اسد قیصر سپیکر کہلانے کے لائق نہیں رہے، حیدر ہوتی

اسد قیصر سپیکر کہلانے کے لائق نہیں رہے، حیدر ہوتی

  

پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی کہلانے کے لائق نہیں رہے۔ سپیکر کی بجائے انکو پی ٹی آئی کا چیف وہیب کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔سپیکر ہاس کے کسٹوڈین کی بجائے  فریق کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی اس سے قبل بھی آئین کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔چودہ دن کے اندر اجلاس نہ بلا نا آئین اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ آج ایک دفعہ پھر انہوں نے پی ٹی آئی کی ڈوبتی کشتی کو دو دن کیلئے بچانے کی کوشش کی۔ سپیکر قومی اسمبلی کے روئے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ وہ لاکھ کوشش کریں چند دنوں میں عدم اعتماد کی تحریک منطقی انجام تک پہنچ جائے گی۔ پارلیمنٹ ہاس کے باہر  دیگر اپوزیشن رہنماں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیامیر حیدر خان ہوتی نے  کہا کہ پی ٹی آئی کو تحریک عدم اعتماد پرمتحدہ اپوزیشن کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔ جو حکومت دھاندلی کے ذریعے آئی تھی اس کو اپوزیشن ایک آئینی طریقے کے ساتھ رخصت کررہی ہے۔ سپیکر حکومت کا آلہ کار بننے سے گریز کرے۔ تحریک عدم اعتماد ایک آئینی اور قانونی قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وضاحت کی جائے کہ کیا تحریک عدم اعتماد غیر آئینی ہے؟۔ کیا اراکین قومی اسمبلی کو یہ حق نہیں کہ اپنی مرضی کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب کرے؟ انتخابات کے بعد جن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر پی ٹی آئی شادیانے بجا رہے تھے آج انکو گالیاں کیوں دی جارہی ہیں؟ کل تک یہ ایماندار اور باضمیر اور آج بے ضمیر کیسے ہوئے؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کو معلوم ہے کہ ان کے پاس وقت کم رہ گیا ہے۔ حکومتی تاخیری حربے ناراض ارکین کو رام کرنے کیلئے ہے۔ جو مسئلے قومی اسمبلی میں زیر بحث آنے چاہیئے حکومت انکو سڑکوں پر لیجانا چاہتی ہے۔ حکومت سڑکوں کا رخ کرکے حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کے پاس اگر اکثریت ہے تو قومی اسمبلی کے اجلاس سے کیوں بھاگ رہی ہے؟۔  حکومت اگر اتنی ہی پراعتماد ہے تو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی وزیراعظم کے پاس جتنے بھی پتے تھے وہ ختم ہوچکے ہیں۔ خود استعفی دینے کے علاوہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد پر فی الفور ووٹنگ کی جائے تاکہ عمران خان کو جلد رخصت کیا جاسکے اور عوام کو ان سے نجات دلائی جاسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -