وہاڑی:اراضی تنازعہ کیس کا فیصلہ،24سے زائد افراد بری

وہاڑی:اراضی تنازعہ کیس کا فیصلہ،24سے زائد افراد بری

  

وہاڑی /بوریوالہ(کورٹ رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج فرسٹ محمد یونس عزیز نے تھانہ صدر بوریوالہ کے مشہور زمین کے تنازعہ پر دو افراد  قتل اور دورانِ قبضہ لڑائی میں مضروب ہونے والے افراد کے  الزام میں دونوں فریقین کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمہ کے ملزمان کے کیس کی سماعت کرکے فیصلہ سنا دیا دونوں فریقین کے دودرجن کے قریب ملزمان کو بری کردیا۔ تفصیل کے مطابق تھانہ صدر بوریوالہ پولیس نے چک نمبر 527/E.B کے محمد صدیق ولد محمد علی کمبوہ کی مدعیت میں مورخہ 13-11-2011کو بجرم (بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

302,324,148,149ت،پ کے تحت مقدمہ رجسٹر کیا کہ آج ساڑھے دس بجے دن اپنے چچا منظور احمد کے رقبہ واقع چکنمبر 525/E.Bبوریوالہ دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ کھیتوں میں کام کررہے تھے کہ اسی دوران ملزمان سہیل اختر، محمود اختر، جاوید، مقصود وغیرہ  سکنہ 525/E.Bان کے ہمراہ دیگر ملزمان محمد عاشق،عمران وغیرہ سکنہ 527/E.Bمسلح آتشی اسلحہ،ڈنڈوں اور سوٹوں سمیت 16ملزمان آگئے اور للکارا کہ آج انکو مقدمہ بازی کا مزہ چکھادو اور فائرنگ کرکے محمد شریف اور محمد اسلم کو قتل کردیاجبکہ دیگر کو مضروب کردیا۔ جبکہ پولیس نے دوسرے فریق کے مدعی سہیل اختر ولد حبیب کمبوہ سکنہ 525/E.B کی مدعیت میں مورخہ 13-11-11مقدمہ نمبر 449/11زیر دفعہ 302/324میں کراس ورشن زیردفعہ 337LII,A1,A2,A3,337F1,F2,F3,F4,F5,F6,148,149  درج کی کہ میں نے مربع نمبر 46 بارہ ایکڑ سرکاری زمین عبدالمجید ولد مہنگا رحمانی سے عرصہ پانچ سال کے لیے پٹہ پر حاصل کی اور اسکا  قبضہ بذریعہ محکمہ مال اور پولیس کے ذریعے حاصل کررکھا تھا  مگر دوسرے فریق کے مسلسل قبضہ حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتے آرہے تھے۔ جس پر میں نے عدالتِ عالیہ سمیت ہائی کورٹ سے  حکم امتناعی حاصل کررکھا تھا۔ کہ وقوعہ کے روز محمد صدیق ولد محمد علی، محمد ریاض ولد محمد علی، منظور حسین وغیرہ  22 افرادمرد عورتوں سمیت قبضہ لینے کے لیے مسلح آتشی اسلحہ،ڈنڈوں اور سوٹوں سمیت آ گئے۔  اور ہم پر حملہ آور ہوکر ہمارے افراد کو شدید زخمی کردیا تھا۔ مقدمہ کے ملزمان میں بوریوالہ بار کے سینئرایڈووکیٹ جس میں چوہدری مقصود احمد ایڈووکیٹ اور PTI کے موجودہ ایم پی اے چوہدری اعجاز سلطان بندیشہ بھی نامزد تھے۔ تفتیش مکمل کرکے فاضل عدالت بھجوا دی۔ جس میں پولیس انکوائریوں میں ایف آئی آر میں فریق اول کا موقف میں تضادثابت ہونے پر فریق دوم کے ملزمان کو بیگناہ کردیا۔جبکہ دوسرے فریق کے مدعی کی کراس ورشن درست ثابت ہونے پر فریق اول کے خلاف چالان پیش کردیا۔ جس پر مقتول محمد اسلم کی ہمشیرہ مسما بہشتاں بی بی دختر اللہ دتہ نے ایف آئی آر خارج ہونے پر فاضل عدالت دوسرے فریق کے ملزمان کے خلاف استغاثہ دائر کر رکھا تھا۔تاہم فاضل عدالت نے پولیس انکوائریوں، حملہ آور پارٹی اور  جائے موقعہ میں تضاد ثابت ہونے، وقوعہ پر زخمی ہونے والے افراد کی موثر شہادت نہ دینے،اور دونو ں جانب سے ہونے والی اندھادھند فائرنگ سے قتل اور زخمی کرنے والے افراد کا تعین نہ ہو نے پر دونو ں فریقین کے ملزمان کو بری کر دیا۔ کراس ورشن فریق کے مقدمہ کی پیروی بار کے سنیئروکیل چوہدری محمود اختر گھمن ایڈووکیٹ نے کی۔ بری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -