سرحد پر جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کی تنصیب

سرحد پر جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کی تنصیب

پاکستان نے پاک بھارت سرحد پر اپنی فضائی اور زمینی حدود کی حفاظت کے لئے نیا ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کر دیا ہے یہ سسٹم چینی ساختہ ہے جس میں کم رینج والے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل، نگرانی کرنے والے ریڈار اور ڈرون شامل ہیں، دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لئے سرحدوں پر زمین سے ہوا میں مار کرنے والے ایل وائے 80 میزائل اور آئی بی آئی 150 ریڈار کے پانچ یونٹ اور ڈرون بھی نصب کر دیئے گئے ہیں، بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کو روکنے کے لئے یہ نیا سسٹم نصب کیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے واقعہ کے بعد بھارت کی قیادت نے جس طرح پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہوئے بالا کوٹ میں حملے کے لئے اپنے طیارے بھیج دیئے تھے جو جنگل میں بم گرا کر واپس گئے تو پاکستان نے بھی اگلے روز بعض اہداف کو نشانہ بنایا اور دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک کا ملبہ پاکستان میں گرا اور اس کا پائلٹ زخمی حالت میں گرفتار بھی ہوا یہ تو بھارتی حملے کا فوری جواب تھا لیکن اس عرصے میں مسلسل ایسی اطلاعات ملتی رہیں کہ بھارت نے پاکستان پر میزائل حملے کی تیاریاں مکمل کرلی تھیں جن کا مقصد پاکستان کے شہروں کو میزائلوں کا نشانہ بنانا تھا، ان اطلاعات پر پاکستان نے بھی جوابی اہداف کا تعین کر لیا تھا اور انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ہی بڑی طاقتیں امریکہ، روس اور چین متحرک ہوئی تھیں، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے غیر معمولی سفارتی سرگرمیوں اور مسلسل رابطوں کے ذریعے کشیدگی کی سطح کم کرانے میں کامیابی حاصل کی، ایسی اطلاعات بھی موجود ہیں کہ چین کی کوششوں کے نتیجے میں روسی صدر پیوٹن اور وزیر خارجہ نے بھی کشیدگی ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

دنیا کو تشویش اس وقت پیدا ہوئی تھی جب بھارت کے ہوائی حملے کے جواب میں پاکستان ایئر فورس نے بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے تھے اور نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے تھے بلکہ آئندہ کے لئے بھی یہ پیغام دے دیا تھا کہ اگر کوئی ایسی حرکت ہو گی تو وقت ضائع کئے بغیر فوری جواب دیا جائے گا۔ بھارت نے اگر پاکستان پر میزائل حملے کی تیاری کرلی تھی تو پاکستان بھی اس سے نہ تو بے خبر تھا اور نہ ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا تھا۔ اس طرح کشیدگی بڑھ کر جنگ کی شکل اختیار کرتی یا اس کا دائرہ پھیل کر کیا رخ اختیار کرتا اس سے دنیا کی بڑی طاقتیں بے خبر نہ تھیں چنانچہ انہوں نے سفارتی مہارتوں کا فوری اور تیز تر استعمال کر کے اس کشیدگی کو کم کرانے میں کامیابی حاصل کر لی، روس نے تو ثالثی کی پیش کش بھی کر دی تھی جو پاکستان نے قبول کر کے روس کو اس سلسلے میں مزید اقدامات کے لئے کہہ دیا تھا لیکن بھارت نے حسب سابق ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پیش کش بھی مسترد کر دی ۔

روس عشروں تک بھارت کا حلیف رہا ہے اگرچہ اب بھی ہے لیکن کچھ برسوں سے روسی قیادت کو درست طور پر یہ ادراک ہو گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے اور اس سلسلے میں بھارتی الزام تراشیوں کی کوئی حقیقت نہیں پھر روسی افواج نے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ مشقیں کی ہیں جن کا مقصد بھی دہشت گردی کا مقابلہ تھا یہی وجہ ہے کہ روس کو جب ’’عین الیقین‘‘ ہو گیا کہ پاکستان کی ریاست کسی طرح دہشت گردی میں ملوث نہیں تو روسی مندوب نے امرتسر کی ایک عالمی کانفرنس میں وزیر اعظم مودی کے اس الزام کا ترکی بہ ترکی جواب دے دیا کہ پاکستان پر یہ الزام درست نہیں بیٹھتا اور روس اس کا عینی شاہد ہے کہ اس کی فوجوں نے پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مشقیں کی ہیں اور خود مشاہدہ کیا ہے کہ پاکستان دہشت گرد نہیں، دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے، اس پر مودی کھسیانے ہو گئے اور ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا محض یہ کہنے پر اتفاق کیا ’’پرانے دوست، نئے دوستوں سے اچھے ہوتے ہیں۔‘‘

بھارت عشروں تک روسی اسلحے پر انحصار کرتا رہا جبکہ روس نے پاکستان کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی جو کئی سال پہلے اٹھالی گئی ہے اور پاکستان روسی ہیلی کاپٹروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے بدلے ہوئے حالات میں روس اور پاکستان کے تعلقات میں ایک مثبت تبدیلی بھی آئی ہے اس دوران پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بن چکا ہے جس کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ رکن ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر ہوں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی راہ اپنائیں۔ بھارت بھی اس کا رکن ہے اس تناظر میں امریکہ کے ساتھ ساتھ روس نے بھی کشیدگی میں کمی کے لئے بنیادی کردار ادا کیا لیکن بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اب بھی سامنے آتے رہتے ہیں، پاکستان پر ایٹمی حملے کی بڑھکیں بھی لگائی جاتی ہیں اور اس سلسلے میں بھارت کی حکومت کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں، یہاں تک کہ جرنیلوں کی دھمکیاں بھی ڈھکی چھپی نہیں ان حالات میں پاکستان اگر اپنے دفاع کے لئے اقدامات کر رہا ہے تو یہ عین وقت کی ضرورت اور حالات کا تقاضا ہے کیونکہ دفاعِ وطن ایسی چیز نہیں جس کو محض حالات کے سپرد کر کے مطمئن ہو کر بیٹھ جایا جائے اس کے لئے ہر وقت متحرک، باخبر اور تیار رہنا ضروری ہے۔

23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی دفاعی تیاریوں کے ضمن میں جو مظاہرے کئے ان کا پیغام بھی یہی تھا کہ’’ ہم ہر گھڑی تیار ہیں۔‘‘ سرحدوں پر جدید میزائلوں راڈاروں اور ڈرونوں پر مشتمل ائر ڈیفنس سسٹم کی تنصیب بھی ایسی ہی تیاریوں کا ایک زندہ سلامت اظہار اور افواج کے جذبۂ سرفروشی کا عملی مظہر ہے۔ وزیر اعظم مودی سے بعید نہیں کہ وہ الیکشن جیتنے کے لئے کوئی بھی حماقت کر دیں اگرچہ پھر بھی انتخابی کامیابی تو یقینی نہیں لیکن ہار کا خوف بھی ان سے غلط فیصلے کروا سکتا ہے اس لئے پاکستان کو ہر وقت ان کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملی پر نظر رکھنا ہو گی اگرچہ مودی نے یوم پاکستان پر مبارکباد کا پیغام بھیج دیا تھا جو ایک روایتی ڈپلومیٹک بیان سے زیادہ کچھ نہیں اگرچہ ایسے رسمی بیانات کے جواب کی چنداں ضرورت تو نہیں ہوتی لیکن وزیر اعظم عمران خان نے پھر بھی اس کے جواب میں ٹویٹ کر دیا اور ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے ڈالی جو بے کار مشق ہی ثابت ہو گی بھارت کا حقیقی جواب در اصل وہ ہے جو سرحدوں پر میزائلوں کی تنصیب کے ذریعے دیا گیا ہے باقی سب لیپا پوتی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ