کورونا وائرس اور پڑھے لکھے جاہل

کورونا وائرس اور پڑھے لکھے جاہل
کورونا وائرس اور پڑھے لکھے جاہل

  

‏دیکھا گیا ہے پرانے دور میں مائیں بہت زیادہ مصروف رہتی تھیں اور اس دور میں بچے بھی ماؤں کی ہی ذمہ داری ہوا کرتے تھے والد صاحب کے ذمے پورے گھر کا نان نفقہ ہوتا تھا جس میں ان کے تایا چچا کے بچے بھی ہوتے تھے جو محنت مزدوری کے لیے ان کے ہاں رہتے تھے تو ایسے میں بچوں کے دادا وہ واحد شخص ہوتے جو گھر کی بہو کے لیے رحمت ہوتے تھے جو تھوڑی دیر کے لیے سب بچوں کو باہر لے جاتے تھے چونکہ اس دور کے بہن بھائی میں سال دو سال کا فرق ہوتا تھا تو ناسمجھ اور آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے ان میں بلا کی لڑائیاں دیکھنے کو ملتی تھیں۔

اماں بےچاری گھر کے بڑے کچے صحن کی صفائی میں دن گھس دیتیں اس کے علاوہ آگ پہ جلنے والے پتیلے کُھرے میں مانجھنے ہوتے تھے اس دور میں فیملی کا کوئی تصور نہ تھا اس دور میں ٹَبر ہوا کرتے تھے جن کے لیے مٹی کے تندور پر پچاس پچاس روٹیاں بنا کرتی تھیں چونکہ اس دور میں دینی تعلیم کا زیادہ رواج نہیں تھا اور اکثر اس دور کی خواتین یہ بھی کہتی ہیں کہ طارق جمیل صاحب کے بیان بھی نہیں سنے تھے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ساس سسر بہو کی ذمہ داری نہیں ہیں تو بےچاری بہوؤں کو سارے خاندان کی ذمہ داری اپنے بچوں کی تربیت سمیت اٹھانی پڑتی تھی۔

 آج کے دور میں خواتین کے لئے بہت آسانیاں ہو چکی ہیں بچے ماں کے ساتھ ساتھ باپ کی بھی ذمہ داری قرار دئیے جا چکے ہیں نارمل سے گھر ہوتے ہیں پکانے کے لیے چولہے میسر ہیں کوئی فالتو ذمہ داری بھی نہیں ہے اچھا کمانے والوں کے گھر ہر کام کی الگ الگ ماسی بھی دیکھی جا سکتی ہے بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے بہت سے کارٹون چینلز میسر ہیں زیادہ تنگ کریں تو گیم کھیلنے کے لئے اسمارٹ-فون پکڑا دیئے جاتے ہیں تو ایسے میں اگر ایک خطرناک بیماری کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاون کا سلسلہ چل رہا ہے تو ایسی ماؤں کا بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے والا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

آپ کے بچے آپ کی ذمہ داری ہیں پولیس یا محلے کے لوگوں کی نہیں اگر آپ خود کو ایجوکیٹڈ لوگوں میں گنتی ہیں تو پھر آپ اپنے بچوں کو کھیلنے کے لیے گراؤنڈ یا گلی میں بھیج کر دراصل پڑھے لکھے جاہلوں والا تاثر دے رہی ہیں بچے کی تکلیف کا سب سے زیادہ دکھ ماؤں کو ہوتا ہے باپ بھی وہ تکلیف محسوس کرتے ہیں مگر ماں جتنی نہیں تو ایسے میں اگر خدانخواستہ آپ کا بچہ اس شدید بیماری کا شکار ہو جاتا ہے تو کوسنے کے لیے آپ کے پاس حکومت تو موجود رہے گی مگر کھیلنے کودنے والا ہنستا بستا آپ کا بچہ اس بیماری کا شکار ہو کر سروائیو نہیں کر پائے گا اور اگر وہ بچہ سروائیو کر بھی جاتا ہے تو گھر کے بزرگ اور باقی لوگوں تک یہ وائرس پہنچنے کے امکانات لازم ہیں اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر انہیں محفوظ رکھنے کی کوشش کریں تاکہ آپ باشعور قوم اور عوام میں گنی جا سکیں.شکریہ

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -