”نواز شریف ریلیف ملنے پر جیت شہباز شریف کی ہوئی ہے اور مجھے تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پورے پاکستان کو سمجھ آ گئی ہے کہ ۔۔۔“ حامد میر نے انتہائی حیران کن بات کہہ دی

”نواز شریف ریلیف ملنے پر جیت شہباز شریف کی ہوئی ہے اور مجھے تبصرہ کرنے کی ...
”نواز شریف ریلیف ملنے پر جیت شہباز شریف کی ہوئی ہے اور مجھے تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پورے پاکستان کو سمجھ آ گئی ہے کہ ۔۔۔“ حامد میر نے انتہائی حیران کن بات کہہ دی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف صحافی و سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ آج شہباز شریف کو لاہور ہائیکورٹ اور نواز شریف کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا ہے اور اس سے بالآخر شہباز شریف کے بیانئے کی جیت ہوئی ہے کیونکہ جیسے ہی نواز شریف نے اپنا بیانیہ پس منظر میں دھکیلا تو انہیں ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ آج ہائیکورٹ نے شہباز شریف کو ریلیف دیا ہے اور سپریم کورٹ نے نواز شریف کو، تو دونوں بھائیوں کو ایک ہی دن ریلیف مل گیا ہے جس پر مجھے تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ سارے پاکستان کو یہ سمجھ آ گئی ہے کہ شہباز شریف کا بیانیہ ہی بالآخر کامیاب ہوا ہے اور نواز شریف نے جیسے ہی اپنا بیانیہ پس منظر میں دھکیلا اور اس سے انحراف کیا تو انہیں ریلیف ملنا شروع ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلیف کیسے بھی ملا، بہرحال مل گیا ہے اور مسلم لیگ (ن) والے بہت خوش ہیں، اپنے ہی بیانئے کی نفی کر کے وہ بہت خوش ہیں تاہم نواز شریف کو ریلیف ملنا خوش آئند بات ہے کیونکہ وہ واقعی بیمار ہیں اور انہیں ریلیف ملنا چاہئے تھا۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا ہے اور پاکستان میں کسی اور قیدی، خاص طور پر عام شہریوں کو ایسا ریلیف نہیں ملتا۔

انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف کو باہر جانے کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ پاکستان میں ہی علاج کروانا چاہئے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی صحت جانچنے کیلئے جو چار سے پانچ مختلف میڈیکل بورڈز بنے، ان میں سے دو نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں لکھا کہ نواز شریف کو 10اہم بیماریاں لاحق ہیں اور وہ تمام بیماریاں ایسی ہیں جن کا پاکستان میں علاج ہو سکتا ہے اور اگر خود نواز شریف نے بھی بیرون ملک جا کر علاج کروانے کا اشارہ نہیں دیا تو انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور انہیں اس چیز کا خیال کرنا چاہئے، یہ بات درست ہے کہ وہ تین مرتبہ مدت پوری نہیں کر سکے مگر پنجاب میں وزیراعلیٰ اور مدت بھی پوری کی، تو انہیں پاکستان کے ہسپتالوں اور میڈیکل سسٹم پر اتنا عدم اعتماد نہیں کرنا چاہئے، اللہ نے کرم کیا ہے اچھی بات ہے کہ انہیں ضمانت مل گئی ہے تو انہیں پاکستان میں ہی علاج کروانا چاہئے۔

مزید : قومی