لاہور واقعہ کا سبق

لاہور واقعہ کا سبق
لاہور واقعہ کا سبق

  

لاہور کی ڈریس ڈیزائنر ماریہ بی نے اپنے سوشل میڈیا پر وڈیو پیغام میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ لاہور پولیس نے جس طرح ان کے شوہر سعید کو گھر میں داخل ہو کر گرفتار کیا،کیا یہ درست اقدام تھا؟ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمارے گھر میں اگر کوئی ملازم یا ہم خود کرونا وائرس میں مبتلا ہو جائیں تو کیا یہ کوئی جرم ہے؟ کیا اس میں ہمارا کوئی قصور نکلے گا؟ اب ان کی اس وڈیو سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، تاہم عمومی طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ ماریہ بی اور ان کے شوہر نے اپنے ملازم کو ہسپتال نہ بھیج کر ایک صریحاً غلط کام کیا۔ اتنے پڑھے لکھے لوگ بھی اگر ایسی حرکتیں کریں گے تو اس جان لیوا موذی وائرس سے پاکستان کو کیسے بچایا جا سکے گا؟ یاد رہے کہ لاہور کے اس گھرانے میں ایک ملازم کو کرونا وائرس لاحق ہونے کی تشخیص ہوئی، ان دونوں میاں بیوی نے چغتائی لیب لاہور سے اس کا ٹیسٹ کرایا تو پازیٹو آیا۔ اب ان دونوں کے بیان کے مطابق انہوں نے ملازم کو اپنے ہی گھر کے ایک علیحدہ کمرے میں رکھنے کا فیصلہ کیا، لیکن ملازم نہ مانا اور اس نے کہا کہ وہاڑی جا کر اپنے گھر میں آئسولیشن اختیار کرے گا۔ ان دونوں نے وڈیو بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ملازم سے پوچھا کہ کیا اسے گھر میں علیحدہ کمرہ مل جائے گا؟تو اس نے اثبات میں جواب دیا۔ ان دونوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملازم بس پر نہیں،بلکہ ایک پرائیویٹ گاڑی میں وہاڑی گیا، جو اس کے بھائی کی تھی۔

ان کی یہ سب باتیں صریحاً مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک پازٹیو ٹیسٹ والا کرونا وائرس کا مریض گھر میں کیسے رکھا جا سکتا ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے اسے اپنے گھر میں رہنے کی پیشکش کی ہو؟ جبکہ ان کے گھر میں بچے بھی موجود ہیں …… پھر اس میں کیا منطق ہے کہ اسے کرونا وائرس کے ساتھ تین چار سو میل دور بھیجا جائے، جبکہ لاہور میں قرنطنیہ سینٹر اور علاج کے تمام مواقع موجود ہیں …… جسے کرونا وائرس ہو جائے، وہ تو ایک چلتا پھرتا بم ہوتا ہے، جو کسی وقت بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسے چھونے والے، اس کے کھانسنے سے قریب رہنے والے، حتیٰ کہ صرف اس کے پاس بیٹھنے والے بھی اس وائرس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ماریہ بی اور ان کے شوہر کا فرض تھا کہ وہ فوراً 1122 کو فون کرتے اور اپنے ملازم کو ہسپتال پہنچاتے، مگر اس کی بجائے انہوں نے ایک عجیب فیصلہ کیا اور ملازم کو سینکڑوں میل دور جانے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں، البتہ قیاس یہی ہے کہ اپنے گھر کی بدنامی کے ڈر سے انہوں نے اس حقیقت کو چھپایا اور اپنے ملازم کو وہاڑی بھیج دیا۔ ظاہر ہے گھر کے کسی بھیدی نے لنکا ڈھا دی اور متعلقہ تھانے میں مخبری کر دی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سعید کو حراست میں لے لیا، تاکہ وہاڑی کے ملازم کا پتہ معلوم کیا جائے اور قانون کے مطابق کا تادیبی کارروائی بھی کی جا سکے۔ لاہور پولیس کے ترجمان نے اپنے اس ایکشن کو قانون کے عین مطابق قرار دیا ہے اور ماریہ بی کے اس ضمن میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اب ہم اس واقعہ سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں کس قدر جہالت اور غفلت موجود ہے۔ پوری دنیا کرونا وائرس کے خطرے سے دوچار ہے، 20ہزار کے قریب جانیں جا چکی ہیں، لاکھوں افراد اس میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں میں پڑے ہیں، خود پاکستان میں صورتِ حال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، کرونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسے میں حکومت جو جتن کر سکتی تھی کر رہی ہے، پورا ملک لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے، جو کچھ بند کرنا حکومت کے اختیار میں تھا، وہ بند کرا دیا ہے، مگر لوگ اب بھی سنجیدہ نہیں، گھروں میں رہنے کی بجائے باہر پھرتے ہیں، کھیل تماشوں میں مصروف ہیں، احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے، نجانے کتنے ہیں، جنہیں یہ علم ہی نہیں کہ انہیں کرونا وائرس لاحق ہو چکا ہے۔ ایسے میں پڑھے لکھے طبقے کو ایک مثال بن کر سامنے آنا چاہیے۔ کم از کم اپنے گھروں کی حد تک انہیں وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ضروری ہے۔ یہ تو مجرمانہ غفلت کی آخری حد ہے کہ آپ کو ایک لیبارٹری رپورٹ سے کنفرم ہو جائے کہ گھر کا کوئی ملازم یا فرد کرونا وائرس میں مبتلا ہے اور آپ اسے قرنطینہ سنٹر یا سرکاری ہسپتال میں بھیجنے کی بجائے سینکڑوں میل دور دوسرے لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لئے کھلا چھوڑ دیں۔ یہ نہ صرف اس کی جان سے دشمنی ہے، بلکہ معاشرے کے لئے بھی ایک خطرناک عمل ہے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ دونوں میاں بیوی اپنی اس غفلت اور عمل پر قوم سے معافی مانگتے اور دوسروں کو تلقین کرتے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے کسی بھی واقعہ کی اطلاع فوراً متعلقہ اداروں کو دیں، مگر اس کی بجائے انہوں نے مظلوم بننے کا راستہ اختیار کیا اور الزامات لگائے…… اگر کسی کو کرونا وائرس ہو گیا ہے تو اس میں شرمندہ ہونے یا چھپانے والی بات کیا ہے؟ کوئی بیماری کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے، اس میں واقعی اس کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کو کرونا وائرس لاحق ہوا اور رپورٹ مثبت آئی تو انہوں نے چھپانے کی بجائے فوراً اپنے وڈیو پیغام کے ذریعے سب کو بتا دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ قرنطنیہ میں چلے گئے ہیں اور الگ تھلگ رہ کر اس کا علاج کرائیں گے۔ کرونا کو چھپانے کے رویے کی وجہ سے بھی یہ وباء بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں تبلیغی جماعت کے کئی افراد میں اس وائرس کی علامات موجود تھیں، مگر وہ ہسپتال نہیں جا رہے تھے۔ دوسرے نمازیوں کی شکایت پر انہیں ہسپتال پہنچایا گیا تو ان کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کرونا وائرس کا اٹلی میں صرف ایک کیس تھا، لیکن وہ کیس نجانے کتنوں میں وائرس منتقل کر چکا تھا، آج وہاں لاشیں سنبھالی نہیں جا رہیں ……لاہور کا واقعہ ایک پیغام ہے کہ کرونا وائرس کا اگر کوئی کیس کسی کے علم میں ہے یا وہ خود اس میں مبتلا ہے تو دیر نہ کرے، بلکہ خود کو سب سے الگ تھلگ کرلے اور فوراً ہسپتال پہنچے یا دیئے گئے نمبروں پر اطلاع دے، صرف اسی طرح ہم اس عالمی وباء کو روک سکیں گے، وگرنہ اٹلی کی طرح ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -