شاہین کنگروز کیخلاف اونچی اڑان بھرنے میں ناکام

شاہین کنگروز کیخلاف اونچی اڑان بھرنے میں ناکام
شاہین کنگروز کیخلاف اونچی اڑان بھرنے میں ناکام

  

پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے ہاتھوں مسلسل دوسرے ون ڈے میں شکست پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس طرح سے آسٹریلوی ٹیم نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اس کی داد دینی چاہئیے اور پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں نے بیٹنگ کے شعبہ میں تو کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ باؤلنگ کے شعبہ میں مکمل طو ر پر ٹیم ناکام ثابت ہوئی ہے دوسرے و ن ڈے میں شکست کے بعد تو اب لگتا ہے

کہ پاکستان کے ہاتھ سے اہم سیریز نکل گئی ہے اور اب ٹیم کی سیریز میں واپسی اور اس سیریز میں کامیابی ایک معجرہ ہی ہوگا اب دیکھنا یہ ہے کہ ان ناکامیوں کے بعد قومی ٹیم کیا حکمت عملی طے کرتی ہے اور میدان میں کیسی پرفارمنس دکھاتی ہے مگر اب تک کی کارکردگی نے تو شائقین کرکٹ کو بہت مایوس کیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیم کی باؤلنگ کے شعبہ پر توجہ دی جائے جس طرح سے آسٹریلوی بیٹنگ نے پاکستانی باؤلرز کی پٹائی کی ۔ پاکستانی باؤلرز نے اپنا حوصلہ کھو دیا ہے حسنین کو ٹیم میں شامل کیا گیا مگر افسوس وہ اپنے پہلے ون ڈے میں ایک بھی وکٹ حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے جس سے ان سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ پوری نہیں ہوسکی اس موقع پر پاکستان کے سینئر باؤلرز کی بھی کمی محسوس ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ سیئنر بیٹسمینوں کی بھی اگر وہ ٹیم میں شامل ہوتے تو شائد نتیجہ مختلف ہوتا اور پاکستان کی ٹیم ایک میچ جیت جاتی آسٹریلوی کپتان فنچ نے جس طرح سے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے خلاف دو میچز میں مسلسل دو سنچریاں سکور کیں اس سے پاکستانی باؤلرز کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی ہے

اب پاکستان کے لئے سیریز جیتنا تو بہت ہی مشکل ہوگیا ہے مگر امید ہے کہ پاکستان کی ٹیم ایک میچ تو ضرور اپنے نا م کرے کیونکہ اس سیریز میں شکست سے پاکستان کو ورلڈ کپ میں عمدہ پرفارمنس دکھانے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے دوسری طرف ٹیم مینجمنٹ بھی اپنے فیصلوں میں بہتر کارکردگی نہیں دکھارہی اور کوئی حکمت عملی بھی سامنے نہیں آرہی یہ بھی شکست کی ایک وجہ ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم تیسرے ون ڈے میں کیسی پرفارمنس دکھاتی ہے کیونکہ اس میچ میں پاکستان کو اگر شکست ہوئی تو سیریز اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور آسٹریلوی ٹیم کے حوصلہ مزید بلند ہوں گے پاکستان کیلئے تیسرا ون ڈے بہت اہمیت کا حامل ہے

اور اس میچ میں پاکستانی ٹیم کو اگر جیتنا ہے تو ایک نئے جوش و جذبہ کے ساتھ میدان میں اترنے کی ضرورت ہے ورنہ پاکستان کی ٹیم کو اس سیریز میں شرمناک شکست نہیں بچایا جاسکتا کپتان شعیب ملک سمیت ٹیم میں شامل تمام کھلاڑیوں کو اپنے کھیل میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اور اس کے ایک بہت اچھی حکمت عملی کا ہونا بہت ضروری ہے جو اب تک تو نظر نہیں آیا بہرحال جو بھی ہے سینئر کھلاڑی ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی ٹیم میں موجودگی بہت ضروری ہوتی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینئر کھلاڑیوں کو آرام کروانے کا فیصلہ کرکے قومی ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ون ڈے میچز میں اسکا کیسے خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم