آج ہر شریف شہری پولیس کے نام سے خوف کھاتا اور نفرت کرتا دکھائی دے رہا ہے !

آج ہر شریف شہری پولیس کے نام سے خوف کھاتا اور نفرت کرتا دکھائی دے رہا ہے !

کرائم سٹوری

تحریر : محمد ارشد شیخ بیوروچیف شیخوپورہ

پاکستان کی بدنصیبی یہ رہی کہ اسے نہ تو قانون بنانے والے ادارے ہی ڈھنگ کے میسر آئے، نہ ہی قانون نافذ کرنیوالے، بلکہ اُلٹا ان دونوں نے گٹھ جوڑ کرکے کتے بلی کا جانگلوسی کھیل کھیلنے کا سمجھوتہ کرلیا، اور ریاست کو عدم تحفظ اور داخلی دہشت گردی کے منہ میں دھکیل دیا۔ اس میں اندرونی مفادات اور بالادستی کا مکروہ کاروبار پنہاں تھا جس نے آج وطن عزیز کو پولیس اسٹیٹ، دہشت گردوں کی جنت، کرہ ارض کا جہنم اور بالخصوص ایک ناکام ریاست کے القاب و خطابات سے نواز رکھا ہے۔ ملکِ خداداد میں پولیس کا کردار انتہائی افسوسناک رہا ہے۔اس کی نمایاں وجہ سیاسی بصیرت سے عاری وہ سیاسی غنڈے ہیں جنھوں نے ہر دور میں طاقت اور جبر کے بل پر پارلیمنٹ پر قبضہ جمائے رکھا اور عوام کے بنیادی حقوق غصب کرکے پاکستانیوں کو کبھی ایک قوم نہیں بننے دیا۔جب پبلک سروس کے ادارے حکومتوں کے تحفظ اور مفاد کے لیے استعمال ہونگے تو ریاست بحرانوں کے جھولے پر جھولے بغیر کیسے رہ سکے گی۔ ہمارے سول سرونٹس کی وابستگی ریاست سے کبھی نہیں رہی بلکہ ہمیشہ ہی سیاست سے رہی ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج پولیس کا ادارہ ناقابلِ ادراک حد تک تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ پولیس نے پاکستان کے معصوم شہریوں کو تختہ مشق بنارکھا ہے اور اس کے اسی شرمناک کردار کی وجہ سے آج ہر شریف شہری اس کے نام سے خوف کھاتا اور نفرت کرتا ہے۔ یہ پولیس کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے کہ معاشرہ بحیثیتِ مجموعی بے پناہ حد تک عدم تحفظ کا شکار ہوچکا ہے۔شہروں، دیہاتوں، جنگلوں اور ویرانوں میں چہار دانگ، جابجاڈاکو، راہزن، چور، موالی اور دیگر ہر طرح کے جرائم کارعناصر آزاد اور بے لگام دندناتے پھرتے ہیں اوراپنی من مانیوں میں مگن پولیس ایسے مجرموں کی بلاجھجک پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے۔ بااثر مجرموں، سیاستدانوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور صنعتکاروں کے ساتھ پولیس کے کارندوں کی بخشیش و تحائف کی روایت اور پولیس افسران کی اپنے ان آقاؤں پر نوازشات کی ثقافت ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے دیسی بھنگڑے کی انگلش بِیٹ پر دیوانہ وار ناچ رہی ہیں۔ ریاست کے تمام پولیس اسٹیشنز تھانیداروں کے ذاتی ڈیروں اور تھوک پرچون کی دکانوں کا روپ دھارچکے ہیں۔وہاں صرف ان ہی کی داد رسی ہوتی ہے جن کی یا تو کوئی بہت بڑی سفارش ہو یا ان کی جیبوں میں نوٹوں کی گڈیاں چمکتی ہوں‘ اس کے بغیر ان دکانوں پر جو بھی جاتا ہے سوائے بے عزتی اور بدسلوکی کے کچھ نہیں پاتا۔یہ وطیرہ بھی پولیس ہی کا ہے کہ مخالف پارٹیوں سے رقم ان ہی مظلوم اورکمزور لوگوں کو چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر کے گھروں سے اٹھالیا جاتا ہے اور ان پرناکردہ جرائم ڈال کر بڑے بڑے خطرناک مقدموں میں پھنسا دیا جاتا ہے جن میں کچھ تو اپنے گھر بار بیچ کر جان بخشی کروالیتے ہیں اور بعض عمر بھر جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، یا پھر پولیس تشدد اور مقابلوں میں ماردیے جاتے ہیں جب کہ اصل مجرموں کو تفتیشوں اور انکوائریوں میں پاک دامن ثابت کرکے قانون کے شکنجوں سے بچا لیا جاتا ہے۔پولیس میں اکثر و بیشتر ناجائز اختیارات استعمال کرنے والوں کی اعلیٰ حکام کی طرف سے حوصلہ افزائی انہیں مزید شیطانیاں کرنے کی طرف راغب کرتی ہے، اور کبھی کبھار معمولی سی ڈانٹ ڈپٹ بھی رسمی طور پر ہوجائے تو ہوجائے۔ آجکل افسرانِ بالا کی اسی طرح کی سرزنش سے بچنے کے لیے کوئی بھی تھانہ ڈکیتی کی ایف آئی آر کاٹنے کو تیار نہیں بلکہ صریحاً ڈکیتی کی وارداتوں کو بھی چھوٹی موٹی چوریوں کی وارداتوں میں تبدیل کردیا جاتا ہے، اور یہی اگر کسی کے خلاف انتقامی کارروائی مطلوب ہو تو معمولی سی چوری کو بھی خطرناک ڈکیتی کا رنگ دیدیا جاتا ہے۔ مقدمات کا اندراج بغیر رشوت کے ممکن نہیں رہا۔ رشوت تو اب پولیس کلچر کا اٹوٹ انگ بن چکی ہے‘ اس لئے پولیس کا ہر چھوٹے سے چھوٹا کارندہ بھی تھانے کے اندر یا تھانے کے باہر، ناکوں پر یا دورانِ گشت لوگوں کو عجیب و غریب طریقوں سے تنگ کرکے ڈیوٹی کرنے کے بجائے منہ مانگی رشوت بٹورنے میں مستغرق رہتا ہے جسے وہ چائے پانی کے نام پراپنا سرکاری حق سمجھتا ہے۔

باہر حال اس بگڑے ہوئے نظام کو درست سمت لے جانا میرے بس کی بات نہیں قارئین کی نظر شیخوپورہ فیصل آباد روڈ پر قائم ،تھانہ مانانوالہ کی حدود میں ہونے والے قتل کی بابت کچھ احوال ،پولیس کارکردگی اور عوامی رد عمل پیش کرنے جا رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ ، کے کسی ذی شعور اور فرض شناس آفیسر کی نظر اس تحریر پر پڑے اور اس مقدمہ میں پھنسائے گئے بے گناہ نوجوان سمیت تھانہ کی حدود میں بسنے والے عوام کی داد رسی ہو سکے واقعات کے مطابق تھانہ مانانوالہ کے گاؤں قلعہ شبدیو سنگھ کے رہائشی طارق علی نے ڈی پی او شیخوپورہ عمران کشور کو ایک تحریری درخواست گزاری ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گاؤں میں رہائش پذیر قریبی عزیز سعید علی ولد کرم دین کی بیوی غلام فاطمہ کی موت کا مقد مہ نمبری 63/19 تھانہ مانانوالہ زیر دفعہ 302 ت پ درج ہے سائل کا کہنا ہے کہ قتل کے اس مقدمہ میں پیش کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل کی تصدیق نہیں کی گئی جبکہ مدعی مقدمہ کی طرف سے درخواست پر قبر کشائی کی گئی جس کے بعد پوسٹ مارٹم کے دوران لاش کے اعضاء لئے گئے جو فرانزک لیب لاہور کو بھیجے گئے جس میں بھی قتل کا کوئی ثبوت یا کوئی کلیئر رپورٹ نہیں دی گئی صرف اتنا لکھا گیا ہے کہ وقوعہ بہت پرانا ہے اب موت کی تصدیق نہیں ہو سکتی سائل کا کہنا تھا کہ قتل جو کہ سنگین ترین جرم اور سخت ترین مقدمہ ہے جس میں کسی بھی بے گناہ کو بغیر کسی ثبوت کے یا صرف ذاتی اعناد یا مخالفت کی بناء پر یا ذاتی طمع نفسانی کی خاطر پھنسا دینا بہت بڑی زیادتی ہے اور یہ زیادتی مدعی مقدمہ پولیس تھانہ مانانوالہ کے ساتھ مل کر ہمارے ساتھ کر رہا ہے پولیس نے مدعی سے ساز باز کر کے غلام فاطمہ جس کی موت ایک سال قبل ہوئی تھی کی موت کی بابت ایک خود ساختہ وقوعہ بنا کر عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کر کے مقدمہ کا اندراج کروایا جبکہ پولیس کے تھانیندارصدی احمد جو کہ ہومی سائیڈ ڈیپاٹمنٹ میں تعینات ہے نے میرے بھائی کو مقدمہ کے اندراج سے پہلے ہی گرفتار کر لیا اور مقدمہ درج ہونے کے بعد بھائی مزمل حسین کو پھنسا کرنا معلوم مقام پر منتقل کرنے کے بعد مزمل حسین کو جعلی پولیس مقابلے میں پارکرنے کی دھمکیاں دی گئیں کہ وہ فاطمہ بی بی کو قتل کرنے کا اقرار کرتے ہوئے اقراری بیان دے ہمارے بھائی مزمل کو مسلسل 20 روز تک بغیر گرفتاری ڈالے غائب رکھ کر ہمارے اوپر پولیس نے حد سے زیادہ زور دیا کہ ہم پولیس اور مدعی پارٹی کو بھاری رقم ادا کریں نہیں تو پولیس ہمارا نقصان کرے گی اس طارق کا کہنا تھا کہ مدعی کی طرف سے مقدمہ میں میرے بھائی پر من گھڑت الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مدعی کی بہو (ص) بی بی سے رات کے وقت زیادتی کرنے آیا تھا کہ اس دوران متوفیہ غلام فاطمہ نیند سے جاگ گئی جسے مزمل حسین نے تکیہ منہ پر رکھ کر گلا گھونٹ کر مار دیا مگر یہ مقدمہ ایک طرف تو دس مہینے بعد درج ہوا وہ بھی عدالت میں رٹ پٹیشن کے بعد ، اور لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی قتل ثابت نہیں ہو پا رہا ڈی ایس پی صفدر آباد ضیاء اللہ خان اور تفتیشی آفیسر ہومی سائیڈ ڈیپارٹمنٹ رائے صدی احمد مدعی پارٹی جو کہ بااثر ہے سے مبینہ طورپر ساز باز کر کے زور زبردستی سے اس مقدمہ میں ہمارے بھائی کو پھنسا ئے ہوئے ہے اس حوالہ سے معززین کو کہنا تھا کہ عمران خان نیا پاکستان بنانے کی کوشش میں ہیں مگر پولیس کلچر تو وہی پرانا ہے ، جس میں عوام کے لئے انصاف کا حصول ایک خواب بن کر رہ گیا ہے لوگوں کا کہنا تھا کہ مانانوالہ پولیسں کے سب انسپکٹر مظہر نے مقدمہ درج ہونے سے دو دن قبل ہی مقدمہ مدعی سعید سے ملکر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر کی دیواروں کو پھلانگ کر مزمل حسین کو گرفتار کیا اور اس دوران ا ہل خانہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر کے دروازے اور دیگر قیمتی اشیاء بھی توڑ دی گئیں معززین کا یہ بھی کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ سعید کی درخواست پرقبر کشائی بھی ہوئی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی ہوا جس میں قتل کی تصدیق ہی نہیں کی گئی ،پی ایف ایس رپورٹ نے بھی قتل کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کی ہے۔اس کے باوجود 20 دن تک پولیسں مقابلہ میں پار کرنے کی دھمکیاں دے کر ڈی ایس پی سرکل صفدر آباد ضیاء اللہ خان کی آشیرباد آباد سے ہومی سائیڈ انچارج تفتیشی سب انسپکٹر صدی احمد نے قتل جیسے سنگین نوعیت کے مقدمہ میں بے گناہ مزمل حسین کی گرفتاری ڈال کر بہت زیادہ زیادتی کی ہے

لوگوں کایہ بھی کہنا تھا کہ مدعی کی طرف سے عدالت میں کی جانے والی رٹ پٹیشن برائے اندراج مقدمہ میں پولیس نے مزمل حسین کا موقف سنے بغیر ہی یہ لکھ دیا کہ اس کا باپ معافی مانگ رہا ہے حالانکہ کے مزمل حسین کا باپ عرصہ دراز پہلے وفات پا چکا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمہ مدعی سعید کی بیوی غلام فاطمہ کی موت کو قتل نہ قرار دے کیونکہ یہ قتل ہے ہی نہیں ہے۔معززین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقدمہ ھذا کے تفتیشی رائے صدی احمد سب انسپکٹر ہومی سایئڈ نے من مرضی کی تفتیش کرتے ہوئے انصاف کے تمام تقاضے بلڈوز کردیئے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب ، آئی پنجاب پولیس ، آر پی او ریجن ، اور ڈی پی او شیخوپورہ عمران کشور کو چایئے کہ بے گناہ مزمل حسین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس مقدمہ کی تفتیش کو کسی ایماندار پولیس آفیسر سے کرواتے ہوئے تفتیشی سب انسپکٹر صدی احمد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور اس مقدمہ کو خارج کیا جائے اس حوالہ سے مدعی مقدمہ سعید احمد سے اس کے موبائل فون نمبر 0313,6308412 پر رابطہ کیا گیا مگر مدعی مقدمہ نے حقائق بیان کرنے کی بجائے صرف یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ وہ ابھی مصروف ہے بعد میں فون کر کے حقائق بیان کر دے گا

راقم الحروف کی ذاتی رائے ہے کہ تھانہ کلچر اور پولیس کی مجموعی خرابی کے ذمے دار وہ اعلیٰ افسران ہیں جو ماتحت افسروں کی غیر قانونی کارروائیوں اور خلافِ میرٹ کوتاہیوں کو بدستورنظر انداز کرتے اور ان پر دانستہ طورپر چشم پوشیوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔کسی بھی نظام کے بگاڑ یا سدھار کے ذمے دار اس کے اوپر والے اور کرتا دھرتا ہوتے ہیں۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ ہمارے ہاں، محنتی و مثبت سوچ کے حامل قابل اور ایماندار اعلیٰ افسران بہت کم ہیں جو کڑے احتساب کا نظام رائج کرکے نچلی سطح کے کرپٹ اور غیر انسانی کرداروں کو راہ راست پر لاسکیں۔دعا ہے کہ کوئی فرض شناس پولیس آفیسر تھانہ مانانوالہ میں تعینات ہو جو پولیس ملازمین کا قبلہ درست کرنے میں مدد کار ثابت ہو، تاکہ علاقہ کے عوام کو جانی و مالی تحفظ میسر آ سکے

مزید : ایڈیشن 1