آزاد اقبال کے مجموعہ کلام ’دانائے راز‘ کی تقریب رونمائی

 آزاد اقبال کے مجموعہ کلام ’دانائے راز‘ کی تقریب رونمائی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) یوم پاکستان کے موقع پر، ای کامرس کے ممتاز پلیٹ فارم دراز(Daraz) کے زیر اہتمام علامہ اقبال کے پوتے آزاد اقبال کے مجموعہ کلام ’دانائے راز‘ کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ دراز کے زیر اہتمام اِس تقریب کا مقصد علامہ اقبال کے ورثے کو آگے بڑھانا تھا۔ تقریب رونمائی آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں منعقد ہوئی۔جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی، پروفیسر سحر انصاری، معروف شاعرہ عنبرین حسیب عنبر اورمنیب مرزا نے تقریب کو رونق بخشی اور موجودہ حالات میں اس دیوان کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دراز کی ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشنز، محترمہ عروج احمد نے شاعری کے اس مجموعے پر دراز کا ویژن بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”درازعلامہ اقبال کے نظرئیے، فلسفے اور جمالیاتی اظہار کو زندہ کرنے کا اور قوم کو ایک مرتبہ پھر اْن کے ساتھ جوڑنے کا آرزومند ہے۔ اْن کے خاندان میں سے دیوان کا منظر عام پر آنا  نہایت متاثر کن ہے جو،شاعر مشرق کے علم بردار اور حقیقی وارث کے طور پر،آزاد اقبال صاحب کے مقام کی تائید کرتا ہے۔ شاعری کے اس مجموعے کی اشاعت کا مقصد ملک کو شاعری کے قریب لانا،حکمت ودانائی کا فروغ  اور آئندہ نسلوں میں مطالعے کا شغف پیدا کرنا ہے۔“اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آزاد اقبال نے کہا کہ اْنھوں نے زندگی کی حقیقیت شاعری کے ذریعے بیان کر کے اپنے جد امجد کی پیروی کی ہے۔ اْنھوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنی تمام نظموں میں اپنے دادا کے فلسفے کی حقیقی روح سمونے کی کوشش کی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل ہماری زبان اور ادب کے قریب آئے۔ ’دانائے راز‘میرے اہل خانہ اور دوستوں کی پرخلوص محبت کا نتیجہ ہے۔ میں دراز کا بھی شکر گزار ہوں کہ اْنھوں نے اس سلسلے میں میری اعانت کی اورادب کے سنہرے دور کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -