کرونا وائرس:احتیاط ضروری ہے

کرونا وائرس:احتیاط ضروری ہے
کرونا وائرس:احتیاط ضروری ہے

  



اس وقت کرونا وائرس قریباً کرۂ ارض کے تقریباً تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔سپین سے امریکہ تک شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو جو اس وائرس کا شکا ر نہ ہواہو۔اگر اعدادو شمار کے چکر میں نہ بھی پڑیں تو اس مہلک وائرس کی تباہ کاریاں آئے روز بڑھ رہی ہیں اور ہلاکتوں کے حوالے سے سب سے خطرناک صورت حال اٹلی، سپین اور ایران میں ہے۔باقی ممالک بھی محفوظ نہیں،ہر طرف غیر یقینی کی صورت حال ہے،سرحدیں بند ہو چکی ہیں،ایئر پورٹس خالی پڑے ہیں،دنیا کے پُر رونق شہروں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے گہرا سناٹا چھایا ہوا ہے،سڑکیں ویران اور سنسان ہو چکی ہیں،لوگ گھروں میں اسیر ہو چکے ہیں،ہر طرف ہو کا عالم ہے ،نجانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ زمین نامی سیارے پر زندگی کی چہل پہل ختم ہو کر رہ گئی ہے،بقول شاعر:

عجیب مرض ہے جس کی دوا ہے تنہائی

بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں

بہرحال وطن عزیز میں بھی جب سے کرونا وائرس کے کیس منظر عام پر آئے ہیں، ماحول میں عجیب سی سراسیمگی پھیل چکی ہے،جوں جوں ان کیسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، خوف کے سائے بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے حکومت نے سندھ، پنجاب، بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلستان میں لاک ڈاؤن کر دیا ہے اور عوام الناس کو صرف اشیائے خور و نوش، میڈیکل کی سہولتیں حاصل کرنے کے لئے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔اب چونکہ یہ ایک وبائی مرض ہے،اس طرح کے اقدامات سے ان شاء اللہ آئندہ چند روز میں بڑھتے ہوئے کیسوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہو جائے گی،اس کے علاوہ مریضوں کے لئے قرنطینہ سنٹر بنا دیئے گئے ہیں، جہاں پر ڈاکٹر صاحبان دن رات مریضوں کی نگہداشت میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر ان تمام ڈاکٹر حضرات اور میڈیکل سٹاف کو بھی سلام جو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سر شار ہو کر دوسروں کی زندگیاں بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں،ساتھ ساتھ پاک فوج اور تمام ریاستی اداروں کا بھی شکریہ جو اس وباء کی روک تھام کے لئے اپنے اپنے فرائض ایمانداری و نیک نیتی سے سر انجام دے رہے ہیں۔

خیر اس وقت ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے اور وہ ہے بے جا خوف پھیلانا، جس میں ہمارے سوشل میڈیا کے دانشوروں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ تاریخ گواہ ہے جب خوف سرایت کر جائے تو دنیا کی مضبوط ترین قومیں بھی شکست سے دو چار ہوجاتی ہیں، لیکن ہم نے یہ جنگ ہر صورت میں جیتنی ہے، جس کے لئے ذمہ داری اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔اس کی واضح مثال ہمارا بہترین دوست ملک چین ہے، جس کے عوام نے اس وائرس کو ہرا کر دنیا کو باور کروا دیا کہ وہ ایک زندہ اور مستقل مزاج قوم ہے۔ آج ہمیں بھی اسی طرح کی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے،لیکن ہمارے یہاں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنے کی بجائے، جس کے جی میں جو آرہا ہے، وہ سوشل میڈیا پر ڈال دیتا ہے……،کاپی پیسٹ کا زمانہ ہے، بلا تحقیق کوئی بھی تحریر سوشل میڈیا کی زینت بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ پچھلے چند دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر بہت وائرل ہوئی، جس پر لکھا تھا کہ اٹلی کا وزیراعظم رو رہا ہے اور اس نے کرونا وائرس کے خلاف ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں تو ہمارا کیا بنے گا؟ وغیرہ وغیرہ…… لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں تو یہ تصویر برازیل کے صدر کی ہے اور یہ اس وقت لی گئی، جب وہ کوئی خاص خبر سن کر رو رہا تھا۔ اس قسم کی اور بھی کافی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں …… آخر مایوسی کی خبریں پھیلا کر آپ لوگ چاہتے کیا ہیں؟

صرف یہی نہیں ایک اور عجیب بات دیکھنے کو ملی ہے کہ ہر کوئی ڈاکٹر بن چکا ہے اور بغیر تصدیق کرونا وائرس کی علامات سوشل میڈیا پر ڈالی جارہی ہیں، جنہیں پڑھ کر لوگ اپنے آپ کو ویسے ہی کرونا وائرس کا مریض سمجھنے لگے ہیں۔ کھانسی، زکام، نزلہ اور موسمی بخار تو نارمل حالات میں بھی لوگوں کو ہوتا ہے، جس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ کرنا وائرس ہے۔اس معاملے کو ڈاکٹر صاحبان ہی بہتر جانتے ہیں اور وہی اس کے بارے میں علاج بتا سکتے ہیں، آپ لوگ مہربانی کرکے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں …… اس کے علاوہ اب اچھی خبریں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں۔ دنیا کے کچھ ڈاکٹر اس مرض کے علاج کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق پوری دنیا میں ایک لاکھ سے زائد متاثرہ فراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ بہرکیف سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اب ہمیں ان حالات میں کیا کرنا چاہیے؟……سب سے پہلے تو ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اور حکومتی سفارشات پر مکمل عمل کریں۔

حکومت کی جانب سے وقتا فوقتا جاری ہونے والے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں ……چونکہ یہ ایک وبائی مرض ہے، گھروں میں رہیں اور کسی خاص مجبوری کے تحت گھر سے نکلیں،رش والی جگہوں پر ہرگز نہ جائیں، اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح سے اور باقاعدگی سے دھوئیں،سینیٹائزر کا استعمال کریں ،چھینکتے اور کھانستے وقت منہ کو ڈھانپ کر رکھا جائے اور فیس ماسک کا استعمال کریں، ماہرین کے مطابق یہ وائرس تین سے چار دن گلے میں رہتا ہے،اس کے بعد پھیپھڑوں میں پہنچ کر زیاد ہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، لہٰذا گرم پانی پیئیں،گرم پانی کے گرارے کریں اور وٹامن سی کی غذائیت والی خوراک استعمال کریں۔ ”احتیاط علاج سے بہتر ہے“ کے مصداق آپ اس مرض سے بچنے کے لئے یہ چند احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور گھبرائیں مت،ان شاء اللہ ہم جلد ہی اس وباء سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم