اتحاد امت کی ضرورت و اہمیت 

 اتحاد امت کی ضرورت و اہمیت 
 اتحاد امت کی ضرورت و اہمیت 

  

 یوم پاکستان  پر مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم  او آئی سی کے 48ویں اجلاس کا  وطن عزیز میں منعقد ہونا بلاشبہ پوری قوم کے لئے باعث فخر ہے۔57اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی نمائندگی اور برادر ملک چائنہ کا بطور مہمان شریک ہونا سفارتی سطح  پرپاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کانفرنس میں وزیر اعظم  پاکستان کا خطاب  قطعاً رسمی نوعیت کا نہیں تھا اس میں اس اہم پلیٹ فارم کی ناکامیوں کا کھل کر شاید پہلی بار اعتراف بھی کیا گیا اور ان امور کی طرف توجہ بھی دلائی گئی جن پر عمل کرکے اس کے حقیقی ثمرات حاصل کئے جا سکتے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا  کہ50سالوں میں ہم اس فورم کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے بنیادی فلسطین اور کشمیر کے مسائل حل نہیں کروا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں  ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی حالت زار اور پسماندگی کا سبب ان کے باہمی اختلافات بھی ہیں  جنہیں ہم حل نہیں کر پائے۔ہمیں آج سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ ہماری آواز نہیں سنی جاتی کیونکہ ہم باہمی اتحاد اور اعتماد کی فضا قائم نہیں کر سکے۔ہم نے اپنے اجتماعی مسائل کو مشترکہ طور ایک توانا آواز کی صورت دنیا کے سامنے  پیش کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کئے رکھی۔۸۰ کی دہائی میں توہین رسالت پر لٹریچر سامنے آیا، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلامی کلچر کا مذاق اڑایا گیا،اسلام کو دہشت گردا ور امن پسند گروہوں میں تقسیم کر دیا گیااور ہم خاموش رہے۔ حالانکہ ہمیں ا ن مواقع پر یک زبان ہو کر دنیا کو بتانے کی ضرورت تھی کہ اسلام صرف ایک ہی ہے جو اللہ کے آخری رسولؐ لے کر آئے۔ہمارے روایتی اور غیر موثر طرز احتجاج نے آج تک فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں ہونے دیا۔پچھلے دنوں ہمارے آواز اٹھانے پر اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف قرارداد منظور ہونا ہم سب کی بڑی کامیابی ہے جس پر سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک مغربی  اقوام سے تعلقات مسلم امہ کے اجتماعی حقوق اور مفادات کے تناظر میں دیکھیں۔جہاں امت کے حقوق کی بات ہو وہاں ڈریں نہیں بلکہ ڈٹ کر بات کریں۔متحد ہو جائیں ورنہ کچھ نہیں ہوگا۔ابھی فوری طور پر ہمیں 40 سال تک جنگی حالات کا مقابلہ کرنیوالے افغانستان کو مل کر مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔جب تک بھوک اور افلاس ختم نہیں ہوتی قومیں ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتیں۔وزیر اعظم نے ایک اور بہت اہم نکتے کی طرف امت مسلمہ کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ہم نے موجودہ نظام انصاف کو گندا کر کے رکھ دیا ہے جس میں طاقتوروں کو معافی اور کمزوروں کو سزائیں مل رہی ہیں۔جبکہ اسلام کا انصاف تو یہ تھا کہ حاکم وقت کے مقابلے میں ایک عام یہودی کے حق میں بھی  فیصلہ دیا گیا کہ مسلم معاشرے میں انصاف سب کے لئے برابر تھا۔ہمارا المیہ ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ کے مخالف نظام عدل قائم کیا۔دین میں خواتین کو وراثت کا حق دیا گیا مگر ہم نے انہیں محروم کر دیا۔ہمارے اپنے ملک کی ۸۰فیصد خواتین حق وراثت سے محروم ہیں جن کے لئے قانون بنانا پڑا۔زمین پر انصاف قائم کرنا ہم سب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کر کے سخت غلطی کی ہے۔ وزیر اعظم کی گفتگو بلاشبہ روایتی نہیں تھی جس میں مسلم امہ کا درد بھی جھلک رہا تھا اور اتحاد امت کی آرزو بھی۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک ہم اتحاد امت کو بنیادی اور ہنگامی معاملہ قرار دے کر باہمی اختلافات اور مفادات سے بلند ہو کر نہیں سوچیں گے اقوام عالم میں  ہماری  بے توقیری یونہی مقدر رہے گی۔ خاص طور پر عرب ممالک جس طرح  مالی مفادات کے لئے بھارت اور اسرائیل کی پشت پناہی پر تلے بیٹھے ہیں اس سے کسی صورت بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ سعودی عرب میں اسرائیلی سرحد سے متصل جدید طرز تعمیر سے مزین نیون شہر کی تیزی سے تعمیر، وہاں کی تیزی سے بدلتی ہوئی تہذیبی و ثقافتی اقدار، دبئی میں دنیا کے سب سے بڑے بت خانے کی تعمیر اور بھارت سے استوار ہونیو الے مضبوط معاشی تعلقات، اور دوسری طرف شام کے مسلمانوں پر ہونے والی وحشیانہ بمباری کے پس منظر میں کیسے اتحاد امت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے حالیہ بدترین تشدد پر ہماری مشترکہ خاموشی کیا اشارے کر رہی ہے۔افغانستان کی صورتحال پر کوئی فوری اور ٹھوس حکمت عملی درکار ہے جس کے لئے کسی مثبت نکتے پر اتفاق ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ملائشیا کے مہاتیر محمدجو ماہر معاشیات بھی ہیں انہوں نے کچھ عرصہ قبل  بہت کارآمد تجویز دی تھی کہ مسلم ممالک اپنی سالانہ زکوۃ مشترکہ طور پر اکٹھی کر کے ترتیب وار سب سے پسماند ہ اور غریب اسلامی ملک کو دے دیں تو وہ ایک ہی جست میں بیرونی قرضوں سے بھی خلاصی اختیار کر سکتا ہے اور دوسری طرف اگر ایماندار قیادت میسر ہو تو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اگلے سال زکوۃ دینے والوں کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے۔مسلم امہ کے اتحاد اور او۔آئی۔سی کی فعالیت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا اندازہ ۱۹۷۴ میں ہونیو الی کانفرنس کے نمایاں سربراہان کے عبرت ناک انجام  سے بخوبی لگا یا جا سکتا ہے۔ خود وزیر اعظم پاکستان بھی  ایسی ہی زنجیروں کے سبب طیب اردگان  اور مہاتیر محمد کے ساتھ مل کر ترتیب دینے  والی کانفرنس میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔او۔آئی۔سی میں شامل مسلم ممالک کی  قومی و ملکی قیادتوں نے جس دن ذاتی مفادات اور باہمی اختلافات سے بالا تر ہو کر سوچنا شروع کر دیا  دنیا ان کی  بات  ضرور سنے گی۔    

مزید :

رائے -کالم -