قلم کی طاقت ... آزادیء صحافت

قلم کی طاقت ... آزادیء صحافت
قلم کی طاقت ... آزادیء صحافت

  



تحریر: ڈاکٹر طارق عزیز

آزاد میڈیا اور آزاد صحافت اس دور میں غریب، بے بس، مظلوم اور لاچار انسان کی آواز ہے، اس سے پہلے بھی بندشوں کے باوجود سلاخوں کے  پیچھے رہتے ہوۓ صحافیوں نے اپنے قلم کے ذریعے اس مظلوم  طبقے کی آواز کو دبنے نہیں دیا. قلم میں تلوار  سے بھی زیادہ طاقت ھے، قلم سچے صحافی کی سب سے بڑی دولت ہے اور صحافی  اسکا امین ہے. 

اس کرہ ارض پر بہت سے قلمکاروں نے قلم کے ذریعے انسانیت کی خدمت کی ہے اور انسان کو قلم نے ہی تہذیب و تمدن اور جدید علم سے آراستہ کیا ہے، علم و ادب کی یہ امانت قلم بہ قلم دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچی اور ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ کو قلم نے ہی محفوظ کیا، دلوں میں آگہی کے چراغ جلاۓ، عقل ودانش کو جلا بخشی اور فکروفن کی مشعلیں روشن کیں. 

قلم کسی بھی ملک، کسی بھی زبان یا کسی بھی جاگیردار، ڈکٹیٹر اور حکمران کی جاگیر نہیں کہ جب چاہا جس وقت چاہا اس پر قدغن لگا دے اور اس کے قلم کو خریدنے کی کوشش کرے، سچے صحافی کا قلم ٹوٹ تو سکتا ہے لیکن بک نہیں سکتا اور وہ اس قلم کیلئے جان دینے سے بھی گریز نہیں کرسکتا، دنیا میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں.

صحافی کی قلمُ رو میں کائنات ہے، اگر یہ عظیم قوت کسی ایسے ظالم جابر  کے ہاتھ میں ہو جو کہتا کچھ ہو اور کرتا کچھ ہو تو وہ قومیں اور سلطنتیں، شہر اور ملک اندھیروں، ویرانوں میں چلے جاتے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن ہوجاتی ہے اور قلم اپنی بے بسی پر روتا ہے. 

دنیا میں ایسے لمحات بھی آۓ جب قلم کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ تھا لیکن قلم کی آزادی اور حرمت کو اس دور میں صحافی نے  اپنا خون دے کر اپنا فرض منصبی پورا کیا اور قلم کے آنسو پونچھے اور دنیا کی اس زہر آلود فضا میں اسکا نغمہ ہر پسے ہوۓ طبقے کیلئے بلند کیا، یہی نغمہ حسن اور زندگی کا پیغام بن کر گونجا، جب بھی دنیا میں جہل کی تاریکی چھائی ،انسانیت اور انسان کے حقوق کی پامالی ہوئی تو صحافی کے قلم نے علم و عقل کی شمع روشن کی کیونکہ قلم کے سفیروں کا کلمہ ایک ہے، 

انسانیت کی فتح ، دوستی محبت اور بھائی چارہ کا نغمہ بلبل امن اور یگانگت کا نغمہ،  اصول پرستی اور  آزادی کا نغمہ، غریب اور دہقان کی آزادی کا نغمہ ،عورتوں اور بچوں کی حفاظت کا نغمہ، شہیدوں کے خون اور ارض پاک کی بہاروں سے وفا کا نغمہ، آج اس نغمہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ طاقتور اپنی طاقت کے نشے میں ان نغموں پر ضرب کاری کر رہا ہے اور ظالم و جابر ہوتا جا رہا ہے، دنیا میں ہر جگہ موت کا خوف طاری ہے اور بعض ملکوں اور نام نہاد  رہبروں کی آنکھوں میں خودغرضی ، کرسی کی ہوس  خود پسندی اور طمع حرص و لالچ کی پٹیاں بندھی ہوئی ہیں اور ہمارے ملک میں ایک بار پھر تنگ نظری  اور انا  نے سر اٹھایا ہے اور حق پر ضرب کاری کی ہے تاکہ ان کے کیے کا ادراک نا ہو سکے اور جو بھی جی میں آۓ ملک اور اس کے باشندوں کے ساتھ  کھلواڑ کرتا رہے، کوئی روکنے والا نا ہو لیکن آج کے اس دور میں کہیں نا کہیں سے سچ کی آواز ضرور اٹھے گی اور کوئی نا کوئی حق کا پرچم  ہاتھ میں تھامے رکھے گا کیونکہ سچ کبھی مرتا نہیں اور ظلم و نا حق کو مٹ جانا ہے. 

کوئی بھی بھیانک اندھیرا وقتی طور پر روشنی پر غالب آتا ہے لیکن جیت آخر کار روشنی کی ہوتی ہے جو تمام اندھیروں پر غالب آجاتی ہے چاہے وہ ایک کرن ہی کیوں نا ہو، اب ضرورت ہے ایسی روشنی کو دنیا اور ملک کے کونے کونے میں پھیلایا جاۓ. 

آج کے اس دور میں صحافی، ادیب اور قلم کار کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے، قلم اور صحافت کی آزادی ناصرف شہروں اور دیہاتوں میں مزدوروں اور کسانوں پر ہونے والے ظلم کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ ملک کے اندرونی و بیرونی اور امن کو خراب کرنے اور انتشار پھیلانے والوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے اس لئے آزاد صحافت اس وقت کے لئے نا گزیر ہے، صحافی کا قلم ہی اس تمام اندرونی و بیرونی ماحول کی تصویر کشی کر سکتا ہے بلکہ وہ اندھیرے سے بھی نورکشید کر سکتا ہے. 

قلم نواۓ سروش کا ترجمان ہے، قلم حقیقت بیان کرتا ہے بشارت دیتا ہے نئی صبح کی نئے زمانے کی اور نئی زبان بخشتا ہے، قلم نئی نسل کو  توانائی بخشتا ہے، نئے قدموں کو اور قافلوں کو رواں دواں کرتا ہے، لا شعور کو شعور دیتا ہے، انسان کی نفسیاتی کیفیت کا مطالعہ کرتا ہے اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنا سیکھاتا ہے، آج قلمکار کا فرض بنتا ہے کہ قلمکار اپنے وعدہ اور قلم کا پاس کرتے ہوۓ اپنے اس فریضہ کو پورا کرے، قوم اور افراد کے باطن کی عقدہ کشائی کرے اور اپنے لیۓ نہیں بلکہ ملک و قوم کے لیۓ  ، متوسط طبقے، غریب اور نادار کے حقوق کی اہمیت پر زور دے، حق و سچ کے لئے قلم کا استعمال کرے تاکہ ظلم کی بھٹی ٹھنڈی ہو اور  عدل و انصاف کی شمع روشن ہو اور یہ عمل صحافی کے لئے باعثِ اطمینان ہوگا۔

آزادی صحافت میں حقوق کی ضمانت ہے اور اسی میں ملک اور قوم کی بقا ہے، صحافی کو اس میدان میں نفع نہیں بلکہ نقصان، صلہ و تحسین نہیں بلکہ نفرت، عیش کے پھول نہیں بلکہ خلش و اضطراب کے کانٹے ملتے ہیں اسکے باوجود ایک صحافی اپنے عقیدے اور مقصد سے دور نہیں ہٹتا کیونکہ عقیدے کے بغیر صحافت محض دوکانداری ہے. صحافت بلا شبہ عقیدہ و مقصد کا دوسرا نام ہے اور اسکا اصولی مقصد عوام کی ذہنی، سماجی، اقتصادی اور اخلاقی آبیاری ہے، صحافت کی بنیاد ایثار و قربانی، محنت و مشقت، جاں سوزی، اصول پسندی اور مقصدیت کی اینٹوں پر کھڑی ہے جسے کوئی بھی طاقت نا خرید سکتی ہے اور نا گرا سکتی ہے.

لوگوں ہی پہ ہم نے جاں واری

کی ہم نے ہی ان کی غم خواری

ہوتے ہیں تو ہوں ہاتھ  قلم

شاعر نا بنیں گے درباری

اور

ترے قلم کی حرمت قائم رہے ہمیشہ

جھوٹی حکایتوں سے اس کو بچائے رکھنا

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ