کسی تحریک سے احتساب رکنے والا نہیں

کسی تحریک سے احتساب رکنے والا نہیں
کسی تحریک سے احتساب رکنے والا نہیں

  

پیپلزپارٹی لگتا ہے اب تخت یا تختہ کی پوزیشن میں آ چکی ہے، باقی سب راستے اس کے لئے بند ہو چکے ہیں اور وہ احتجاج کا راستہ اختیار کر کے اس مشکل صورتِ حال سے نکلنا چاہتی ہے۔ ٹرین مارچ کے لئے اس کی تیاریاں اپنی جگہ، تاہم سوال یہ ہے کہ اس سارے احتجاج کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟۔۔۔ وہ ایجنڈا جس کا عوام سے بھی کوئی براہ راست تعلق بنتا ہو، ایک ایسے موقع پر جب بچے بچے کو معلوم ہے کہ جعلی اکاؤٹنس کیس آصف علی زرداری، فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرداری کے بری طرح گلے پڑ چکا ہے اور انہیں جان چھڑانے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، پیپلزپارٹی نے احتجاجی مارچ کی کال دے دی ہے، کیا عوام اس لئے اس مارچ میں شامل ہوں گے کہ نیب ان کے خلاف کارروائیاں روک دے، کیا ایسا ممکن ہے اس مارچ کی وجہ سے وہ ریلیف مل جائے جس کی پیپلزپارٹی خواہش کر رہی ہے؟ مجھے تو ڈر ہے کہیں یہ مارچ بری طرح پٹ نہ جائے اور اب پیپلزپارٹی یا بلاول بھٹو زرداری کی مقبولیت کا جو بھرم قائم ہے، وہ سرِ بازار چکنا چور نہ ہو جائے۔

ابھی تو یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ پیپلزپارٹی اسلام آباد میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی کے موقع پر پانچ سو افراد اکٹھے نہیں کر سکی، اب اگر یہ ٹرین مارچ بھی عوام کی توجہ حاصل نہ کر سکا تو کیا ہو گا؟ پیپلزپارٹی کی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس موقع پر جس طرح پولیس والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، وہ ان کی مایوسی کی علامت ہے، کیونکہ جھنجھلاہٹ میں آدمی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔

کیا اس وقت کسی تحریک یا لانگ مارچ کے لئے حالات ساز گار ہیں؟ کم از کم میری رائے تو یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔۔۔ عوام مہنگائی کی زد میں ہیں، مشکلات کا شکار ہیں، مگر ان کی امید نہیں ٹوٹی اور وہ ابھی تک عمران خان سے اچھے کی امید لگائے بیٹھے ہیں، پھر سندھ کے حوالے سے کرپشن کی جو ہوشربا داستانیں سامنے آئی ہیں اور اربوں، کھربوں روپے کے جعلی اکاؤنٹس غریبوں کے ناموں پر نکلے ہیں، ان کی وجہ سے عوام اب ان باتوں میں نہیں آ رہے، جو سیاسی انتقام یا سندھ کو نشانہ بنانے کے نام پر کی جاتی ہیں۔

جھنجھلاہٹ کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ روز سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی نیب راولپنڈی میں پیشی کے موقع پر قمرزمان کائرہ جیسے ٹھنڈے مزاج کے آدمی کا پارہ بھی گرم نظر آیا اور وہ بلاوجہ میڈیا پر چڑھ دوڑے کہ وہ پیپلزپارٹی کا میڈیا ٹرائل کر رہا ہے۔۔۔ یعنی میڈیا اگر حقیقت بھی دکھائے تو اسے میڈیا ٹرائل کا نام دیا جا رہا ہے۔

سب کچھ تو نیب کر رہا ہے اور نزلہ پیپلزپارٹی کبھی حکومت اور کبھی میڈیا پر گرا رہی ہے، یہ تو ایسا ہی ہے کہ سوال گندم جواب جو، پیپلزپارٹی پہلے کبھی اتنی مایوس نظر نہیں آئی، جتنی آج ہے۔

یہ اس کی حد سے بڑھی ہوئی مایوسی ہی ہے کہ وہ زمینی حقائق کے برعکس سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اختیار کر رہی ہے، حالانکہ پارلیمنٹ بھی موجود ہے اور عدالتیں بھی کھلی ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس کا کیس پچھلے کئی ماہ سے چل رہا ہے، لیکن عدالتوں کے حکم امتناعی کی وجہ سے ابھی تک کسی بڑے کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، جس کا مطلب ہے حالات ایسے جبر والے نہیں، جس کا تذکرہ یا واویلا پیپلزپارٹی کے رہنما کر رہے ہیں۔

سیاست میں جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ ہمیشہ نقصان پہنچاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی باتوں سے بھی صاف لگ رہا ہے کہ حالات سے پریشان ہو گئے ہیں۔ انہیں کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ اصل ایشو کو بھول کر وہ جس بیانیہ کو اختیار کر چکے ہیں، وہ انہیں سیاسی طورپر نقصان پہنچا رہا ہے۔

ان کے اس بیان پر تو ان کے حامی بھی چپ سادھ کر بیٹھ گئے ہیں کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو حکومت نے اس لئے حفاظتی تحویل میں لیا ہے، تاکہ انڈین بمبار جہاز ان پر حملہ نہ کر دیں۔ اب کوئی تھوڑی سی عقل و فہم رکھنے والا بھی اس بیان کی حماقت کو آسانی سے محسوس کر سکتا ہے۔ مثلاً یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کی چوکس فضائیہ کے ہوتے ہوئے بھارتی جہاز اپنے اہداف تک پہنچ جائیں؟۔۔۔ جس ملک میں بھارت کے دو جنگی طیاروں کو صرف چند گز بارڈر کی خلاف ورزی پر مار گرایا گیا ہو، وہاں کیا ایسا ممکن ہے کہ بھارت کے جہاز گھروں میں بیٹھے کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو نشانہ بنا سکیں اور حکومت نے اس خوف سے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا ہو؟ اب کوئی بلاول بھٹو زرداری سے پوچھے کہ اس بیانیہ سے پاکستانی عوام کی حمایت انہیں کیسے مل سکتی ہے؟ اگر ان کا مقصد پاکستانیوں کی حمایت حاصل کرنا نہیں تھا تو پھر انہوں نے یہ بیان کسے خوش کرنے کے لئے دیا۔

حیرت ہوتی ہے کہ پیپلزپارٹی کے سینئر اور منجھے ہوئے سیاستدان بھی اپنے نوآموز چیئرمین کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، انہیں اس مشق میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں، اس کا اندازہ قمر زماں کائرہ کی اس جھنجھلاہٹ سے لگایا جا سکتاہے جو انہوں نے میڈیا کے بارے میں کہی اور اپنے چیئرمین کو کوئی مشورہ دینے کی بجائے یہ کہا کہ ہمارا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ٹرائل کیوں نہ ہو؟ جب بھارت کا میڈیا بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر بریکنگ نیوز چلائے اور وہاں اس پر ٹاک شوز ہوں، جن میں یہ دلیل دی جائے کہ اب تو بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس امر کی تائید کر دی ہے کہ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے بارے میں کچھ نہیں کیا جا رہا اور صرف دکھاوے کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تو کیا پاکستانی میڈیا خاموش بیٹھ کر ان کی یہ باتیں سنتا رہے، کیا بلاول کے بیان کی تردید نہ کرے؟ یہ نہ کہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ کہنا درست نہیں کہ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو اس خوف سے نظر بند کیا گیا ہے کہ بھارت انہیں حملہ کرکے مار نہ دے۔

سیاسی حالات ایسے نہیں کہ سڑکوں پر احتجاج کے آپشن کو استعمال کرکے کوئی مقصد حاصل کیا جا سکے۔ صرف حکومت مخالف ایجنڈا کوئی معنی نہیں رکھتا، تاوقتیکہ اس کے پیچھے کوئی مضبوط جواز نہ ہو۔ حکومت ہر تحریک کے جواب میں صرف اتنا ہی کہے گی کہ احتساب ہو رہا ہے، اس لئے احتجاج ہو رہا ہے، احتساب ختم ہو جائے، احتجاج ختم ہو جائے گا، لیکن کیا ایسا کرنا ملک کے مفاد میں ہوگا۔ ظاہر ہے اس وقت کم از کم اس نکتے پر قومی اتفاق رائے موجود ہے کہ جس نے ملک لوٹا ہے، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

احتساب کے نکتے پر اگر احتجاجی تحریک چل سکتی تو آج نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں نہ پڑے ہوتے۔ ان کی جماعت اس طرح عضو معطل بن کر نہ رہ جاتی۔ ہر تحریک کے پیچھے کوئی اخلاقی و سیاسی جواز ضرور موجود ہوتا ہے۔

آج بلاول بھٹو زرداری جو تحریک چلانا چاہتے ہیں، ان کے پیچھے اخلاقی جواز کیا ہے؟ ہاں وہ عدالتوں سے سرخرو ہو کر آ جائیں تو ان کے اس بیانیہ کو قبولیت ملے گی کہ انہیں انتقاماً احتساب کے نام پر نشانہ بنایا گیا،ہم تو بے گناہ تھے، عدالتوں نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔

اس سے پہلے جو بھی شور شرابا یا احتجاج ہو گا، وہ احتساب سے بچنے کا ایک حربہ ہی سمجھا جائے گا اور ایسے کسی حربے کو فی الوقت کوئی عوامی پذیرائی ملتی نظر نہیں آتی۔ پیپلزپارٹی ایک بہت بڑا جوا کھیلنے جا رہی ہے۔

اس کی یہ کوشش ہے کہ عوامی دباؤ اس قدر بڑھا دیا جائے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پیپلزپارٹی کے خلاف جاری احتساب کے عمل میں یوٹرن لینے پر مجبور ہو جائیں۔ نجانے پارٹی کے رہنما کس خیال میں رہتے ہیں۔

حالت یہ ہے کہ حکومت، فوج، عدلیہ سبھی احتساب کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ قوم کا موڈ ایسا کوئی اقدام قبول نہیں کرے گا۔ رہا نیب تو آج وہ جتنا بااختیار ہے، پہلے کبھی نہیں تھا۔ اسے کسی احتجاجی تحریک سے دفاعی پوزیشن پر لانے کا خواب دور دور تک شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

مزید : رائے /کالم