بہاولپور جیسے واقعات کیسے رکیں گے؟

بہاولپور جیسے واقعات کیسے رکیں گے؟
بہاولپور جیسے واقعات کیسے رکیں گے؟

  


اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ انتہا پسندی ہے۔ یہ انتہا پسندی کیا ہے اور کیسے جنم لیتی ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ یوں تو کوئی بھی انسان کبھی کسی بھی مسئلے پر انتہا تک جا سکتا ہے، لیکن ابھی تک دنیا میں انتہا پسندی کا منبع مذہب کی جھیل سے ہی نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس زمین کا پہلا قتل بھی مذہبی انتہا پسندی کے سبب ہوا اور اس سلسلے کی کڑی کا آخری( آخری نہیں بلکہ ابھی تک آخری) قتل بھی 20 مارچ کو گورنمنٹ کالج بہاولپور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر خالد حمید کا ہوا ہے، جو ان ہی کے اپنے شاگرد نے کیا ہے۔ ابھی لوگ نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے خوف اور دکھ سے نہیں نکلے تھے کہ بہاولپور کا سانحہ پیش آگیا۔

ہم لاکھ کہیں کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا تعلق جہالت سے ہے، لیکن انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی بھاری اکثریت پڑھی لکھی اور تعلیم یافتہ ہے۔ کم از کم ہمارے ہاں دہشت گردی میں ملوث تمام لوگوں کو ہم تعلیم یافتہ ہی کہیں گے۔

پاکستان اور مسلم ممالک سے باہر بھی جہاں جہاں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، ان میں بھی کوئی ناخواندہ یا نیم خواندہ شخص ملوث نہیں پایا گیا، بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں نے ہی یہ کارنامے انجام دیئے ہیں۔

20 جولائی 2011ء کو ناروے میں دہشت گردی کی واردات ہو یا 15 مارچ 2019ء میں کرائسٹ چرچ میں قیامت صغریٰ برپا کرنے والا درندہ ہو، سب پڑھے لکھے لوگ ہیں اور پوری طرح منصوبہ بندی کے ساتھ یہ مظالم ڈھائے گئے ہیں، مگر ان تمام واقعات کی قدر مشترک یہ ہے کہ یہ مذہبی انتہا پسندی اور مذہبی منافرت کے زیر اثر رونما ہوئے ہیں۔ البتہ خواندہ اور نیم خواندہ قوموں کا فرق ضرور سامنے آیا ہے۔

ناروے میں جو دہشت گردی ہوئی اور جس کے نتیجے میں 77 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، جن میں بھاری اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ اس کے بعد ایک طرف حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں نے نہ صرف اس دہشت گردی کی پُرزور مذمت کی، بلکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی سمیت کئی اقدامات اٹھائے گئے۔ حکومت اور تمام عوام دہشت گردی کے مخالف ایک صفحہ پر تھے۔

جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں اب بھی ایک پتھر پر یہ الفاظ تحریر ہیں کہ اگر ایک شخص اس قدر نفرت کا اظہار کر سکتا ہے تو سوچو ہم سب مل کر کتنی محبت بانٹ سکتے ہیں؟۔۔۔ ابھی حال ہی میں نیوزی لینڈ میں جو دہشت پھیلائی گئی، اس کے بعد وزیراعظم سمیت پوری قوم نے اس دہشت گرد کو اپنا کہنا تو درکنار اس کا نام تک لینا پسند نہیں کیا۔ اس کو صرف انتہا پسند اور دہشت گرد کہہ کر پکارا گیا۔ مسجد اور مسلمانوں کو اپنا کہا گیا اور ان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے مظاہر دیکھنے میں آئے۔ پارلیمنٹ کا مذمتی اور تعزیتی اجلاس ہوا ،جس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔

وزیراعظم نے اپنا خطاب السلام علیکم کہہ کر شروع کیا۔ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے اسلامی لباس زیب تن کر کے دہشت گردی کا شکار ہونے والے متاثرین سے ملاقاتیں کیں اور ان کو گلے لگایا۔ جمعہ کی اذان ریڈیو اور ٹی وی سے نشر کرنے کا حکم دیا گیا۔ نیوزی لینڈ کے مذہب کے لئے کوئی خطرہ پیدا ہوا، نہ کسی نے مذہبی انتہا پسندی کا ساتھ دیا۔

ادھر پاکستان میں جب طالبان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، اور آئے روز دھماکے اور قتل و غارت کا بازار گرم تھا، اس وقت ہمارے کئی مذہبی و سیاسی راہنما طالبان کو اپنا کہہ کر ان سے مذاکرات کرنے پر زور دیتے رہے اور ان کی دہشت گردی کے جواز تراشنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ بعض کے خیال میں تو طالبان کے خلاف کارروائی سے اپنا دین بھی خطرے میں نظر آنے لگتا تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ سے سزا پانے والے مجرموں سے بھی ہمدردی کی گئی۔ مشعال کے قتل میں ملوث 61 لوگوں میں سے صرف 4 لوگوں پر مقدمہ چلا، جن میں سے صرف دو کو سزا سنائی گئی ہے، صرف ایک کو عمر قید ہوئی، جبکہ دو کو باعزت بری کر دیا گیا ہے۔

ادھر بہاولپور میں پروفیسر خالد حمید کے قتل کے خلاف کوئی مذمتی قرارداد پیش یا منظور کی گئی، نہ ہی اس قتل کے محرکات کی تحقیق کی گئی۔ الٹا مقتول کے والد اور اس کے خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا تعلق ناخواندگی سے نہیں، بلکہ مخصوص سوچ سے ہے۔ انتہا پسندی وہاں سے شروع ہوتی ہے، جہاں سے دلیل ختم ہوتی ہے۔

جس معاشرے میں تنقیدی شعور پر پہرے ہوں اور سوال کرنا جرم ہو، جہاں ذہنوں پر مخصوص سوچ سوار ہو اور دوسروں کی بات سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ نہ ہو، وہاں پھر منافقت اور انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے۔

محدود سوچ کے حامل دماغ آسانی سے انتہا پسندی کی جانب مائل ہو جاتے ہیں پھر بات بات پر ہمارے دین اور ہماری تہذیب کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ جب تک ہمارے تعلیمی اداروں میں تنقیدی شعور اور تحقیق کو فروغ نہیں دیا جائے گا، اس وقت تک بہاولپور جیسے واقعات کی روک تھام نہیں ہو سکے گی، کیونکہ گندم بو کر چاول کی فصل نہیں کاٹی جا سکتی۔

مزید : رائے /کالم