تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری روایات پر عمل کریں 

 تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری روایات پر عمل کریں 

  

اپوزیشن کی طرف سے دی گئی ریکوزیشن کے بعد25 مارچ کو طلب کیا گیا اجلاس ایجنڈے پر کارروائی کیے بغیر ملتوی کر دیا گیا۔ اس اجلاس کے لیے جو ایجنڈا جاری کیا گیا تھا اُس میں تحریک عدم اعتماد کا معاملہ بھی شامل تھا، تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کی روایات کے مطابق ایک رکن اسمبلی خیال زمان کی وفات کے باعث اور اِس دوران دنیا سے رخصت ہونے والی دیگر شخصیات،  بشمول سانحہ پشاور کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کے بعد اجلاس28مارچ بروز پیر تک ملتوی کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ اور سابقہ اسمبلیوں میں یہ روایت ہمیشہ برقرار رہی ہے۔اپوزیشن نے اس پر کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا، تاہم پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زردری نے اسے غیر جمہوری رویہ قرار دیا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سپیکر اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیں گے،ایسا ہوتا تو ایک بڑے ہنگامے اور بحران کا امکان تھا۔سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پرکارروائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے گی،جب سے تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی ہے،ملک پر غیر یقینی صورت حال کے سائے ہیں،کل کیا ہو جائے،یہ خدشہ چاروں طرف موجود ہے۔بہتر تو یہ تھا کہ اس معاملے کو جلد از جلد نمٹا دیا جاتا،آئین میں ریکوزیشن پر اجلاس بلانے کی جو مدت رکھی گئی ہے اگر اُسی میں رہ کر یہ کارروائی مکمل کی جاتی تو ملک کے لیے زیادہ اچھا ہوتا، لیکن لگتا ہے کہ حکومت  وقت لینا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے سپیکر قومی اسمبلی اس کا پورا ساتھ دے رہے ہیں،ایک طرف سپریم کورٹ میں اُس صدارتی ریفرنس کی سماعت ہو رہی ہے جس میں آرٹیکل 63-A کی تشریح مانگی گئی ہے اور دوسری طرف وزیراعظم یہ کہہ چکے ہیں وہ27 مارچ کے جلسے میں سرپرائز دیں گے،اپوزیشن اپنی جگہ پُراعتماد ہے اور اُس نے25مارچ کو اجلاس میں اپنی طاقت بھی شو کر دی ہے۔پورے ملک کی نظریں اِس وقت تحریک عدم اعتماد پر جمی ہوئی ہیں اور قوم یہ توقع کر رہی ہے کہ اسے آئین کے مطابق یکسو کیا جائے گا۔جمہوری ممالک میں یہ ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ہمارے آئین میں بھی تحریک عدم اعتماد کی گنجائش رکھی گئی ہے اور اس کا واضح طریقہ بھی بتا دیا گیا ہے۔اس کے باوجود اِس وقت ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی انہونی ہونے جا رہی ہے،سیاسی قوتوں کو اس اہم موقع پر بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایک جانب تحریک عدم اعتماد کا معاملہ اسمبلی کے اندر ہے تو دوسری طرف ملک کے مختلف حصوں سے عوامی قافلوں کا رخ اسلام آباد کی طرف ہو چکا ہے۔تحریک انصاف نے27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک بڑے جلسے کی کال دے رکھی ہے اُس کے کارکن کراچی اور ملک کے دیگر حصوں سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن بھی اپنے کارکنوں کو متحرک کر چکے ہیں اور آج مسلم لیگ(ن) کا لانگ مارچ لاہور سے شروع ہو رہا ہے، جو27 مارچ کو اسلام آباد پہنچے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسمبلی کے اندر ہونے والی ایک کارروائی کے موقع پر اس طرح کا عوامی شو آف پاور کیا جا رہا ہے۔اس کی پہل تحریک انصاف نے کی اور جواب میں اپوزیشن کی جماعتیں بھی میدان میں آ گئیں۔اس صورت حال نے ماحول میں ایک اضطراب پیدا کر دیا ہے،ایک ایسا اضطراب کہ جس پر صبر و برداشت کا پانی نہ چھڑکا گیا تو ایک شعلے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔لگتا یہی ہے کہ جتنے دن تحریک عدم اعتماد کا اجلاس چلتا رہے گا اتنے دن اسلام آباد میں اپوزیشن دھرنا دے کر بیٹھی رہے گی، جواب میں پی ٹی آئی کی حکمت عملی کیا ہوتی ہے اور27مارچ کے جلسے میں عمران خان کیا سرپرائز دیتے ہیں اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔ جمہوری و آئینی ر استہ تو یہی تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے عمل کو آئینی انداز سے اسمبلی کے اندر ہی مکمل کیا جاتا،مگر اب ایک طرف یہ معاملہ منحرف ارکان کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ہے، دوسری طرف اسلام آباد کی  سڑکوں اور تیسری طرف قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک کشمکش کی صورت میں موجود ہے،ابھی اس راستے میں بہت سے خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ سب سے اہم کردار قومی اسمبلی کے سپیکر کا ہے اُن کے تمام فیصلے اگر آئین کے تابع ہوئے تو یہ معاملہ بخیرو خوبی اپنے انجام کو پہنچ جائے گا،لیکن اگر انہوں نے آئین سے انحراف کا راستہ اختیار کیا تو شاید ملک میں ایک بڑا آئینی بحران پیدا ہو جائے۔اِس وقت سپیکر قومی اسمبلی سے پوری قوم غیر جانبداری اور آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ وہ اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرے گی،وہاں فیصلے کرنے کا اختیار سپیکر کا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ تحریک عدم اعتماد کا عمل جمہوری و آئینی روایات کے مطابق مکمل کیا جائے گا،ملک کسی بڑے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا،اس لیے تمام فریقوں کو چاہیے کہ وہ آئین کی پاسداری کریں اور اپنے کسی عمل سے ایسی صورت حال نہ پیدا ہونے دیں،جو کسی بحران کا باعث بنے۔

مزید :

رائے -اداریہ -