قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں اختیارات کی جنگ، بورڈ آف گورنر کے ایڈ منسٹریشن کو تالے لگ گئے

قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں اختیارات کی جنگ، بورڈ آف گورنر کے ایڈ ...

نوشہرہ(بیورورپورٹ) قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں اختیارات کی جنگ گلریز حکیم خان اور ملک ریاض اعوان ایڈوکیٹ کے مابین رسہ کشی بورڈّ آف گورنرکے ایڈمنسٹریشن ، کلریکل کمروں کو تالے لگ گئے ہسپتال کے ڈاکٹرز، ایڈمنسٹریشن افیسرز اور ٹیکنیشن سٹاف تذبذب کے شکار ہوگئے قاضی میڈیکل کمپلیکس کے نئے تعینات ہونے والے چیئرمین ملک ریاض اعوان ایڈوکیٹ نے گلریز حکیم خان کے کمروں کو لگائے گئے تالوں کو توڑ کر تمام ریکارڈ قبضے میں لے کر مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے بارے میں نیب سے رجوع کرنے کا عندیہ عوام اور مریضوں کا ایم ٹی آئی کے خاتمے اور قاضی میڈیکل کمپلیکس کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق قاضی میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ میں حسب روایت اختیارات کی جنگ سابق چیئرمین بورڈ آف گورنر گلریز حکیم خان اور ملک ریاض اعوان ایڈوکیٹ عرصہ کئی ماہ سے شروع تھی کہ آخر کار سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا نے مداخلت کرتے ہوئے ملک ریاض اعوان ایڈوکیٹ کا بطور چیئرمین بورڈ آف گورنر قاضی میڈیکل کمپلیکس حکم نامہ جاری کرتے ہوئے گلریز حکیم خان کی بورڈ آف گورنر کی چیئرمین شپ منسوخ کردی جس پر ملک ریاض اعوان ایڈوکیٹ نے چارج سنبھالتے ہی قاضی میڈیکل کمپلیکس بورڈ آف گورنر کی ایڈمنسٹریشن اور کلریکل کمروں کوزبردستی لگائے گئے تالے پولیس کی موجودگی اور اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ طلحہ زبیر کی نگرانی میں توڑ کر تمام ریکارڈ قبضے میں لے کر نیب سے رجوع کرنے کی بھی دھمکی دے دی جبکہ اس موقع پر ملک ریاض اعوان ایڈوکیٹ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ گلریز حکیم خان نے اپنے من پسند، منظور نظرافراد کو سیٹوں پر بھرتی کئے تھے جس کیلئے ضابطہ نظرانداز کیاگیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ سیکرٹری بی او جی منصور، میڈیکل کالج نوشہرہ کے ڈین ڈاکٹر ضیاء محمداور ڈی ڈی او ڈاکٹر انور کی تقریاں غیرقانونی تھی انہوں نے کہا کہ سابقہ چیئرمین بی او جی نے بورڈ میٹنگ کاروائی کا ریکارڈ بھی غائب کردیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر