"موت کا فرشتہ" کے نام سے مشہور نرس جس نے اپنے بوائے فرینڈ کی توجہ حاصل کرنے کیلئے کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا

"موت کا فرشتہ" کے نام سے مشہور نرس جس نے اپنے بوائے فرینڈ کی توجہ حاصل کرنے ...

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مردوخواتین جس سے محبت کرتے ہوں، اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ جتن کرتے ہیں تاہم ایک امریکی نرس ایسی بھی ہو گزری ہے جس نے اپنے بوائے فرینڈ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ایسی سفاکانہ وارداتیں کر ڈالیں کہ سن کر ہی آدمی کانپ کر رہ جائے۔ 

وکی پیڈیا کے مطابق امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر نارتھ ایمپٹن کی رہائشی یہ کرسٹین ہیتھر جلبرٹ نامی نرس 13نومبر 1967ءکو پیدا ہوئی تھی اور ویٹرن افیئرز میڈیکل سنٹر نارتھ ایمپٹن سے بطور نرس وابستہ رہی۔اس میڈیکل سنٹر میں ملازمت کے دوران کرسٹین نے متعدد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا، تاہم عدالت میں اس کے خلاف 4مریضوں کو قتل کرنے اور 2کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کا جرم ثابت ہوسکا۔ وہ مریضوں کے جسم میں ’ایپنیفرین‘ (Epinephrine)نامی دوا بہت زیادہ مقدار میں داخل کر دیتی تھی، جس سے مریضوں کو ہارٹ اٹیک آ جاتا اور ان کی موت واقع ہو جاتی تھی۔ 

پراسیکیوٹرز کی طرف سے عدالت میں بتایا گیا تھا کہ کرسٹین 350مریضوں کی موت کے وقت ان پر ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھی۔ چنانچہ خدشہ ہے کہ اس نے درجنوں لوگوں کو قتل کیا۔ تاہم اس پر جن لوگوں کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا، ان میں سٹینلے جیگوڈوسکی، ہنری ہڈن، ینیتھ کٹنگ اور ایڈورڈ سکویرا شامل ہیں۔ 

کرسٹین نے 1989ءمیں اس میڈیکل سنٹر میں ملازمت شروع کی تھی اور 1996ءمیں جب ہسپتال کی انتظامیہ نے معمول کی نسبت بہت زیادہ اموات ہونے پر معاملے کو مشکوک جانتے ہوئے تحقیقات شروع کیں تو کرسٹین نے ملازمت چھوڑ دی۔ تحقیقات میں جب یہ انکشاف ہوا کہ مرنے والے زیادہ تر مریضوں کی موت کرسٹین کی شفٹ میں ہوتی رہی تھی، تو کرسٹین کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

 پراسکیوٹرز کے مطابق کرسٹین کی زیرنگرانی مریضوں کی اموات اس قدر زیادہ ہوتی تھیں کہ ساتھی نرسوں نے اسے ’موت کا فرشتہ‘ کا لقب دے رکھا تھا۔ باقی نرسیں اسے مو ت کا فرشتہ کہہ کر بات ہنسی میں اڑا دیتی تھی تاہم تین نرسوں کو وقت کے ساتھ ساتھ شک گزرا اور انہوں نے معاملے کی رپورٹ انتظامیہ کو کر دی، جس کے بعد تحقیقات شروع ہوئیں اور نرسوں کے شک کی تصدیق ہونے کے بعد کرسٹین کے خلاف انکوائری بھی شروع کر دی گئی۔

عدالت میں بتایا گیا کہ کرسٹین یہ سفاکانہ وارداتیں اپنے بوائے فرینڈ جیمز پیراﺅلٹ کو متاثر کرنے اور اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتی تھی۔ جیمز بھی اس کے ساتھ وہیں ہسپتال میں ہی ملازمت کرتا تھا۔ کرسٹین کو 27مارچ 2001ءکو چار بار عمر قید کی سزا سنائی گئی اور عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ اسے پیرول پر بھی رہائی نہیں دی جائے گی۔ سزا سنائے جانے کے بعد اسے میساچوسٹس کی خواتین کی ’فرامنگھم‘ جیل سے نکال کر ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ کی جیل ایف ایم سی کارزویل منتقل کر دیا گیا جہاں وہ آج تک قید ہے اور غالباً اپنی موت تک وہیں رہے گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -