ملک کی معاشی بدحالی اور بچوں کی تعلیم 

 ملک کی معاشی بدحالی اور بچوں کی تعلیم 

  

 بد قسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے عوام کی معاشی حالت گزرتے وقت کے ساتھ  ساتھ  بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ اگرچہ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے وزراء اپنی اپنی شعبہ جاتی کارکردگی کو مثبت اندازسے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں اور نامساعد حالات کے باوجود  ماضی  کی نسبت خاصی بہتر قرار دینے کے مسلسل دعوے کر رہے ہیں،لیکن اپوزیشن رہنماؤں کی غالب اکثریت اس بارے میں حکومتی وزراء، مشیروں اور ترجمانوں کے موقف کی زور و شور سے تردید کر کے ان پر سخت تنقید کر رہی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی کثیر تعداد، موجودہ وفاقی، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حکمرانوں کو اشیائے خورو نوش اور دیگر روز مرہ استعمال کی ضروریات کو سابقہ نرخوں سے کئی گنا مہنگا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا کر عوام کو تکلیف دہ حالات، مسائل اور مشکلات سے دو چار کرنے کے الزامات پر مبنی بیانات آئے روز جاری کر رہی ہے۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ وفاقی حکومت کے وزراء کی اکثریت عملاً بہتری کے  لئے موثر اقدامات اور انتظامات کئے بغیر اپوزیشن رہنماؤں کو چور اور ڈاکو کہنے کے اپنے پسندیدہ رجحان کو ذرائع ابلاغ میں بڑی شد و مد سے جاری رکھنے پر اصرار کرنے کے ساتھ ساتھ سابقہ حکمران رہنماؤں کو کسی طور این آر او نہ دینے کا ڈھول پیٹنا بھی ضروری خیال کر کے اس عزم کو شب و روز دہراتے رہنے میں ہی اپنی کارکردگی کا دفاع کامیاب کرتی نظر آتی ہے،جبکہ ملک کے عوام  موجودہ دور کی شدید مہنگائی کے ہاتھوں اپنا معیار زندگی قائم رکھنا تو کجا،بلکہ اپنا دو وقت کا کھانا بھی پورا کرنے سے قاصر ہونے کا شکوہ کرنے پر مجبور و لاچار ہو گئے ہیں۔

 اس  کے علاوہغیر جانبدار تجزیہ کاروں کی آراء اور تجاویز پر کچھ توجہ اور انحصار کر لینے سے بھی کسی حد تک رہنمائی حاصل کرنا مناسب انداز معلوم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بجا سہی کہ مہنگائی کا انداز تو آج کل بعض ترقی یافتہ ممالک میں بھی جاری ہے،لیکن وہاں اس اضافے کی شرح وطنِ عزیز کی اشیائے ضروریہ کی نسبت بہت کم ہے۔ نیز ان ممالک میں فی کس آمدنی کا تناسب بھی یہاں کے اکثریتی لوگوں کی اجرت کئی گنا زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں یہاں کے لوگوں کی مشکلات کی بنا پر ان کا نظام زندگی بہت تلخ  ہونا، بلا شبہ ایک عام فہم معاملہ ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ بیشتر ٹی وی چینلوں پر عام لوگ مہنگائی کے اثرات کے باعث اپنی زندگی کے معمولات کوقائم نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ دو سال سے بے بسی کا اظہار کرتے ہر روز دیکھے اور سنے جاتے ہیں، بلکہ وہ تو مروجہ حالات میں اپنے جسم و جان کا رشتہ کسی بھی وقت منقطع ہونے کے خدشات کے اشارات منظر عام پر لانے میں کوئی عار اور ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ وہ کسی مخصوص سیاسی جماعت یا اتحاد کے حامی، ہمدرد،غم خوار یا پیرو کار بھی نہیں ہوتے۔یوں عوام کی اکثریت کے معاشی حالات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہیں ہوگا کہ وہ مالی طور پر بد حالی، بلکہ خستہ حالی  کی  نوبت تک مفلسی اور فاقہ کشی کی حدود کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کو روکنا متعلقہ ذمہ دار اداروں کی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔

مذکورہ بالا کیفیت میں عام لوگ اپنے بچوں کو ہزاروں روپے ماہانہ  فیس لینے والے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ابتدائی  تعلیم بھی کیسے دلا سکتے ہیں؟ جبکہ یہاں سرکاری سکولوں اور کالجوں کی تعداد بچوں کی کثیر تعداد کی نسبت کافی کم اور محدود گنجائش رکھتی ہے۔ غالباً ان حالات کے تحت وطن عزیز میں تقریباً 3 کروڑ بچے سکولوں کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کرنے سے محروم و قاصر ہو رہے ہیں۔ ان کی اسمجبوری اور کسمپرسی کا تذکرہ تو یہاں بعض اپوزیشن رہنما آئے روز کرتے رہتے ہیں،لیکن بدقسمتی سے تا حال اس مسٗلے کا کوئی موثر،قابل عمل اور کامیاب منصوبہ شروع کرنے کا اعلان پڑھنے اور سننے میں نہیں آیا،جبکہ سرکاری اداروں میں سالانہ اربوں روپے کی بددیانتی  اور لوٹ مار کا تسلسل جاری ہے، اگر اس کرپشن کا کچھ مال بچا کر غریب و نادار لوگوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے مختص کر دیا جائے تو یہاں آئندہ چند سال میں ہزاروں بچے جرائم اور بے راہروی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -