طالبان نے سکول نہ کھولے تو انہیں تسلیم نہیں کریں گے، اقوام متحدہ 

طالبان نے سکول نہ کھولے تو انہیں تسلیم نہیں کریں گے، اقوام متحدہ 

  

واشنگٹن، دو حہ، کابل (نیوز ایجنسیاں) امریکا اور اقوام متحدہ نے افغان طالبان کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھولنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں عالمی سطح پر شناخت کے حصول اور افغان معیشت کی تعمیر نو کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ اگر طالبان نے یہ فیصلہ اگر فوری طور پر واپس نہ لیا تو افغان عوام کے ساتھ ساتھ ملک کی اقتصادی ترقی کے امکانات اور بین الاقوامی برادری کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے طالبان کے عزائم کو گہرا نقصان پہنچے گا۔دریں اثناء اقوام متحدہ میں طالبان کے نامزد سفیر سہیل شاہین نے عالمی برادری کو یقین دلایاہے کہ یہ تاخیر تکنیکی وجوہات کی وجہ سے ہو رہی ہے۔انہوں نے امریکا کے ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں لڑکیوں پر پابندی لگانے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ صرف لڑکیوں کے سکول یونیفارم کے بارے میں فیصلہ کرنیکا ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔دریں اثناء امریکا سمیت چھ مغربی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں طالبان تحریک سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں لڑکیوں کے ہائی سکولوں کی بندش کا فیصلہ "واپس" لے۔امریکا، برطانیہ، فرانس، اطالیہ، کینیڈا اور ناروے کی طرف سے یہ بیان گزشتہ روز جاری کیا گیا۔ علاوہ ازیں بیان میں یورپی یونین کے اعلی نمائندے کا موقف بھی شامل ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ طالبان تحریک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فیصلے کو فوری طورپر واپس لے جس کے تحت افغانستان میں لڑکیوں کیلئے ہائی (انٹرمیڈیٹ) سکولوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ طالبان عالمی برادری کے بیچ محترم مقام حاصل نہیں کر سکیں گے۔بیان کے مطابق ہر افغان شہری خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہر سطح پر تعلیم حاصل کرنے کا برابر حق رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ 

مزید :

صفحہ آخر -