑے کش لگا سکتے ہیں اسی کشمکش کو دور کرنے کے لئے شیدا پان شاپ والے سے بات ہوئی کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے کیوں کھلے سگریٹ بیچنے پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔

شیدے نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بتایا کہ وزارت نیشنل ہیلتھ والے یہ منطق پیش کرتے ہیں کہ کھلے سگریٹ بیچنے سے اٹھارہ سال سے کم عمر افراد سگریٹ پینے کی جانب زیادہ راغب ہوتے ہیں اور روز ایک آدھ سگریٹ پھونک دیتے ہیں جس سے ان کو مستقل سگریٹ پینے کی لت پڑ سکتی ہے جبکہ حکومت کے آرڈیننس کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ بیچنا ویسے ہی ممنوع ہے پھر نا جانے کیوں یہ نیا آرڈیننس بنا دیا گیا ہے کہ کھلے سگریٹ کی جگہ پورا پیکٹ بیچا جائے ۔شیدے کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی یہ سوچ سراسر غریب پان شاپ والوں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کے مترادف ہے کیونکہ نوجوان مل کر ایک پورا پیکٹ خرید لیتے ہیں پھر آپس میں بانٹ کر کش لگاتے ہیں ان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سگریٹ مہنگا پڑ رہا ہے یا سستا بیڑہ غرق تو دکانداروں کا ہو گیا جو سگریٹ کے پیکٹوں کی نسبت کھلے سگریٹ زیادہ بیچ کر اچھی کمائی کر لیتے تھے حکومت کو اگر انسانی صحت کا اتنا ہی خیال ہے تو بڑی بڑی فیکٹریوں پر پابندی لگائی جائے جہاں سگریٹ تیار ہوتے ہیں ۔اُن تمباکو کی فصلوں پر ہل چلائے جہاں سے پیداوار شروع ہوتی ہے ۔ کھلے سگریٹ کی فروخت پر پابندی لگا کر غریبوں کی روزی روٹی پر لات نا مارے نہیں تو عنقریب بہت سے پان شاپ والے فاقہ کشی کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کشیاں کر لیں گے اور ان کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

قارئین کرام یہ تو ایک شیدے پان شاپ والے کی داستان ہے حقیقت میں ایسے کئی شیدے پان شاپ والے ہیں جو اپنے مستقبل کی فکر میں لگے ہوئے ہیں، آل پاکستان سگریٹ پان اینڈ بیوریجزریٹیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق سگریٹ پان کے کاروبار سے تقریباََ سات لاکھ لوگ جُڑے ہوئے ہیں جو کہ آگے مزید تیس لاکھ افراد کے لئے روزگار کا بندوبست کرتے ہیں اس کے علاوہ ملک کو ایک سو پینتیس بلین روپے ٹیکس کی مد میں ملتے ہیں ۔پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ جو کہ پہلے ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور بڑے پیمانے پر تمباکو کی فصل کاشت کرنے والا صوبہ ہے اس پر تمباکو پر پابندی کی بدولت مزید بے روزگاری میں اضافہ ہو گا جس سے مزید دہشت گردی پھیلنے کا اندیشہ ہے کیونکہ جب انسان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تو چارو نا چار اسے اپنا پیٹ پالنے کے لئے غلط کاموں کی جانب راغب ہونا پڑتا ہے ۔

قارئین کرام ،پان کی چھالیہ بند ہونے کے بعد پان شاپ والوں نے مکئی کا سہارا لے لیا ہے۔ پان میں چھالیہ کی جگہ مکئی ڈالی جاتی ہے کاروبار چل رہا ہے مگر آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے اگر پان اور سگریٹ کا کاروبار ختم ہو گیا تو اس پیشے سے جڑے لاکھوں لوگوں کے گھروں کے چولہے کون جلائے گا ؟

’’نا بجھانے کی کوشش کرو زندگی کے چراغ

سگریٹ کی مانند ہوں خود ہی بجھ جاؤں گا‘‘

اگر دوسری جانب حکومت کے اس اقدام کی تعریف بھی کی جائے کہ انسانی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے احسن قدم اٹھایا ہے تو پھر پان چھالیہ سگریٹ کی طرح سب سے پہلے شراب پر پابندی لگائی جائے جو کہ اُم الخبائث ہے، ہوٹلوں میں جو کباب کے ساتھ شراب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں ان پر پابندی لگائی جائے ۔مگر کیسے لگائیں کیونکہ یہ سب امیری نشے ہیں جس میں دھت ہو کر قانون بنانے والے غریبوں کو مزید غریب کرنے کا سوچتے ہیں ۔اسی طرح بسنت کی طرح کرکٹ پر بھی پابندی ہونی چاہئے کیونکہ کرکٹ بھی نشہ ہی ہے جس پر کروڑوں روپے جوا لگایا جاتا ہے۔ جو جیت جائے وہ نشے میں مست ہو کر جشن مناتا ہے اور جو ہار جائے وہ بسا اوقات اپنی زندگی سے بھی ہار جاتا ہے اس کے علاوہ کرکٹ میچ کے دوران شہروں کو بند کر کے لوگوں کو گھروں کو محصور کر دیا جاتا ہے ۔گھنٹوں بھر لوگ سڑکوں پر ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں کئی عورتیں راستے بند ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر بچوں کو جنم دیتی ہیں ، کئی افراد ایمبولینس میں پڑے پڑے راستے میں دم توڑ جاتے ہیں ۔ہر انسان کو یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ابھی بم بلاسٹ ہو جائے گا اور کئی لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور کئی عمر بھر معذوری کا روگ لئے زندہ لاش بن کر آخری سانسیں پوری کریں گے۔

آخر میں ان پالیسی میکروں سے درخواست ہے کہ اگر ان کو انسانی صحت کا اتنا ہی خیال ہے تو ، ملک میں پھیلتی ہوئی فحاشی کی ہوا کو روکا جائے ، ٹی وی چینلز پر بے ہودہ پروگراموں کو بین کیا جائے ، مخلوط نظام تعلیم کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ سگریٹ پان سے ایک جان کا نقصان ہوتا ہے مگر ان خرافات سے پوری ملت کا نقصان ہوتا ہے اور یہ ایسا نقصان ہے کہ شائد سگریٹ پان سے بندہ بچ جائے ان خرافات سے کئی نسلیں بے راہ روی کا شکار ہو کر تباہ و برباد ہو جاتی ہیں ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -