معیشت اور غریبوں کے لئے ریلیف پیکیج

معیشت اور غریبوں کے لئے ریلیف پیکیج

  



وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے اثرات سے نپٹنے کے لئے معیشت کے مختلف شعبوں کو تقریباً1000 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، یومیہ اُجرت پر کام کرنے والوں اور مزدوروں کو200 ارب روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے برآمدی صنعت کو فوری طور پر ایک سو ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ دیں گے، اس کے علاوہ ٹیکس ادائیگیوں کو بھی موخر کیا جائے گا،ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو چار ماہ تک تین ہزار روپے دیں گے، اس کے لئے ڈیڑھ سو ارب روپے رکھ رہے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز کے لئے50 ارب روپے رکھے گئے ہیں، بجلی اور گیس کے بلوں کی قسطیں کی جا رہی ہیں یہ قسطیں تین ماہ کے لئے ہوں گی،ان سے وہ صارفین مستفید ہوں گے، جو300یونٹ تک بجلی خرچ کرتے ہیں اور جن کا گیس کا بِل دو ہزار روپے ماہوار تک ہوتا ہے،کھانے پینے کی چیزوں بالخصوص دالوں، چینی اور گھی پر ٹیکس ختم یا کم کر دیئے گئے ہیں، ایمرجنسی میں استعمال کے لئے ایک سو ارب روپے الگ سے رکھے گئے ہیں، انہوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15روپے لیٹر کمی کا اعلان کیا اور بینکوں کے قرضوں پر شرح سود ڈیڑھ فیصد کم کر کے11فیصد کر دی،اس کے علاوہ بھی انہوں نے بہت سے اقدامات کا اعلان کیا، جن کا مقصد کورونا بحران کے دوران معیشت کا پہیہ رواں رکھنا اور اس سے متاثر ہونے والوں کی امداد کرنا ہے،وزیراعظم نے ان اقدامات کا اعلان اسلام آباد میں سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ ملاقات میں کیا۔

وزیراعظم نے اپنی گفتگو اور سوالات کے جوابات میں اپنے اقدامات کی وضاحت کی اور ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے مسئلے پر تفصیلی بات کی اور کہا آج ہم جو اقدامات کر رہے ہیں ان کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے یا منفی،اس کے بارے میں ابھی سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔یہ تو آنے والے دِنوں ہی میں پتہ چلے گا،انہوں نے کہا ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن نہ کیا گیا تو ملک تباہ ہو جائے گا،سب سے زیادہ خطرہ ہمیں کورونا وائرس سے نہیں،بلکہ خوف کے اثر سے غلط فیصلے کرنے سے ہے،لاک ڈاؤن کی کئی قسمیں ہیں، لاک ڈاؤن کا آخری مرحلہ کرفیو ہے، آج بھی مَیں یہ کہتا ہوں کہ کرفیو سے معاشرے پر بہت بُرا اثر پڑے گا،ہم ملک بھر میں کرفیو کے متحمل نہیں ہو سکتے،کرفیو سے غریب لوگ متاثر ہوں گے، میری سب سے پہلی ترجیح غریبوں تک کھانا پہنچانا ہے، یہ سوچنے والی باتیں ہیں کیا ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں کہ کچی آبادیوں میں کھانا پہنچا سکیں،پاکستان کے فیصلے ایک چھوٹی سی ایلیٹ کلاس کو دیکھ کر کئے جاتے ہیں،لاک ڈاؤن کو لے کر عمومی سوچ یہی ہے غلط فیصلے کر کے معاشرے میں تباہی نہیں لانا چاہئے۔

ایک طرف وزیراعظم کی یہ تعمیری اور مثبت سوچ ہے،جس سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا،لیکن اس کے نتیجہ خیز اثرات تبھی مرتب ہو سکتے ہیں،جب عملی اقدامات بھی اسی سوچ کی روشنی میں کئے جائیں،اگر سوچ تو مثبت ہو، لیکن عملی اقدامات اس سے لگا نہ کھاتے ہوں تو حسب ِ منشاء نتائج نہیں نکل سکتے۔وزیراعظم نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اگر ان سے اُن کی روشن سوچ اور فکر کا قافلہ آگے بڑھتا ہے تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں،کورونا وائرس نے پوری دُنیا کو متاثر کیا ہے اور ہر ملک میں اپنے اپنے وسائل کو پیش نظر رکھ کر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ نے 10کھرب ڈالر سے بھی زیادہ مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے،جس کا زیادہ تر فائدہ ان لاکھوں کروڑوں ملازمین کو پہنچانا مقصود ہے، جو کورونا بحران سے پیدا ہونے والی کساد بازاری سے متاثر ہوئے ہیں یا آئندہ ہوں گے۔ امریکہ ایک سپر طاقت ہے اور اس کے مالی وسائل کا بھی کوئی شمار و قطار نہیں،لیکن پاکستان بھی اگر اپنے مالی وسائل کو دانشمندی سے استعمال کرے تو یہاں بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے اور بحران سے بخیرو خوبی نپٹا جا سکتا ہے۔

اِس وقت دُنیا میں تیل کی قیمتیں بہت ہی نیچے آ گئی ہیں،اعداد و شمار کو پیش ِ نظر رکھا جائے تو تیل کی قیمتیں مزید کم کی جا سکتی ہیں، وزیراعظم کی ٹیم میں اسد عمر جیسے ماہرین موجود ہیں،جوایک زمانے میں حساب لگا لگا کر بتایا کرتے تھے کہ اِس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اتنی ہیں اس حساب سے پاکستان میں تیل اتنا سستا ہونا چاہئے،لیکن تب ان کی حکومت نہیں تھی اور وہ صرف مشورہ دے سکتے تھے یا اُس وقت کی حکومت کو ہدفِ تنقید و ملامت بنا سکتے تھے،لیکن اب تو ان کی اپنی حکومت ہے وہ اپنے فارمولے لاگو کریں۔ ہمیں یاد ہے وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے بتایا کرتے تھے کہ اُن کے پاس اسد عمر جیسا معاشی ماہر ہے،جو ہماری اکانومی کو پلک جھپکنے میں ٹھیک کر دے گا، لیکن جب عملی اقدامات کا وقت آیا تو اسد عمر تھوڑا عرصہ فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے بعد اچانک غائب ہو گئے، واپس آئے تو ان کی پوزیشن تبدیل ہو چکی تھی، لیکن اب بھی وہ منصوبہ بندی کے وزیر ہیں اور اچھے منصوبے حکومت کو پیش کر سکتے ہیں۔اُن کے سابق فارمولوں کی روشنی میں تیل کی قیمتیں صرف 15روپے نہیں،30،40 روپے تک کم ہونی چاہئیں،ویسے قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف تو 70روپے تک کمی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں،لیکن چلئے اُن کے مطالبے کو تو سیاست کہا جا سکتا ہے، لیکن پھر بھی ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کا پورا فائدہ صارفین تک منتقل کیا جائے تو اِس سے ان کی قوتِ خرید بڑھ سکتی ہے اور وہ حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔عالمی منڈی میں تیل کی ناقدری زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک رہنے کی پیش گوئی ہے اس کے بعد امکان ہے کہ قیمتیں بڑھیں گی،اِس لئے جب تک تیل سستا ہے اگر اس کا فائدہ صارفین تک منتقل ہوتا رہے تو غریبوں کا بھلا ہو گا۔ویسے بھی وزیراعظم چونکہ غریبوں کے دُکھوں کا مداوا چاہتے ہیں اور انہوں نے جو بھی اقدامات کئے ہیں ان میں غریبوں کو سامنے رکھا ہے۔ تیل کی تجارت تاجرانہ ذہنیت کو پیش ِ نظر رکھ کر نہ کی جائے تو تیل مزید سستا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اگرچہ حکومت کے حامی اس کمی پر بھی خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔

اشیائے خوردنی پر ٹیکس کم کرنے کا اعلان خوش آئندہ ہے،لیکن یہ صرف محدود مدت کے لئے یا وقتی طور پر نہیں ہونا چاہئے،عام استعمال کی ان اشیاء پر اگر ٹیکس مستقل طور پر ختم کر دیا جائے تو یہ اشیاء بڑی حد تک سستی ہو سکتی ہیں،سیلز ٹیکس کی شرح کم کر کے بھی مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے،لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب حکومت امیروں پر براہِ راست ٹیکس لگائے اور غریبوں کو ان سے محفوظ رکھے، بالواسطہ ٹیکسوں سے تو امیر اور غریب یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ امیر اور غریب سے ایک ہی شرح سے ٹیکس وصول کرنا قرین ِ انصاف نہیں ہے، ایسی حکمت ِ عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ جو زیادہ ٹیکس دے سکتا ہے اس سے زیادہ ٹیکس لیا جائے اور جو استطاعت نہیں رکھتا اس پر کم بوجھ ڈالا جائے،اس وقت ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے کو بھی ریلیف دینے کی ضرورت ہے اور قابل ِ ٹیکس آمدنی بڑھانی چاہئے تاکہ محدود تنخواہ پانے والوں کو بھی ریلیف محسوس ہو،وزیراعظم نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے اُن کے اپنے الفاظ میں ان کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آئیں گے،ہماری خواہش اور دُعا ہے کہ ان اقدامات کا وہی مثبت نتیجہ برآمد ہو جس کی توقع باندھی گئی ہے تاکہ آزمائش کی اس گھڑی میں قوم، ملک اور حکومت سرخرو ہو کر باہر نکلیں۔

مزید : رائے /اداریہ