سوشل میڈیا اور کورونا وائرس

سوشل میڈیا اور کورونا وائرس
سوشل میڈیا اور کورونا وائرس

  



قلم کی حرمت اور تقدس کا حق صرف اسی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے جب سچائی اور حقائق کو ذمہ داری کے ساتھ بیان کیا جائے۔‏ قلم کی طاقت تلوار سے بڑھ کر ہے۔ تلوار کےزریعے حکمرانوں نےملکوں اور علاقوں کو مسخر کیا لیکن قلم دلوں اور روحوں کو مسخر کرتا ہے۔ یہ لوگوں کے دل اور دماغ میں انقلاب لاتا ہے تلوار کی فتوحات عارضی ہوتی ہیں لیکن قلم کی فتوحات لا زوال ہیں۔ صاحب قلم زندہ جاوید ہوتے ہیں۔

آج ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے سیکنڈوں میں دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا کا مقصد رابطوں کو فروغ دینا تھا۔ لیکن لوگوں نے اسکے مقاصد کو نظر انداز کیا یوں معاشرے میں بہت سی اخلاقی و سماجی خرابیوں نے فروغ پایا اور ایسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اورمکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے اور باہمی انتشار اور خلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔ معاشرے میں بیشتر افراد اسے لوگوں کو بدنام کرنے کیلئے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، تصاویر اور خاکوں میں ردوبدل جیسے طریقوں کے ذریعے غلط استعمال کر رہے ہیں۔ لہزا سوشل میڈیا پر کسی قسم کی کوئی روک تھام کا نظام موجود نہیں، ہر شخص اچھی بری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے۔ کوئی شخص بلاروک ٹوک کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پرکیچڑ اچھال سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مخالفین کیخلاف پروپیگنڈے کی مکمل آزادی کی وجہ سے معاشرے میں انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کرونا وائرس جیسے موذی مرض کے بارے میں جعلی خبروں اور غلط معلومات کو روکنے کیلئے فیس بک حکام نے ایسی تمام جعلی پوسٹوں کو ہٹانا شروع کر دیا ہے جس میں لوگوں کو خطرناک مشورے دیے گئے ہیں۔ فیس بک پر ایسی پوسٹس بھی سامنے آئی ہیں جن میں کرونا وائرس سے بچنے کیلئے کیمیکل (بلیچ) پینے کے مشورے بھی دیئے گئے ہیں۔فیس بک انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے حساس معاملے پر اب انتہائی چھان پھٹک کے بعد ایسی پوسٹس کو ہی جگہ دی جائے گی جو گلوبل اور مقامی صحت انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونگی۔

میری نظر میں آج کے دور میں سوشل میڈیا کی مثال کچھ یوں ہے کہ جب آپ پانی میں کنکر پھینکتے ہیں تو اس سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے، اک لامتناہی اثر ، آپ کنکر تو پھینک دیتے ہیں مگر اس ارتعاش سے پیدا ہونے والے دائرے کی وسعت سے قطعی واقف نہیں ہوتے۔اسی طرح وبائی امراض کی موجودہ صورتحال میں  میں یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ سوشل میڈیا کو‏کس طرح استعمال کرتے ہیں ۔آپ معلوماتی اور مثبت گفتگو سے آگاہی اور امید کا باعث بنتے ہیں یا محض لوگوں کے منفی رویہ پر تنقید براۓ تنقید سے فضا کو مزید منفیت اور نفرت پھیلانے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔آپ کے الفاظ ہی آپ کے سچ اور آپ کے جھوٹ اور کردار کا عکس ہوتے ہیں.موضوع اور جہت کا انتخاب طے کریگا کہ آپ نے کنکر پانی میں پھینکا یا کیچڑ میں، ارتعاش سطح کو صاف کریگا یا کثافت میں اضافہ، فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔

”اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔“

[9-التوبۃ:119]

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ