ڈکیت گینگ کی خاتون سربراہ 20سال سے اشتہاری سر کی قیمت والی ملزمہ گرفتار

ڈکیت گینگ کی خاتون سربراہ 20سال سے اشتہاری سر کی قیمت والی ملزمہ گرفتار

تحریر۔ مرزا نعیم الرحمان

گجرات جسے ملک کا بڑا سیاسی ضلع قرار دیا جاتا ہے کے قد آور سیاستدانوں نے نہ صرف ملک گیر شہرت حاصل کی بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کا ایک علیحدہ تشخص ہے موجودہ حکومت نے تبدیلی کے نام پر اقتدار حاصل کیا تو اس تبدیلی کے اثرات گوجرانوالہ ڈویژن پر براہ راست مرتب ہوئے اب تو ہر خاص و عام کی زبان پر ہے کہ امن و امان کے حوالے سے گوجرانوالہ ڈویژن پنجاب کا نمبر ون ڈویژن بن چکا ہے اس کی بنیادی وجہ ایسے ایسے اشتہاری مجرمان کو بیس بیس سال سے روپوش تھے کو گرفتار کیا گیا 1999میں آشنا کے ساتھ ملکر شوہر کو بیدری سے قتل کرنیوالی اشتہاری خاتون کو22سال بعد ہمراہی ملزم سمیت گرفتار کیا گیا مذکورہ اشتہاری خاتون نے کڑیانوالہ کے گاؤں حاجیوالہ کے رہائشی محمد شریف کو قتل کر دیا گیا جس کی نعش گاؤں کے برساتی نالہ سے برآمد ہوئی تھی مقتول کے بھائی کی مدعت میں مقتول کی بیوی ساجدہ بی بی اور اسکے آشنا امتیاز امتیاز عرف گوگا کیخلاف درج کیا گیا مگر ملزمان واردات کے بعد روپوش ہو گئے اور 22سال تک مفروری کی زندگی بسر کرتے رہے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات سید علی محسن نے ایس ایچ او کڑیانوالہ انسپکٹر ملک نذیر کو اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور قتل کے اصل محرکات کو سامنے لانے کا خصوصی ٹاسک دیا جس پرکڑیانوالہ پولیس نے پیشہ وارانہ مہارت اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کی مدد سے اشتہاری ملزمہ کو ٹریس کر کے آزاد کشمیر سے گرفتار کر لیا دوران تفتیش ملزمہ نے انکشاف کیا کہ امتیاز عرف گوگا کے ساتھ اسکے نا جائز مراسم تھے اور وہ اپنے شوہر محمدشریف کو راستے سے ہٹا کر اپنے آشنا سے شادی کرنا چاہتی تھی اس مقصد کیلئے اس نے منصوبہ بندی کے تحت شام کو اس نے اپنے شوہر کے کھانے میں نیند آور گولیا ں ڈال دی جس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیااسکے آشنا امتیاز عرف گوگا نے اپنے ساتھی صابر علی سکنہ سوک کے ہمراہ ملکر محمد شریف کے منہ پر تکیہ رکھ کر اسے ابدی نیند سلا دیا بعد ازاں مقتول کی نعش کو ٹھکانے لگانے کے لئے گھر میں موجودپیٹی میں بند کر کے گدھا گاڑی پر ڈال کر گاؤں سے باہر موجود برساتی نالہ میں گڑھا کھود کر دفن کر دیا اور خود آشنا کیساتھ آزاد کشمیر فرار ہو گئے جہاں دونوں نے شادی کر لی2012میں اس کا دوسرا شوہر امتیاز عرف گو گا انتقال کر گیا تھا اور وہ اپنے بچوں کے ہمراہ آزاد کشمیر میں زندگی بسر کرتی رہی ملزم کے انکشاف پر ہمراہی ملزم صابر علی کو بھی گرفتار کر لیا گیا اسی طرح کام کاج کے بہانے گھروں میں داخل ہو کر ڈکیتیاں کرنیوالی بین الاضلاعی خاتون ڈکیت نعیمہ بی بی پولیس کے ہتھے چڑھ گئی حکومت پنجاب نے اشتہاری خاتون ڈکیت کے سر کی قیمت 4لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی تفصیل کے مطابق سید علی محسن ڈی پی او گجرات نے انتہائی خطرنا ک اشتہاری ملزمہ کی گرفتاری کیلئے تھانہ صدر گجرات پولیس کو ٹاسک دیا جس پر متعلقہ ایس ایچ او نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد اور پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بین الاضلاعی خاتون ڈکیت نعیمہ بی بی کا سراغ لگا کر گرفتار کر لیاملزمہ کا تعلق لاوے والا ٹھٹھہ شرقپور سے ہے وہ گھروں میں کام کاج کے بہانے داخل ہوتی بعد ازاں اپنی مسلح ساتھیوں کو بلا کر اسلحہ کے زور پر گھر کا صفایا کر دیتی لاکھوں روپے مالیت کی ڈکیتیاں کرنے کے بعد روپوش ہو جاتی پولیس کو طویل عرصہ سے ملزمہ کی تلاش تھی ملزم کے خلاف مختلف تھانہ جات میں سنگین نوعیت کے کئی مقدمات درج ہیں ڈی پی او گجرات سید علی محسن کاظمی نے عمدہ کارکردگی پر متعلقہ ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعام سے نوازا یہ کامیابیاں طشتری میں رکھ کر نہیں ملتی اس کے لیے جہد مسلسل کی انمٹ داستان ہوتی ہے کوئی بھی کام مجبوری سے نہیں بلکہ شوق تک پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تو اس میں نہ صرف نکھار پیدا ہو جاتا ہے بلکہ ایک پرسکون اور پر امن معاشرہ بھی وجود میں آتا ہے ماضی میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان اشتہاری مجرمان کو گرفتار نہ کیا جا سکے یہ تبدیلی یونہی نہیں آئی بلکہ طارق عباس قریشی آر پی او گوجرانوالہ جیسا اعلی پولیس کو میسر ہوا ہے جنہوں نے تعینات ہونے کے ساتھ ہی آر پی او دفتر کے دروازے عوام کیلئے کھول دیے کوئی بھی سائل ان سے بغیر کسی سفارش یا چٹ کے اپنے مسئلے کے حل کیلئے رابطہ کر سکتا ہے تو دوسری طرف انہوں نے گوجرانوالہ ڈویژن کی پولیس کو ایک احساس تحفظ بھی فراہم کیا ہے جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی طارق عباس قریشی اس سے قبل اسی ڈویژن کے مختلف اضلاع میں فرائض منصبی ادا کرتے رہے ہیں اور اس علاقے کے مزاج اور کرائم کو بخوبی سمجھتے ہیں یہی ان کا طرہ امتیاز ہے کہ انہوں نے گنجان ترین اور مسائل کا شکار اس ڈویژن کو اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جس کا کوئی تصور ہی کر سکتا ہے ملک کے بڑے سیاسی ضلع گجرات میں حکومت نے پروفیسر سید علی محسن کاظمی جو خوش اخلاقی‘ ایمانداری‘ جذبہ خدمت ‘کرائم فائٹر ‘ منصف مزاج ‘ خوف خدا سے سرشار جیسے تمغے اپنے سینے پر سجائے رکھتے ہیں کو گجرات تعینات کیا تو کسی کے یہ تصور میں بھی نہ تھا کہ وہ سو دن میں سو سے زائد کامیابیاں حاصل کر کے پنجاب پولیس کی ایک نئی تاریخ رقم کرینگے ناممکن کو ممکن کر دینے والے اس درویش صفت ‘ وقت کے ولی پولیس آفیسر نے جب کامیابیوں کا سلسلہ شروع کیا گجرات کے عوام میں احساس تحفظ بھی پیدا ہونا شرو ع ہو گیاسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اس بات پر مبارکباد کے مستحق ہیں جن کے آبائی ضلع میں جرائم کی نرسریاں ختم کر دی گئیں اور ریکارڈ تعداد میں اشتہاری مجرمان گرفتار ہوئے

۔۔۔۔۔۔

مزید : ایڈیشن 1