”پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کا امریکی بل“

 ”پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کا امریکی بل“
 ”پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کا امریکی بل“

  

 تحریک عدم اعتماد نے اس سیاسی محاذ آرائی کو شدید تر کر دیا ہے،جو عمران خان نے اگست2018ء میں وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد شروع کر دی تھی ویسے تو وہ تحریک انصاف کے قیام کے ساتھ ہی اپنے تئیں کرپشن اور کرپٹ لوگوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر چکے تھے اس جنگ سے نعروں اور پکاروں کی سیاست2011ء میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی جو 2018ء میں ان کے وزیراعظم بننے پر منتج ہوئی، پھر 2018ء کے بعد انہوں نے اسی سیاست کو نئے جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھایا۔انہوں نے2018ء تک عوام کو یقین دلا دیا تھا کہ پاکستان کے مسائل کی اصل وجہ کرپشن اور کرپٹ مافیا ہے،کرپٹ سیاست دان ہیں۔چودھری ہیں، ڈاکو ہیں، ایم کیو ایم ہے، دہشت گرد ہیں۔ مولانا فضل الرحمن  ہیں گویا سب کچھ ایسے ہی عناصر کا کیا دھرا ہے، رشوت خوری ہے، منی لانڈرنگ ہے، کرپشن ہے،سرکاری وسائل کا غلط استعمال ہے وغیرہ وغیرہ اور سب سے اہم انہوں نے کم از کم نظری اعتبار سے ہی سہی، سیاسی چودھریوں اور لوٹوں کو پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر اپنے آپ کو ایک پاک صاف،ایماندار اور دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ قائد ثابت کرنے کی کوشش کی اور یہ تاثر پیدا کرنے میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئے کہ وہ پاکستانی عوام کے مسائل کو نہ صرف سمجھتے ہیں،بلکہ انہیں حل کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی رکھتے ہیں،ایسی ہی فضا میں وہ اگست 2018ء میں وزارتِ عظمیٰ کے سنگھاسن پر بٹھا دیئے گئے، تمام یا کم از کم لوٹوں کی ایک قابل ذکر تعداد کی حمایت حاصل کر کے وہ ایوانِ اقتدار میں پہنچائے گئے، لوگوں کو لگا کہ اب ان کے مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے،انہوں نے بیانیہ وہی رکھا۔ کرپٹ اور لٹیرے ختم کر کے مسائل حل کروں گا۔ منی لانڈرنگ اور رشوت کے خاتمے کے بعد ملک ترقی کرے گا۔ زرداری، شریف وغیرہ کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہی دھوم دھڑکا اپوزیشن کو ایک صف میں اکٹھا کر گیا، جو تحریک عدم اعتماد کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔عدم اعتماد نے ملک میں عدم اعتماد کی فضا کو اور بھی گہرا کر دیا ہے، ہر طرف اسی بات کے چرچے ہیں، ہر ایک کی دلچسپی صر ف ایک بات ہی ہے کہ کیا تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی، عمران خان بچ جائے گا؟ عمران خان کے بعد کیا ہو گا؟ نیا وزیراعظم کیا کرے گا؟ پنجاب حکومت کا کیا بنے گا؟ نیا وزیراعلیٰ کون ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ۔

ہماری قومی صحافت اور ہواؤں فضاؤں میں یہی چرچے ہیں آگے کیا ہونے والا ہے؟ کیا ہو سکتا ہے؟

اسی گہما گہمی میں اسلامک وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس گزر گیا۔ یہ ایک بہت بڑا ایونٹ تھا اس سے ہمیں،یعنی پاکستان کو جو بوسٹ ملنا تھا جو عروج ملنا تھا جو فائدہ حاصل ہو سکنا تھا وہ نہیں ہو سکا۔ 23مارچ کی تقریبات کے ذریعے جو مثبت فضا اور ماحول پیدا کیا جا سکتا تھا وہ نہیں کیا جا سکا۔چھوٹے سے لے کر بڑے تک  ہر شہری اسی طرف لگا ہوا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا کیا بنے گا؟ حکمران سیاست دان ہوں یا اپوزیشن والے سب ایک ہی سمت میں بڑی یکسوئی کے ساتھ محو ِ سفر ہیں اور وہ ہے تحریک عدم اعتماد،ایسے ماحول میں کسی نے8مارچ2022ء کو امریکی کانگرس ممبر سکاٹ پیری کی طرف سے ایوانِ نمائندگان میں ”پاکستان کو دہشت گردوں کی معاون ریاست قرار دینے کا بل“ پیش کر دیا ہے،جسے طے شدہ طریق کار کے مطابق ”امور خارجہ کمیٹی“ کے حوالے کر دیا گیا۔ 117ویں کانگرس کے دوسرے سیشن میں یہ بل پیش کیا گیا جسے مزید کارروائی کے لئے خارجہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جو اس پر کام کرنے کے بعد ایوانِ نمائندگان میں منظوری کے لئے پیش کرے گی،پھر سینیٹ کی منظوری اور صدر کے دستخطوں کے بعد قانون بن جائے گا،جس کے نتیجے میں پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد پر پابندیاں لگ جائیں گی۔ پاکستان کو دفاعی سازو سامان کی برآمدات، فروخت اور مالی لین دین پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔اس بل کی منظوری کے ہماری معیشت اور دفاع پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، ہمارے عالمی زری اور مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری معاملات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟آئی ایم ایف ورلڈ بنک اور ایسے ہی دیگر ادارے بشمول فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ ایسے اہم اور حساس معاملات کے بارے میں ہمیں سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہیں ہے،

ہمارے تمام ریاستی اور ملکی اہم ادارے اور افراد سیاسی معاملات، سلجھانے یا الجھانے میں مصروف ہیں۔روس، یوکرائن جنگ کے عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں، تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں اوپر جاتی نظر آ رہی ہیں۔یورپی ممالک میں اناج، اشیاء ضروریہ بشمول گیس کی راشننگ شروع کی جا چکی ہے۔ یورپ ایک بحرانی کیفیت کا شکار ہو رہا ہے،عالمی منڈی میں طلب و رسد کی قوتیں باہم برسر پیکار ہو چکی ہیں۔ہماری معیشت پہلے ہی مسائل میں گھری ہوئی ہے۔کھانے کا تیل ہو یا جلانے کا تیل،عامتہ الناس کی پہنچ سے دور ہوتا نظر آ رہا ہے، مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔رمضان کی آمد آمد ہے جن کی غراہٹ۔ رمضان المبارک میں سحری و افطاری کے اوقات میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں اوپر جانے لگی ہیں،کسی کو کچھ فکر نہیں ہے، پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کا بل اگر پاس ہو گیا تو اس کے ریاست پاکستان، مملکت ِ پاکستان اور پاکستان کے عوام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے،ان سے ہم کیسے نمٹیں گے، عوام کو ان اضافی منفی اثرات سے کیسے بچایا جائے گا؟اس حوالے سے کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے، ہم سب حکومت گرانے اور حکومت بچانے میں مصروف ہیں،ہمیں مملکت اور اس میں بسنے والے 230ملین شہریوں کے حال اور مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے۔اللہ خیر کرے

مزید :

رائے -کالم -