بُدھ مت کے دَور میں ہند کی کیفیت( 200 قبل مسیح سے 600 ءتک)

بُدھ مت کے دَور میں ہند کی کیفیت( 200 قبل مسیح سے 600 ءتک)
بُدھ مت کے دَور میں ہند کی کیفیت( 200 قبل مسیح سے 600 ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 پہلے بیان ہو چکا ہے کہ بدھ مت کا بانی بدھ تھا جو مگدھ میں پیدا ہوا اور وہیں فوت ہوا۔ پس مگدھ کو بدھ مت کی جنم بھوم کہہ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے بدھ اس سرزمین کو اپنا تیرتھ جانتے تھے اور کپل دستو کی، جہاں ان کے نجات دہندے پیدا ہوئے اور گیا کی، جہاں انہوں نے نور عرفان حاصل کیا اور اس بڑ کے درخت کی، جس کے نیچے انہوں نے اپنے دھرم کی تعلیم شروع کی۔ نہایت قدرومنزلت کرتے تھے۔ بہت ملکوں میں بدھ مت ہی کا ڈنکا بج رہا تھا۔ سینکڑوں برس تک ان ملکوں کے دیندار بدھ اپنے دین کے بانی کی پیدائش، ریاضت اور موت وغیرہ کے مقاموں کی زبارت کے لیے ہند میں آتے تھے۔ بہت سے یاتری چین سے آئے۔ ان میں سے2 ایسے تھے جنہوں نے ہند کے حالات جو خود دیکھے یا سنے تھے، لکھے ہیں۔ اول فاہیان 400ءکے قریب اور دوسرا ہیوان سانگ 630 ءمیں آیا تھا۔ چونکہ ہندو اپنے ملک کے حالات خود نہیں لکھا کرتے تھے اس سبب سے چینی سیاحوں کے سفر نامے نہایت قدر کے قابل ہیں۔

 سُمدر گپت کے مرنے کے بعد جبکہ ابھی گپت خاندان کے راجا ہند میں فرمانروائی کرتے تھے۔ فاہیان ہند میں موجود تھا۔ یہ کابل سے آیا تھا اور مغرب سے مشرق کی جانب کل ہندوستان سے گزرتا ہوا دریائے گنگا کے دہانے پر اور یہاں سے جہاز میں سوار ہو کر سیلون پہنچا۔ راستے میں پنجاب اور ہندوستان کے جو جو بڑے شہر آئے سب کی سیر کی۔ وہ کہتا ہے کہ شمالی ہند کے لوگ کسی جانور کو نہیں مارتے تھے۔ شراب نہیں پیتے تھے اور چنڈالوں اور نیچ ذاتوں کے سوا کوئی لہسن یا پیاز نہیں کھاتا تھا۔ جو لوگ شکار کرتے تھے اور گوشت بیچتے یا کھاتے تھے۔ وہ چنڈال تھے۔ ان کے علاوہ کوئی ایسا کام نہیں کرتا تھا۔ راجہ بڑی نرمی کے ساتھ حکومت کرتا تھا۔ جہاں جس کا جی چاہے جائے آئے۔ کوئی روک ٹوک نہ تھی، نہ کسی قسم کی دقت تھی، جو لوگ قانون کیخلاف کام کرتے تھے۔ راجہ انہیں ڈنڈ (سزا) دیتا تھا۔ باغیوں کو بھی موت کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ صرف ان کا داہنا ہاتھ کٹوا دیا جاتا تھا۔ سودے سلف کے لینے دینے میں کوڑیاں چلتی تھیں۔ جابجا وہار بنے ہوئے تھے۔ وہیں ہزاروں بھکشو رہتے تھے۔ وہاروں میں بھکشوﺅں کےلئے راجہ بچھونا، چٹائی، کھانا، پینا، کپڑا لتا دیتا تھا۔ انسانوں اور حیوانوں کےلئے بہت سے ہسپتال تھے۔ جہاں لائق لائق حکیم معالجہ کرتے تھے۔ مریضوں کو دوا کے ساتھ کھانا بھی ہسپتال ہی سے مفت ملتا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ فاہیان کے زمانے میں یعنی 400 ءکے قریب شمالی ہند میں بدھ مت ہی کا عروج تھا۔

 ہیوان سانگ فاہیان سے 23 سال بعد آیا۔ اس کا قیام ہند میں زیادہ رہا اور ہند کے جو حالات اس نے لکھے ہیں وہ خوب مفصل ہیں۔ یہ بھی کابل کی طرف سے داخل ہوا اور کشمیر، پنجاب اور ہندوستان کے بڑے بڑے شہر دیکھتا بھالتا اڑیسہ، کالنگا اور جنوبی ہند سے گزرتا ہوا مغربی ساحل پر پہنچا اور وہاں سے مہاراشٹر، گجرات، راجپوتانہ اور سندھ میں گیا۔ گویا اس نے سارے ہند کا چکر لگا لیا جس میں اس کے 15 سال صرف ہوئے۔(جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -