مقبوضہ کشمیر میں مودی کا مواصلاتی لاک ڈاؤن

مقبوضہ کشمیر میں مودی کا مواصلاتی لاک ڈاؤن
مقبوضہ کشمیر میں مودی کا مواصلاتی لاک ڈاؤن

  



خطرناک بیماری کرونا نے جہاں ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہو ا ہے وہاں مقبوضہ کشمیر اس عفریت سے بچ نہیں سکا۔ کشمیری گزشتہ آٹھ ماہ سے مودی کے لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔ مواصلاتی لاک ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے حالات سے ہم بے خبر ہیں۔ ابھی چند رواز قبل یہ انکشاف ہوا ہے کہ کرونا وائرس نے وادی میں بھی اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں مگر مودی سرکار اس سے بالکل بے خبر ہے۔

پاکستان نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کے حوالہ سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بارے تفصیلات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کورونا پھیلاؤ کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن ختم کرے اور وادی میں ضروری سپلائی یقینی بنائے۔وزارت خارجہ میں کرونا کے سلسلے میں خصوصی سیل قائم ہے جو سفارت خانوں سے رابطے میں ہے۔دفتر خارجہ میں چوبیس گھنٹے کی ہیلپ لائن بھی قائم کر دی گئی ہے۔

سرینگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آنے پر انتظامیہ نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر تمام امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔جنوبی ضلع اننت ناگ اور بارہمولہ میں دفعہ 144 نافذکردی گئی۔ پولیس نے ضلع کشتواڑ میں افواہ پھیلانے پر ایک شخص کوگرفتارکر لیا۔جموں میں تمام مذہبی مقامات پر جمع ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس سے قبل جموں اور لداخ میں کورونا وائرس کے مثبت کیس کی تصدیق ہوچکی ہے۔جموں و کشمیر انتظامیہ کے پرنسپل سکریٹری روہت کونسل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر کے خانیار علاقے میں کورونا وائرس کا پہلا کیس مثبت پایا گیا۔ یہ شخص 16 مارچ کو بیرون ملک کا سفر کر کے آیا تھا جس کے بعد انہیں آئسولیشن واڈ میں رکھا گیا۔سرینگر کے ضلعی مجسٹریٹ شاہد اقبال چودھری اور میئر جنید متو نے اپیل کی ہے کہ میں تمام مقامی لوگوں سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ کل صبح سے ہی اپنے گھروں میں رہیں۔پونچھ میں بازار بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کے لیے تمام چوک چوراہوں پر باضابطہ مائک لگا کر اعلانات کرائے جارہے ہیں۔

کشمیر یونیورسٹی میں حکام نے تمام انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امتحانات جبکہ جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے دسویں اور بارہویں جماعت 31 مارچ تک ملتوی کردیئے ہیں۔ سری نگر کے ضلعی مجسٹریٹ شاہد چودھری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’کورونا وائرس کے انفیکشن کے پھیلاو کو روکنے کے لیے سری نگر شہر میں نقل و حمل پر پابندی نافذ کی گئی ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں میڈیکل ٹیمیں تعینات کی گئیں ہیں۔ انتظامیہ نے تمام ضروری انتظامات کر رکھے ہیں۔ براہ کرم گھر پر ہی رہیں۔جبکہ ریجنل ٹرانسپورٹ افسر نے کشمیر کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس کے ساتھ ہی باہر سے پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمد پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے۔وادی میں سڑکوں پر پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

بہر حال مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سرینگر میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے دس مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں شہر میں ملک کے دیگر حصوں اور بیرونی ممالک سے آئے مسافروں کو رکھا جائے گا۔جبکہ لداخ میں تین اور مریضوں کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس سے لداخ میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔سری نگر میں کورونا کا مریض سامنے آنے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

اصل مسئلہ بھارتی سرکار کا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرے تاکہ متاثرہ لوگوں کی مکمل معلومات حاصل کی جاسکے اور ان کو صحت کی سہولیات اور ضروی اشیاء فراہم کی جاسکیں۔ کشمیری مسلسل بنیادی آزادیوں اور حقو ق سے محروم ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران بھارتی مقبوضہ افواج نے اسلام آ باد اور بارہ مولہ کے علاقوں میں 5 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کی بڑی اکثریت نے پوری مقبوضہ وادی سے ہندوستانی سکیورٹی فورسز کے فوری انخلاء اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کواپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دلانے کیلئے فوری طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے 91 فیصدکشمیری مقبوضہ وادی سے ہندوستانی افواج کا فوری انخلاء چاہتے ہیں جبکہ مسلم اکثریتی علاقہ کے80 فیصد رائے دہندگان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے آزادانہ ریفرنڈم کرانیکا مطالبہ کیا ہے۔ آج کرفیو کے باعث وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ بھارت میں کرونا سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ تمام تر احتیاطی تدابیر اور اقدامات کے باوجود کرونا کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وادی میں تعینات کئی فوجی بھی کرونا وائرس کی زد میں آچکے ہیں۔ ان حالات میں ہر طرح کی طبی سمیت تمام سہولیات سے محروم کشمیری کس طرح کرونا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے مضر اثرات سے عوام کے تحفظ کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں عوام کو صحت کی تمام سہولیات بشمول ماسک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔

بھارت کی طرف سے قرار دادوں کو زیادہ وقت گزرنے کے باعث بھی غیر موثر قرار دیا جاتا ہے مگر اس سے اقوامِ متحدہ سمیت کوئی بھی متفق نہیں۔ کل تک وادی میں بھارت کی حامی جو سیاسی قائدین حریت پارٹیوں کے برعکس موقف اختیار کرتے تھے، 5 اگست کے کشمیر کے خصوصی درجے کے خاتمے کے بعد وہ بھی بھارت کو غاصب قرار دے رہے ہیں جس کے باعث عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو پسِ زنداں رکھا گیا ہے۔ اب یہ لوگ اپنے بزرگوں کی طرف سے پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے پلڑے میں وزن ڈالنے کے اقدام پر سر پیٹ رہے ہیں۔

کشمیریوں پر آٹھ ماہ سے جاری پابندیاں فوری طور پر ختم نہ کی گئیں تو مقبوضہ کشمیر میں انسانی بحران مزید بھیانک شکل اختیار کر سکتا ہے اس کا اقوامِ عالم کو ادراک ہونا چاہئے۔ بھارتی لیڈر شپ تو انسانیت کی دشمن ہے۔ بااثر ممالک کو انسانی ہمدردی کی بنا پر مظلوم مقہور اور محصور کشمیریوں کی مدد کو اتنی دیر ہونے سے قبل آنا ہو گا کہ آخری کشمیری بھی بھارتی مظالم کے ساتھ کرونا وائرس کی زد میں آ جائے۔

مزید : رائے /کالم