قاتل ڈور نے ایک اور جان لے لی!ٹینکر جل گیا

قاتل ڈور نے ایک اور جان لے لی!ٹینکر جل گیا

  



دو دِنوں میں لاہور میں دو مختلف حادثات، سانحات ہوئے، فیکٹری ایریا میں ایک25سالہ نوجوان دانش قاتل ڈور کا شکار ہو کر چل بسا اور ایک اور گھر اُجڑ گیا ایک اور قتل اس حساب میں لکھا گیا۔ دوسرا واقعہ یا سانحہ گزشتہ صبح شاہدرہ موڑ لاہور کے قریب پیش آیا،جب ایک آئل ٹینکر نے آگ پکڑی اور اپنی لپیٹ میں پٹرول پمپ کے علاوہ دوکانوں اور پارکنگ ایریا کو بھی لے لیا، اس سے جہاں قیمتی مالی نقصان ہوا،وہاں متعدد افراد جھلس بھی گئے ان میں سے کئی افراد کی حالت نازک بتائی گئی تھی۔ قاتل ڈور کے وار سے نوجوان کا قتل اور ٹینکر کی آگ کوئی پہلے حادثات یا واقعات نہیں ہیں۔ایسا عرصہ سے ہوتا آیا ہے اور یہ سب بے احتیاطی کے باعث ہے۔آئل ٹینکر اُلٹنے اور پٹرولیم کو آگ لگنے کی وجوہات میں اوور لوڈنگ، گاڑیوں کی فٹنس اور تیل کے قریب سگریٹ نوشی شامل ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ ایسے سانحات پر دُکھ کا اظہار ہوتا اور پھر ہم بھول جاتے ہیں، حالانکہ کسی ایک ہی حادثے کے بعد ہمیں آئندہ کے لئے بہتر انتظامات اور احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جہاں تک پتنگ کی قاتل ڈور کا تعلق ہے تو یہ سلسلہ تمام تر تگ و دو کے باوجود رُک نہیں سکا کہ انتظامیہ آج تک درست اقدامات نہیں کر سکی، پتنگ بازی اور موٹر سائیکلوں کے حادثات بچوں کے باعث ہوتے ہیں،جو لالچ کے باعث قاتل ڈور یا دھاتی تار استعمال کرتے ہیں، اس کے لئے ایسے بچوں کے والدین بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ ڈور پتنگ کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ پتنگ اڑانے والے بچوں اور ان کے والدین کے خلاف بھی موثر کارروائی کی جائے۔اسی طرح آئل ٹینکروں کے حوالے سے بھی موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ