حکومت کب تک راہ فرار اختیار کریگی، عدم اعتماد کا سامنا کرنا ہی پڑے گا، مسلم لیگ (ن) 

حکومت کب تک راہ فرار اختیار کریگی، عدم اعتماد کا سامنا کرنا ہی پڑے گا، مسلم ...

  

 اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہحکومت کب تک راہ  فرار اختیار کرئے گی، آخر ان کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا،حکومت کوعبرت ناک شکست ہوگی، جن ارکان اسمبلی سے ہم نے رابطہ کیا ہے،کسی نے دباؤکی شکایت نہیں کی،پر امن احتجاج ہمارا حق ہے ضرور استعمال کرینگے،سپیکر کو تحریک عدم اعتماد لینی چاہیے تھی،روایت کو آئین و قانون پر فوقیت نہیں، اگراجلاس لمبے عرصے کیلئے ملتوی کیا جاتا ہے تو مسئلہ ہوتا، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی اگلی منزل اڈیالا جیل ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اگراجلاس لمبے عرصے کیلئے ملتوی کیا جاتا ہے تو مسئلہ ہوتا۔ میڈیا سے بات چیت کے دور ان صحافی نے سوال کیا کہ تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی جاتی تو اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا جس پر انہوں نے کہاکہ ہمیں پوری امید ہے سپیکر ہاؤس کو ملتوی کر دیں گے۔ اگر اگلے دن تک جلاس ملتوی کیا جاتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے،سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہاہے کہ پر امن احتجاج ہمارا حق ہے ضرور استعمال کرینگے، رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ جن ارکان اسمبلی سے ہم نے رابطہ کیا ہے کسی کوکوئی دباؤکی شکایت نہیں کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے،انہوں نے کہاکہ عمران خان کے پاس کوئی سرپرائز نہیں، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی اگلی منزل اڈیالا جیل ہے۔خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ حکومت پر امید نہیں، خالی بڑھکیں ہیں، خرم دستگیر خان نے کہاکہ اپوزیشن ارکان مکمل طورپر تیار ہوکرحاضر ہوئے تھے، علی وزیر بھی پیر کے روز اجلاس میں موجود ہونگے۔مریم اور نگزیب نے کہاکہ پیرسے عدم اعتماد کی تحریک پرعمل شروع ہوگا، تحریک کے کامیاب ہونے کیلئے مکمل پرامید ہیں۔احسن اقبال نے کہاہے کہ حکومت نے آج تحریک عدم اعتماد پر راہ فراراختیار کی ہے حکومت کب تک راہ فرار اختیار کرئے گی آخر ان کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا،حکومت کوعبرت ناک شکست ہوگی۔جمعہ کوقومی اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنمااحسن اقبال نے کہاکہ روایات کو آئین و قانو ن پر فوقیت نہیں دی جاسکتی ہے،اب پیرکو تحریک عدم اعتماد پیش ہوگی اور حکومت کو عبرت ناک شکست ہوگی آج قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان کے چہروں پر ہی تحریک عدم اعتمادکانتیجہ نظر آرہاتھا۔

مسلم لیگ (ن)

مزید :

صفحہ آخر -