کرونا وائرس کے سامنے عالمی طاقتیں بھی بے بس

کرونا وائرس کے سامنے عالمی طاقتیں بھی بے بس
کرونا وائرس کے سامنے عالمی طاقتیں بھی بے بس

  



وبائیں دنیا میں پہلے بھی آتی اور جاتی رہی ہیں اور شاید اختتام دنیا تک یہ سلسلہ جاری رہے گا،مگر کرونا اپنی نوعیت کی ایک الگ ہی وباء ہے، جس نے سپر سانک طیاروں کی رفتار کو بھی مات کرکے رکھ دیا اور اتنی تیزی کے ساتھ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا کہ اس کی برق رفتاری کی مثال دنیا میں پہلے کہیں نہیں ملتی۔ کرونا ایک نظر نہ آنے والے وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،سماجی، ثقافتی، صنعتی اور معاشی ترقی کا دعویٰ کرنے والے بڑے بڑے ملکوں کی ترقی کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، ابھی تک کسی بھی ملک میں نہ تو کرونا کی ویکسین ہے اور نہ ہی اس کا کوئی علاج۔ بہ حیثیت ایک مسلمان اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ کرونا کی شکل میں یہ ایک عذاب الٰہی ہے کہ اس معدوم نظر وائرس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کبریائی صرف دکھائی ہی نہیں، بلکہ ثابت کر دی ہے۔ یہ کشمیر کی اس دس سالہ معصوم بیٹی کے لرزتے ہوئے ہونٹوں سے نکلی فریاد ہے جو اس نے اپنے رب سے مودی کے مظالم کے خلاف کی تھی یا ان بے گناہ بھارتی مسلمانوں کی آہیں تھیں، جنہیں انتہائی سفاکانہ انداز میں اذیتیں دے دے کر قتل کیا گیا یا پھر وہ فرشتہ صورت فلسطینی بچی کی فریاد،جس نے یہودی فوجیوں کے مظالم کے باعث دم توڑ تے ہوئے زندگی کے آخری الفاظ ادا کیے تھے اور کہا تھا کہ میں اللہ میاں سے جا کر تمہارے ظلم و سفاکی کی شکایت کروں گی،یا پھر وہ ننھی سی شامی کلی جس نے گولیوں سے چھلنی اپنی ماں کے سینے پر بلک بلک کر جان دے دی۔ یہ سب کچھ آج کے نام نہاد ترقی یافتہ جدید دور میں ہورہا تھا،مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی ،مگر کسی کو ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی توفیق نہ ہوئی انسانی حقوق کی چیمپئن تنظیموں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔

جب بھارتی مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر یہ مظالم روا رکھے جارہے تھے تو ہمارے عرب ممالک، جن میں سعودی عرب اور متحدہ امارات پیش پیش تھے، بھارت کے فاشٹ وزیر اعظم مودی کو ایوارڈوں سے نواز رہے تھے۔ بجائے اس کے کہ وہ مودی کے خلاف سخت کارروائی کرکے اسے روکتے، وہ بھارت میں اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کررہے تھے، جس سے یقینا مودی کو اپنے مذموم اور گھناؤنے مظالم میں مہمیز ملی ہوگی، لیکن آسمانوں پر خالق ارض و سما یہ سب دکھ رہا تھا ……پھر رحمت خداوندی جوش میں آئی اوراس نے کرونا نازل کر دیا……”ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے“…… مودی تم نے نہتے، معصوم و مظلوم بھارتی مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی، تم نے مقبوضہ کشمیر کو لاک ڈاؤن کیا اور دنیا خاموشی سے یہ دیکھتی رہی تو مظلوموں کی عرش بریں کو ہلاتی ہوئی فریادیں رب کائنات نے سنیں اور اس نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کر دیا……مودی! قدرت کے مظاہر یہ بتا اور دکھا رہے ہیں دکھا رہے ہیں کہ تمہارا عبرت ناک انجام تمہاری دہلیز تک پہنچ چکا ہے۔ اب بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی نہیں، تمہاری باری ہے۔ ان مظلوموں پر تمہارے مظالم کی انتہا اب تمہاری بربادی اور تباہی کی ابتدا بننے والی ہے۔ اسی طرح مغربی دنیا اور دیگر غیر مسلم ممالک میں اسلام، اسلامی اقدار پر حملے، مساجد پر گولیوں کی بوچھاڑ، حجاب پر پابندیوں کی ناروا کوششیں، قرآن کریم کو جلانے کا بہیمانہ عمل، یہ سب کچھ میرا خدا دیکھ رہا تھا۔ بربادی اور تباہی کے مہلک دیو ہیکل ہتھیاروں کے حامل ممالک پر اس نے ایک نظر نہ آنے والے چھوٹے سے وائرس کو نازل کیا اور ان کے تعمیر و ترقی کے پہیے کو جام کرکے رکھ دیا، انہیں ایک اللہ، قرآن اور اسلام کے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا اور اب وہ مسجدوں کا رخ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اللہ رب العزت نے ان مسلمانوں کو بھی، جو بے راہ روی کا شکار تھے، متنبہ کیا کہ صراط مستقیم کی طرف واپس آجاؤ، استغفار کرو کہ تمہاری بہتری اور بھلائی اسی میں ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ میرا خدا عظم تر ہے کہ اس نے کرونا بھیج کر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو بے بسی کی تصویر بنا کر رکھ دیا جو مقام عبرت ہے۔یہی التجا میری اہل وطن سے بھی ہے کہ وہ اپنے کردہ ناکردہ گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں، اس کے حضور گڑ گڑا کر استغفار کا ورد کریں، قرآن کریم کی تلاوت کریں، نمازیں باقاعدگی سے ادا کریں۔صلہ،رحمی کو اپنائیں،ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور حکومت و دیگر اداروں سے جاری ہونے والی کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اپنائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ خالق ارض و سما ہماری لغزشوں، کو تاہیوں اور گناہوں کی بخشش فرمادے اور اہل وطن کو اس موذی وباء سے محفوظ رکھے۔ موجودہ صورت حال ہمیں اس امر کی بھی دعوت فکر دیتی ہے کہ ہم اپنے ارد گردغریب اور مستحق افراد کا خیال رکھیں۔ ان میں سے کئی دیہاڑی دار ہوں گے جو لاک ڈاؤن کے باعث گھروں میں محصور ہوں گے، ان کو اشیائے خورونوش بہم پہنچائیں، ان کی ہر طرح سے خدمت کریں۔ان میں کئی ایسے بھی ہوں گے، جنہیں احتیاطی تدابیر کا علم نہ ہو تو انہیں ان سے آگاہ کریں۔ یہ بہت کڑا وقت ہے، یہ سب کچھ کرتے وقت آپ اپنا بھی خیال رکھیں اور احتیاطی تدابیر خود بھی اپنائیں اور خلوص دل سے دعا کریں کہ خداو ندکریم ہمیں، وطن اور اہل وطن کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور جلد از جدل اس موذی وباء سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی ……ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں۔

مزید : رائے /کالم