اپوزیشن احتجاج کا شو ق پورا کر لے ، کسی بلیک میلنگ میں آئیں گے نہ کسی کو این آر او ملے گا نواز شریف کو کس قانون کے تحت باہر بھیجیں ، کراچی میں تیل، گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے : وعمران خان

اپوزیشن احتجاج کا شو ق پورا کر لے ، کسی بلیک میلنگ میں آئیں گے نہ کسی کو این آر ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ماضی میں جعلی اکا ؤ نٹس کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی ، بلاول بھٹو نیب سے خوفزدہ ہے اس لیے رو رہے ہیں،عثمان بزدار اور محمود خان پر مکمل اعتماد ہے ،،بھارت کی طرف سے چوکنے ہیں،بھا رتی الیکشن تک خطرہ موجود ہے،نوازشریف کو باہر کس قانون کے تحت بھیجیں ،کراچی میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں،اپوزیشن احتجاج کا شوق پورا کرلے ڈی چوک پر کنٹینر فراہم کریں گے۔وزیراعظم ہا ؤ س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعلی کے پی کے محمود خان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں وزرائے اعلی پر مکمل اعتماد ہے، دونوں وزرائے اعلی نئے ہیں، انہیں تھوڑا سا وقت دیں، نتیجہ سامنے آجائیگا، پنجاب میں ایک ایسے وزیراعلی لائے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ عام آدمی بھی وزیراعلی بن سکتا ہے۔بھارت سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی الیکشن تک ابھی خطرہ موجود ہے، وہاں الیکشن سے پہلے حالات ٹھیک ہونے کی امید نہیں، ہم مکمل طور پر چوکنے ہیں، بھارت کی طرف سے کوئی بھی سٹنٹ کیا جاسکتا ہے، مودی نے پاکستان کے خلاف بیانیہ لیا ہوا ہے، وہ بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مہم چلارہے ہیں لہذا کوئی بھی اقدام ہوا تو اس کا بھرپور جواب دیں گے۔سابق وزیراعظم نوازشریف کے علاج سے متعلق سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نوازشریف کو علاج سے متعلق حکومت مکمل سہولیات دے رہی ہے، وہ ملک کے اندر جہاں چاہیں علاج کراسکتے ہیں، نوازشریف کو کس قانون کے تحت باہر علاج کے لیے بھجوائیں، ایسا کوئی قانون نہیں ہے۔ان کا کہنا تھاکہ نوازشریف 30 سال حکومت کرنے کے باوجود ایک ایسا اسپتال نہ بناسکے جہاں ان کا علاج ہو، انہوں نے ایک فیکٹری سے 30 فیکٹریاں بنالیں مگر اسپتال نہ بناسکے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ بلاول بھٹو نیب سے خوفزدہ ہے اس لیے رو رہے ہیں، پیپلزپارٹی نے ماضی میں جعلی اکا ؤ نٹس کے ذریعے اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ کی، ایان علی اور بلاول بھٹو کے ائیرٹکٹس ایک ہی جعلی اکاونٹس سے بنائے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بلیک میلنگ نہیں چلے گی اور نہ ہی کوئی این آر او ملے گا، اپوزیشن رونا دھونا چاہتی ہے تو احتجا ج کے لیے کنٹینر دینے کو تیار ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ قوم کا پارلیمنٹ میں ایک منٹ کا 80 ہزار روپے لگتا ہے، پارلیمنٹ میں اپوزیشن صرف اپنا رونا دھونا کرکے چلی جاتی ہے، اپوزیشن کی جانب سے عوام کے لیے کوئی نہیں سوچا جارہا، اپوزیشن اسمبلی میں سوائے کرپشن چھپانے کے کوئی بات نہیں کرتی، قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان کا ٹیکس ان کی فلاح پر ہی خرج ہو گا، ماضی کی حکومتوں نے سوائے اپنی جیبیں بھرنے کے کچھ نہیں کیا، مجھے اپنی کابینہ پر مکمل طور پر اعتماد ہے، قوم سے امید رکھتا ہوں کہ وہ میرا ساتھ دیں گے۔گیس کی قیمتوں سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے ایل این جی کے اتنے مہنگے معاہدے کیے کہ ہم گیس جتنے میں خرید رہے ہیں اس سے آدھے میں بیچ رہے ہیں، گیس کی مہنگائی اس کے شارٹ فال اور ایل این جی کی وجہ سے ہے، ہم 1400 مکعب فٹ پر گیس خریدتے ہیں اور 650 روپے میں بیچتے ہیں، انرجی بحران کی وجہ ٹرانسمیشن لائن کی خرابی ہے، پچھلے ادوار میں ٹرانسمیشن لائنز پر کوئی کام نہیں ہوا۔وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ کراچی میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر ملے ہیں، قوم دعا کرے، تیل و گیس کے ذخائر سے متعلق قوم کو جلد خوشخبری دوں گا، ان شا اللہ تیل و گیس کے ذخائر اتنے ہوں گے کہ کسی سے تیل لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی پچھلے 30 سال کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، چین، ملائیشیا، سعودی عرب اور یو اے ای پاکستان میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا خسارہ کم ہو، سرمایہ کاری کے لیے مجھ سے بیرون ملک سے رابطے کیے جارہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کاروباری ماحول ہو اور لوگ یہاں سرمایہ کاری کریں۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان مجھ سے ملنا چاہتے تھے لیکن افغان حکومت کے احتجاج پر نہیں ملے، افغان حکومت چاہتی ہے کہ وہ خود طالبان سے مل کر حالات بہتر بنائے، افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا، افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں، ٹرمپ کے بیان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اسپورٹس بورڈ میں نظام کو مکمل طور پر تبدیل کررہے ہیں، اسپورٹس بورڈ بھرتی سینٹر بنا ہوا تھا، کرکٹ بورڈ کے نظام میں بھی تبدیلی لارہے ہیں، علاقائی کرکٹ کو فروغ دیں گے۔۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ علاقائی کرکٹ کی ترقی کا بڑی دیر سے کہہ ر ہا تھا جب علاقے کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں تو دلچسپی بڑھتی ہے ، ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا نظام درست نہیں ہے مجھے احسان مانی سے ملنے کا موقع نہیں ملا معلوم نہیں وہ کیسا نظام لیکر آئے ہیں لیکن میں کہتا ہوں جب شہرو ں کی ٹیمیں بنیں گی اور ان کے درمیان میچ ہونگے تو بہترین کھلاڑی سامنے آئیں گے وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ بنی گالہ میں تمام اخراجات اپنی جیب سے کرتا ہوں، سیکیورٹی خاردار تار کا 60 لاکھ روپے خود ادا کیا، گھر آنے والی سڑک تحفہ بیچ کر بنوائی، زمان پارک گھر کی تعمیر بھی ذاتی خریہ سے کررہا ہوں۔ وزیراعظم آفس کے 35کروڑ روپے کے اخراجات کم کئے ہیں ۔

عمران خان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آئی این پی)وزیرِ اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا میں نئے مقامی حکومتوں کے نظام کو آئندہ ایک ماہ میں تمام ضروری مراحل مکمل کرکے نافذ العمل کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ بدقسمتی سے انتظامی ڈھانچہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے، انتظامی ناکامی کی وجہ سے ملک میں اکثر مقامات پر شہری صحت، تعلیم ، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں، نئے نظام میں عوامی نمائندوں کو اختیار دیکر اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنے علاقوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کر سکیں۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرصدارت صوبہ خیبر پختونخوا میں نیا لوکل گورنمنٹ نظام متعارف کرانے کے سلسلے میں پیش رفت پر جائزہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، وزیرِ اعلی محمود خان، وزیرِ اعظم کے مشیر محمد شہزاد ارباب، معاون خصوصی افتخار درانی، صوبائی وزرا شہرام خان تراکائی، سلطان خان، تیمور سلیم جھگڑا، حشام انعام اللہ، عاطف خان اور متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں نئے لوکل گورنمنٹ کے نظام کے خدوخال اور مجوزہ نظام کو حتمی شکل دینے پر غور کیاگیا۔نئے لوکل گورنمنٹس کے قیام کا مقصد مقامی سطح پرلوگوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ تعمیر و ترقی کے فیصلے مقامی سطح پرطے پائیں۔اس موقع پر ا پنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ مقامی لوگ اپنے مسائل بہتر طریقے سے سمجھتے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ماضی میں خیبر پختونخوا میں ویلیج کونسلز کے قیام کا تجربہ بہت کامیاب رہا، اس نظام کو مزید بہتر بنا کر عوام کو مقامی سطح پر باا ختیار کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے انتظامی ڈھانچہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے، انتظامی ناکامی کی وجہ سے ملک میں اکثر مقامات پر شہری صحت، تعلیم ، پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں، نئے نظام میں عوامی نمائندوں کو اختیار دیکر اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنے علاقوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کر سکیں۔وزیرِ اعظم نے نئے لوکل نظام کو آئندہ ایک ماہ میں تمام ضروری مراحل مکمل کرکے نافذ العمل کرنیکی ہدایت کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کیساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے ، یورپی یونین کے رکن ممالک پاکستان کے تجارتی اورسرمایہ کاراتحادی ہیں۔پیر کو وزیراعظم یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندہ فیڈریکا نے ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کیساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ یورپی یونین کے رکن ممالک پاکستان کے تجارتی اورسرمایہ کاراتحادی ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے یورپی ممالک سے باہمی تجارت کو فروغ ملا۔اعلامیے کے مطابق عمران خان نے یورپی نمائندہ کوعلاقائی صورتحال پربریفنگ دی اور پاک بھارت کشیدگی میں کمی سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

مزید : صفحہ اول