’’وہ شخص جس کی ٹرائل کے دوران موت ہوگئی، پھر مردے کو قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی‘‘

’’وہ شخص جس کی ٹرائل کے دوران موت ہوگئی، پھر مردے کو قبر سے نکال کر پھانسی دی ...
’’وہ شخص جس کی ٹرائل کے دوران موت ہوگئی، پھر مردے کو قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی‘‘

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں کرامویل ٹرائل کے دوران فوت ہو گیا تو قبر سے اس کے ڈھانچے کو نکال کر پھانسی پر لٹکایا گیا ، ہماری تاریخ ہی الگ ہے ، کتنے لوگ علاج کیلئے باہر جانا چاہتے ہیں ، اسی وجہ سے دوسروں کے کیس پر بھی اثر پڑتا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے سنگین غداری کیس میں التوا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ خصوصی عدالت فیصلہ کرے ورنہ یکم اپریل کو حکم جاری کر دیں گے ،کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے ، 2007 کی ایمرجنسی کا ٹرائل ہر صورت ہو گا۔چیف جسٹس نے عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ نے آمرکرامویل کا موت کے بعد ٹرائل کیا ، برطانوی پارلیمنٹ نے کرامیول کا ڈھانچہ قبر سے نکال کر غداری کے مقدمے میں ٹرائل کر کے فیصلہ دیا ۔

سپریم کورٹ نے مشرف کو تین آپشنز دیتے ہوئے قرار دیا کہ وہ آئندہ سماعت پر پیش ہوں ، ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروائیں یا وکیل ان کی جگہ جواب دیں ۔چیف جسٹس نے سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کیس کو جلد نمٹانے کے حوالے سے دائر درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو جس طرح سے ڈیل کیا گیا وہ تاریخ کا ایک نیا باب ہے ، عدالت جاتے ہوئے گاڑی کہیں اور موڑ لی جاتی ہے ، پرویز مشرف کبھی ہسپتال چلے جاتے ہیں اور کبھی بیرون ملک ، ملزم کی مرضی نہیں چلے گی ، پرویز مشرف بڑے مکے دکھاتے تھے وہ کہیں عدالت کو مکے نہ دکھانا شروع کر دیں ، آپ یقین کریں گزشتہ سماعت پر مجھے اندازہ تھا پرویز مشرف ہسپتال میں داخل ہو جائیں گے ، ملزم جان بوجھ کر پیش نہیں ہوتا ۔

مزید : قومی