انسانیت، اسلام اور کرونا وائرس کی جنگ

انسانیت، اسلام اور کرونا وائرس کی جنگ
 انسانیت، اسلام اور کرونا وائرس کی جنگ

  



630 ہجری کا زمانہ تھا۔ حضرت جبرائیل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آقائے نامدار، احمدِ مجتبیٰ، تاجدارِ مدینہ، محسنِ انسانیت، حضرت محمد ﷺ کے پاس تشریف لاتے ہیں، آپ ﷺ کو رومن اور بازنطینی سلطنت کی طرف سے ریاستِ مدینہ کے خلاف ان کی فوجی تیاریوں سے آگاہ کرتے ہیں اور رومن ایمپائر کی ریاست مدینہ کے خلاف جنگی تیاریوں کا مقابلہ کرنے اور مسلمانوں کو اس کے لئے تیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

مدینہ کے معاشی، معاشرتی اور اقتصادی حالات کا عالم یہ تھا کہ ہر طرف قحط سالی اور خشک سالی عروج پر تھی۔ معاشی اور اقتصادی حوالے سے کساد بازاری نے آکاس بیل کی طرح ریاستِ مدینہ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔ کاروبار سے لے کر گھروں کے چولہوں تک مندی کا عالم تھا۔ اِن حالات میں محسنِ انسانیت حضرت محمد ﷺ نے مسلمانوں اور خصوصاً مخیر اور مالدار حضرات سے اللہ کی راہ میں مالی قربانی دینے کا اعلان کیا۔ اعلان کرنے کی دیر تھی کہ مسلمانوں نے ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اشیاء و اموال بارگاہِ رسالت ﷺ میں نچھاور کرنا شروع کر دیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے گھر کا سارا سامان اور جائیداد نبی پاکﷺ کے قدموں میں لا کر ڈال دیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے گھر اور مال کا آدھا حصہ اللہ کی راہ میں دے دیا۔ حضرت عثمانؓ نے دمشق روانگی کے لئے اپنا کاروان تیار کر رکھا تھا جس میں تین سو اونٹ اور پچاس گھوڑے ساز و سامان سے لدے ہوئے تھے۔ آپؓ نے وہ تمام تجارتی سامان، اونٹ اور گھوڑوں کے ساتھ ساتھ ایک ہزار سونے کی اشرفیاں بھی بارگاہِ رسالت میں نچھاور کر دیں۔

مسلمانوں کی اللہ کی راہ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جدوجہد میں ایک انتہائی غریب صحابی حضرت ابو عاقل ؓ ہچکچاتے ہوئے محسنِ انسانیت ﷺ کے دربار میں آئے اور آنسوؤں سے نم آنکھوں سے تاجدارِ مدینہﷺ کا چہرہ مبارک دیکھتے ہوئے فرمانے لگے…… ''یا ر سول اللہ ﷺ! میں مالدار تو نہیں ہوں، صاحبِ حیثیت بھی نہیں ہوں، دھن دولت سے مزین بھی نہیں ہوں، لیکن آپ ﷺ کا اُمتی ہوں، آپﷺ کا چاہنے والا ہوں، آپﷺ سے محبت اور الفت کا دعویدار ہوں۔ میرے پاس صرف دو کھجوریں تھیں۔ ایک اپنے گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں اور ایک اللہ کی راہ میں آپﷺ کی بارگاہ میں پیش کر رہا ہوں ''۔

تاریخ کے صفحات سے آگاہی ملتی ہے کہ اس وقت تاجدارِ مدینہ اور سرورِ قلب و سینہ محمدِ مصطفٰیﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپﷺ نے حکم دیا کہ حضرت ابو عاقلؓ کی دی ہوئی کھجور سونے، چاندی، اشرفیوں اور مال و اسباب کے اوپر رکھ دی جائے اور پھر فرمایا: …… ''یہ ایک کھجوراللہ اور اُس کے رسول ﷺکی نظروں میں اِس مال و اسباب اور سونا چاندی کے ڈھیر سے زیادہ وزن اور حیثیت رکھتی ہے''۔

یہ ہے انسانیت کا دکھ……!!! یہ ہے اسلام ……!!! یہ ہے مخلوق ِخدا کے لئے اللہ کی راہ میں نفاق فی سبیل اللہ……!!! یہ ہے اپنے ملک، معاشرے اور ریاست کو بچانے کے لئے انسان دوستی پر مبنی رویہ اور عمل……!!! یہ ہے اپنے آپ اور اپنے معاشرے کی حفاظت کے لئے اپنی قیادت کی اطاعت کا جذبہ……!!!

22 کروڑ پاکستانیوں ……!!! آج ہم پر کرونا وائرس کی صورت میں آنے والی آزمائش پاکستان کے معاشی در و دیوار کو ہلانے والی ہے۔ ایسے موقع پر ہم پاکستانیوں کا امتحان ہے۔ کیا ہم رحمان کے راستے پر چلیں گے یا شیطان کا راستہ اختیار کریں گے!!! جب کرۂ ارض پر انسانی معاشرے زلزلوں، وباؤں اور دیکھے ان دیکھے دشمن کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتے ہیں تو انسان کے اندر رحمان کی اوصاف قربانی، ایثار، انفاق فی سبیل اللہ، صدقہ، خیرات، زکوٰۃ اورغریب، بے حال اور بدحال انسان کے احترام کی صورت میں ابھر کر سامنے آتا ہے۔ دوسری طرف انہی حالات میں شیطانیت انسانوں کے اندر ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، معاشی فرعونیت اور اقتصادی نمرودیت کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ آج پاکستان کرونا وائرس کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ اس کرونا وائرس نے بڑی بڑی سپر پاورز اور عالمی اقتصادی طاقتوں کی معیشتوں کی ہوا نکال کر رکھ دی ہے۔ ہم تو ایک ترقی پذیر ملک ہیں۔ ہمارے ملک کی معیشت نے پچھلے چالیس سالوں میں عموماً اور پچھلے دس سالوں میں خصوصاً خسارے اور بدحالی کے جو دھکے کھائے تھے، اسے بڑی مشکل سے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں بحالی اور بہتری کی راہ پر گامزن کیا گیا، لیکن اب یہ کرونا وائرس وزیرِ اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی اقتصادی ترقی کی جدوجہد پر آزمائش بن گیا ہے۔

آج پاکستان کے ہر شہری کا امتحان ہے کہ اس نے پاکستان کی سا لمیت، بقا اور استحکام کے لئے اور کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں رحمٰن کے اوصاف سے مزین ہونا ہے……یا پھر …… شیطان کی رذیل اور غلیظ عادات کو اپنانا ہے……!!!

1965ء کی جنگ کا واقعہ ہے۔ چونڈہ کی سر زمین پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان مکینیکل ہاتھیوں یعنی ٹینکوں کی خوفناک جنگ جاری تھی۔ ایسے ماحول میں آٹھ سال کی عمر کے دو بچے دن دیہاڑے بھاگتے ہوئے چونڈہ کے میدان جنگ کی طرف رواں دواں تھے……!!! راستے میں ایک چیک پوسٹ پر پاکستانی فوج کے سپاہی نے انہیں روکا تو انہوں نے اصرار اور تکرار کی کہ ہمیں اپنے آفیسر سے ملوایا جائے۔ بچوں کے بے تحاشا اصرار اور ضد پر فوجی اہلکار انہیں اپنے کمانڈر کے خیمے میں لے گئے۔ کمانڈر نے بچوں کو ڈانٹتے ہوئے تنبیہہ کی کہ آگے ٹینکوں کی جنگ کا ماحول گرم ہے۔ آپ لوگ ادھر کیا کر رہے ہو؟ جاؤ اور اپنے والدین کے ساتھ اپنے گھروں میں محفوظ ہو کر رہو……!!!

ان میں سے ایک بچہ بولا:…… ''سر ہم نے اپنے والدین سے سنا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم میں جرمن سپاہی اپنے دشمنوں کے ٹینکوں کے سامنے اپنے سینوں پر بم باندھ کر لیٹ جاتے تھے اور ان کے ٹینکوں کو تباہ و برباد کر دیتے تھے۔ سر! ہم دونوں بھی اسی مقصد کے لئے آئے ہیں۔ انڈیا نے ہماری پاک سر زمین پر ناپاک نظر ڈالی ہے۔ ہم اپنے وطن کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ آپ ہمارے سینوں پر بم باندھیں۔ ہم انڈین ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر انہیں تباہ و برباد کر دیں گے''۔

پاک فوج کے کمانڈر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے بچوں کو چومتے ہوئے کہا: …… ''جس جرات مند قوم کے بچے اتنے دلیر اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوں گے، اسے دنیا کی کوئی طاقت ہرا، دبا اور مٹا نہیں سکتی''، اور ان بچوں کو عزت و احترام سے واپس گھر بھیج دیا۔

آج کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں 22کروڑ پاکستانیوں نے صحابہ کرامؓ، اولیائے کرام، مشائخ عظام اور رحمٰن دوست جذبے کا ثبوت دیتے ہوئے بھائی چارے، اخوت، دیانت، ایثار، قربانی اور یکجہتی کے اوصاف اختیار کرنے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدانوں، حکمرانوں، قلم اور صحافت کے میدان کے ترجمانوں، مالدار و مخیر انسانوں اور منبرِ رسول کے سکہ بانوں سمیت ہر شعبہ زندگی کے اربابِ بست و کشاد نے مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے عوام کی صحیح رہنمائی کرنی ہے……!!!

پاکستان کے مخیر، مالدار اور صاحبِ ثروت افراد کے لئے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں صحابہ کرامؓ اور حق چار یار کا رویہ مشعلِ راہ ہے اور پاکستان کی غریب عوام کے لئے حضرت ابو عاقل ؓکا جذبہ اور مقدس عمل قابلِ توجہ ہے۔ جبکہ اپنے ملک اور معاشرے کو بچانے کے لئے چونڈہ کے بچوں کا جذبہ حُب الوطنی سے لبریز اور ممریز عمل اور رویہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں بائیس کروڑ پاکستانیوں کے لئے مشعلِ راہ ہے……!!!

آخری بات……!!! کرونا وائرس کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے سیاستدان پوائنٹ سکورنگ والا روایتی رویہ اور لب و لہجہ، میڈیا خبروں کی سراسیمگی اور ریٹنگ کی دوڑ اور تاجر اور کاروباری افراد ناجائز منافع کی بھاگ دوڑ سے مکمل قطع تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا جھنڈا ہاتھ میں لے کر ''جگ جگ جیوے پاکستان، راج دولارا پاکستان، آنکھ کا تارا پاکستان، اول و آخر پاکستان، سب سے پہلے پاکستان اور جان سے پیارا پاکستان'' کا نعرہ لگاتے ہوئے میدانِ عمل میں نکل آئیں ……!!!

مزید : رائے /کالم