کدھر جائے گا پروانہ؟ بڑا سوال!

  کدھر جائے گا پروانہ؟ بڑا سوال!
  کدھر جائے گا پروانہ؟ بڑا سوال!

  

 قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے اپنے کہے کے مطابق قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کی پہلے روز والی کارروائی نہیں ہونے دی اور قومی اسمبلی کے رکن زمان کے لئے دعائے مغفرت کے بعد اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا۔ یہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی نہیں کیا گیا کہ اجلاس کے لئے جو پندرہ نکاتی ایجنڈا جاری کیا گیا، اس میں تحریک عدم اعتماد کی شق بھی شامل تھی، اگرچہ وہ کہہ چکے تھے کہ ان کو اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ میرے خیال میں بعدازاں اسمبلی سیکرٹریٹ کی لاء برانچ اور امکانی طور پر اٹارنی جنرل آفس کے مشورے پر ایسا نہ کیا گیا کہ یہ اجلاس بلایا ہی عدم اعتماد کے حوالے سے گیا تھا اور جو ریکوزیشن حزب اختلاف کی طرف سے الگ جمع کرائی گئی وہ بھی اسی حوالے سے تھی۔ اس لئے وہ شاید غیر معینہ مدت والی حکمت عملی تو استعمال نہ کر سکے، تاہم انہوں نے کارروائی نہ شروع کرکے اور اجلاس مزید تین روز کے لئے ملتوی کرکے حکومت کو یہ موقع ضرور مہیا کر دیا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے سے قبل اپنی حکمت عملی پر مکمل عمل کرے۔ اس میں 27 مارچ کا جلسہ اور اتحادیوں سے مزید مذاکرات اور منحرفین کی تلاش بھی شامل ہے جہاں تک آئین کے آرٹیکل 63-A کی تشریح کا تعلق ہے تو یہ زیر سماعت ہے اور اس کی سماعت بھی پیر ہی کو ہوگی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی آگے بڑھتی تو اس کے فوائد و نقصان بھی سامنے آ جاتے۔ بہرحال اب صورت حال یہ ہے کہ حکومت 27مارچ کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کر رہی ہے۔ اس کے لئے وزیراعظم عمران خان نے پورے ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی حمائت کے لئے گھروں سے نکل آئیں۔ یہ اندازہ تو اب اتوار ہی کو ہوگا کہ کیا صورت بنتی ہے، تاہم عدالت عظمیٰ کے ریمارکس کی روشنی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے جلسوں کے الگ الگ مقامات کی اجازت دی گئی اور وزیرداخلہ نے جیسے کہا اس کے مطابق نہ صرف سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے بلکہ قومی اسمبلی میں مہمانوں تک کا داخلہ بند کر دیا گیا اور صراحت سے یہ بھی بتایا گیا کہ کوئی رکن اسمبلی اپنے ساتھ حفاظتی گارڈ بھی نہ لا سکے گا۔

سپیکر نے اجلاس کے دوران یہ بھی کہا کہ عدم اعتماد کے لئے کارروائی آئین،قانون اور اسمبلی کے ضابطوں کے مطابق چلائی جائے گی، اگرچہ اس مسئلہ پر بھی فریقین کے موقف میں اختلاف ہے، تاہم میرے علم اور تجربے کے مطابق اگرچہ سپیکر کے اختیارات بھی ہیں، تاہم ماضی کی جو مثالیں موجود ہیں، ان کے مطابق وہ کرسی صدارت پر ہوتے ہوئے خود اپنے بقول قواعد و قوانین سے باہر نہیں جا سکتے۔ ایجنڈے پر تحریک آ جانے کے بعد اب وہ اس کا فیصلہ کرائے بغیر اجلاس کو غیر معینہ عرصہ کے لئے ملتوی نہیں کر سکتے، ابھی تو ان کے ذمہ اجلاس میں دو روزہ تاخیر کی وضاحت بھی ہے، اب تک کی جانے والی وضاحت کو حزب اختلاف کی طرف سے مسترد کیا جا چکا ہوا ہے۔ 1989ء میں ایسے ہی سخت ماحول (تاہم ایسی زبردست کشیدگی کے بغیر) عدم اعتماد کی جو کارروائی ہوئی۔ اس کے لئے سپیکر ملک معراج خالد (مرحوم) نے تین روز تک بحث کرائی اور پھر ووٹنگ کرا دی تھی۔ اگرچہ بحث اور بھی آگے بڑھائی جا سکتی ہے، تاہم مناسب اور روائتی سہ روزہ ہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ محترم سپیکر ایجنڈے میں شامل دوسرے امور پہلے لیتے ہیں یا پھر پیر ہی کو بحث شروع کراتے ہیں کہ تاخیر کا مطلب یہ ہوگا کہ حزب اقتدار کو جوڑ توڑ کے لئے اور زیادہ وقت مل جائے جہاں تک عدم اعتماد کے حوالے سے حمائت کا تعلق ہے تو فریقین کے اپنے اپنے دعوے ہیں، اس سلسلے میں اہم ترین کردار حکومتی اتحادیوں خصوصاً مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کا ہے، جن کی طرف سے سب کو خوش آمدید کہا گیا۔ اپنی شکائتیں بھی دہرا دیں، تاہم ابھی تک کسی ایک فریق کے حق میں واضح اعلان نہیں کیا اور یوں یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ ”اُدھر جاتا ہے کہ اِدھر آتا ہے پروانہ“ یہ ایک نہیں چار ہیں۔ اگرچہ باپ اور جی ڈی اے والوں کا رویہ زیادہ مثبت (حکومت کے لحاظ سے) نظر آتا رہا ہے۔ تاہم اب ہر دو نے بھی کچی پکی کر دی ہے اور حکومت کو ادھر بھی توجہ دینا ہوگی۔ بہرحال ان سب کو دینے کے لئے حکومت کے پاس بہت کچھ ہے جبکہ حزب اختلاف کے پاس وعدے ہی وعدے ہیں۔

جہاں تک ان حضرات کا تعلق ہے جو جہاز میں سوا ہو کر آئے اور اب منحرف کہلا رہے ہیں تو ان کی حتمی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ابھی تک سامنے آنے والے اراکین کی تعداد چودہ سے نہیں بڑھی۔ تاہم راجہ ریاض کے بقول یہ 28سے 32ہیں اور رائے شماری کے وقت ثابت ہو جائے گا، ان حضرات کے لئے عدالت عظمیٰ کے روبرو ریفرنس کی شکل میں ایک خوف پیدا کرنے کی بڑی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود ابھی تک کسی منحرف نے اپنے تازہ موقف سے انحراف کا تاثر نہیں دیا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے بھاری اکثریت طے شدہ امر کے تحت کشتیاں جلا کر آئی ہے۔ اگرچہ احمد حسن رائے پھر پھسلے اور نیا موقف اختیار کر لیا۔بہرحال یہ اعصاب کی لڑائی ابھی جاری ہے۔ متحدہ اپوزیشن والوں نے اجلاس کے التوا پر سخت احتجاج کیا اور سپیکر کو پھر سے جانبدار قرار دیا ہے۔

اگر عوامی ذہن کا جائزہ لیا جائے تو سیاسی جماعتوں کے حقیقی کارکنوں کی حد تک تقسیم جوں کی توں ہے اور یہ کارکن اپنے رہنماؤں کی دشمنی ہی کے حوالے سے تقسیم ہیں۔ عام شہریوں اور ووٹروں کے خدشات اپنی جگہ ہیں، ان کے مسائل بے روزگاری، بیماری، مہنگائی اور شہری مسائل بھی ہیں جو مسلسل نظر انداز ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف جلسوں اور مارچوں کی وجہ سے کشیدگی اختلاف کی بجائے دشمنی کی حد تک جا چکی ہے، اس میں خیر کا پہلو صرف یہ نظر آتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس کی روشنی میں جلسوں کے مقام تبدیل کر دیئے گئے تاہم یہ ملتوی نہیں کئے گئے اگرچہ حزب اختلاف کے پروگرام میں تبدیلی ہوئی۔  23مارچ کو شروع ہونے والا لانگ مارچ 26تک چلا گیا اور 26ء ہی کو جلسہ بھی رکھا گیا جسے 28مارچ تک توسیع دے دی گئی۔ یہ تبدیلی کیوں اور کیسے ہوئی اس حوالے سے بھی چہ مہ گوئیاں ہو رہی ہیں اور بعض حضرات کی درفنطنی یہ بھی ہے کہ ”یہ پراکسی وار ہے“…… اللہ جانے کیا ہوگا آگے والی بات ہے، لیکن حالات سے ظاہر ہے کہ دباؤ سے انکار کرنے والے یقینا دباؤ میں ہیں کہ ان کے عمل سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ وہ لاکھ انکار کریں مگر حقائق خود بولتے ہیں، جہاں تک متحدہ حزب اختلاف کا تعلق ہے تو ناکامی سے ان کو نقصان ضرور ہوگا لیکن ان کی حیثیت میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہوگی۔ اگرچہ ”انتقام“ والے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب پر رحم کرے اور مسائل سے نجات دلائے۔

مزید :

رائے -کالم -