12 سالہ بچے نے گھر میں ’کھیلتے‘ ہوئے ایٹمی ری ایکشن کردکھایا

12 سالہ بچے نے گھر میں ’کھیلتے‘ ہوئے ایٹمی ری ایکشن کردکھایا

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایٹمی ری ایکٹر تیار کرنا اور ایٹمی ری ایکشن کے ذریعے ایٹمز کو توانائی کے حصول اور دیگرمقاصد کے لیے استعمال کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے تاہم آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ امریکہ میں ایک 12سالہ لڑکے نے کھیل کھیل میں یہ کارنامہ سرانجام دے ڈالا ہے۔ دی گارڈین کے مطابق اس بچے کا نام جیکسن اوسالٹ ہے جو امریکہ ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس کا رہائشی ہے۔ جیکسن کو سائنسی تجربات کا شوق ہے جس کے لیے اس نے 10ہزار ڈالر کی لاگت سے گھر کے ایک کمرے میں لیبارٹری بنا رکھی ہے۔ اس لیبارٹری میں جا کر مختلف نوعیت کے تجربات کرنا ہی اس کا واحد شغل ہے۔گزشتہ دنوں انہی تجربات کے دوران وہ ایٹمی ری ایکٹر تیار کرنے اور اس میں ایٹمی ری ایکشن کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب جیکسن کے اس تجربے کی خبر پھیلی تو ماہرین نے اسے مذاق قرار دیا تاہم بعد ازاں ماہرین طبیعات کی ایک ٹیم نے آن لائن جیکسن کا یہ ری ایکٹر اور اس کا ایٹمی ری ایکشن کرانے کا مظاہرہ دیکھا تو انہوں نے تصدیق کر دی او رکہا کہ جیکسن نے ایک مستند کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس کا تیار کردہ ری ایکٹر پوری طاقت کے ساتھ ایٹمز کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے توڑے گئے ایٹمز کو دیگر تجرباتی مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر جیکسن دنیا کا کم عمر ترین شخص ہے جس نے ری ایکٹر تیار کیا اور اس کے ذریعے ایٹمی فیوژن کی۔

ایٹمی ری ایکشن

مزید : صفحہ آخر