میں جیسے خا مو شی بھرے تا لاب میں اُتررہا تھا۔۔۔۔۔

میں جیسے خا مو شی بھرے تا لاب میں اُتررہا تھا۔۔۔۔۔
میں جیسے خا مو شی بھرے تا لاب میں اُتررہا تھا۔۔۔۔۔

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :29

ہم دونوں نے کمینگی کے ساتھ قہقہہ لگایا اور آگے بڑھ گئے ۔ عورتوں کی کئی قسمیں ہو تی ہیں، کچھ ہوا کی طرح ہو تی ہیں۔ ان کی مو جودگی کے باوجود ان کے ہو نے کا احساس کم ہو تا ہے۔ کچھ خوش بُو کی طرح پس ِ پردہ رہ کر بھی اپنے ہو نے کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ لیکن کو ئی کوئی عورت آتش بازی کی طرح ہو تی ہے۔ اس کے ہو نے سے فضا ءمیں رنگ ہی رنگ بھر جاتے ہیں، اس کے لشکارے بچوں، بو ڑھوں، جوانوں سب کو متوجہ کر تے ہیں۔ وہ جہاں ہو تی ہے وہاں رونق سی لگا دیتی ہے اور جہا ں نہیں ہوتی وہاں بھی اس کی کشش کی چھو ٹ پڑتی رہتی ہے۔ہماری ہم سفربھی ایک ایسی ہی عورت تھی۔ ایسی عورت کے لیے ہندی اور عربی میں ایک ہی لفظ ہے ”نار“۔ ہم آ گے بڑھ گئے۔

اب رینجرز کے جوان چھتوں پر بندھا ساما ن چیک کر رہے تھے۔ لوگ ایک ایک کر کے چھت پر چڑ ھتے اور اپنا اپنا بیگ کھول کر جوان کے آ گے کر دیتے۔ اس کا دل چاہتا تو بیگ میں ہاتھ ڈال کر سا مان الٹ پلٹ کر لیتا ورنہ صرف ایک نظر ڈال کر بیگ بند کر نے کا اشارہ کر دیتا۔ ایک بس کی تلا شی مکمل ہو نے میں اچھا خا صا وقت لگ رہا تھا اور ہماری بس کی باری ابھی بہت دور تھی۔ دوسرے دوستوں کو بتا کر ہم دریا کی طرف چل پڑے۔ 

سڑک کے ساتھ ہی زرد مٹی اور ریت کا نرم فرش تھا۔ پو رے علا قے میں دور دور تک بڑے بڑے پتھر اور چٹا نیں بکھری ہو ئی تھیں۔ یو ں محسوس ہو تا تھا جیسے کسی نے ایک پہا ڑ کو فضا میں بلند کر کے اوپر سے چھو ڑ دیا تھا اور وہ زمین سے ٹکرا کر کانچ کے برتن کی طرح پاش پاش، کر چی کرچی ہو گیا تھا۔کو ہستان سے لے کر گلگت بلتستان بھر میں آپ کو زمیں پر ایسے بکھرے ہوئے پتھروں اور چٹا نوں کی بھر مار نظر آتی ہے۔ شاید صدیوں پہلے کسی وقت اس علاقے میں شہا بیوں کی بارش ہو ئی ہو!کیوں کہ قریب ایسا کو ئی پہا ڑ نہیں تھا جس سے اتنی بڑی بڑی چٹا نیں ٹوٹ کر اور لڑھک کر سارے میں بکھر جاتیں۔سا منے سے سرخ چہرے والا مو ٹا امریکی پنٹ کی زِپ بند کر تا ایک چٹان کے پیچھے سے نمو دار ہوا تو طاہر ”میں ابھی آیا۔“ کہہ کر دوسری چٹان کے پیچھے غا ئب ہو گیا۔ مو ٹے امریکی نے قریب سے گزرتے ہو ئے دوستا نہ انداز میں سر ہلا یا تو میں نے بھی ”ہا ئے“ کہہ کر ہاتھ ہلا یا۔ 

”یہ بہت حیران کن ہے!“ اس نے ابرو اور کندھے بہ یک وقت اچکا تے ہو ئے کہا۔ 

”اور شان دار بھی۔“ میں نے جوابا ً کہا۔

”یقیناً ایسا ہی ہے۔“ وہ بولا۔اس نے ناک اور ہو نٹوں پر سفید کریم لگا رکھی تھی جس کی وجہ سے وہ دورسے ایک امریکی زومبی لگتا تھا۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا بس کی طرف چلا گیا۔

میں اکیلا دریا کی طرف بڑ ھنے لگا۔ سڑک دور رہ جا نے سے تھو ڑی بہت آ وازیں بھی ختم ہو گئی تھیں۔ میں جیسے خا مو شی بھرے تا لاب میں اتررہا تھا۔ پتھر اور زمین سفید دھوپ سے گرم ہو کر تپنے لگے تھے۔تیز خشک ہوا اور مو سموں کی شدت نے بکھرے ہو ئے پتھروں کے تیکھے سرے ہم وار کر دئیے تھے۔ گہرے بھو رے رنگ کے پتھروں پر ایسی سیاہ دھا ریا ں دکھائی دیتی تھیں جیسے چا کلیٹ پگھل کر بہ گیا ہو۔ ایک چٹان کے سائے میں مکو ڑوں کی قطار ریل کے ڈبوں کی طرح چلی جا رہی تھی۔ ایک پتھر کی اوٹ سے ایک خا کی رنگ کاکِرلا(lizard) بے آواز لیکن تیز قدموں سے بھاگ کر نکلا، کچھ دور جا کر رکا، گر دن مو ڑ کر میری طرف دیکھااور پھر پتھروں میں غا ئب ہو گیا۔ ہر چیز کی ایک جگہ ہو تی ہے۔ انسان ہو، جان ور، نبا تات یا جما دات سب اپنے اپنے مقام ہی پر بہتر ہو تے ہیں۔ جب انہیں فطری مقام سے ہٹا کر کہیں لگانے کی کو شش کی جائے تو خرا بی پیدا ہو تی ہے۔ یہ پہا ڑ اور ان پر اگی سوکھی گھاس کی مہین چادر،زمین پر بچھی ریت، اپنے ہی سائے میں سمٹتی ہو ئیں جھا ڑیاں اور بے آواز بھا گتا کِرلا ۔۔۔ یہ سب ایک ہی منظر کے اجزا ءتھے اور اس منظر پر چڑھا خا کی خا مو شی اور شفّاف ہوا کاغلاف ان سب کو ایک اکائی بنا تے ہوئے اس منظر کی تکمیل کر تے تھے۔ اس ٹھہرے ہوئے، ساکن منظر میںصرف 2کر دار ایسے تھے جو اس کا حصہ تھے بھی اور نہیں بھی۔ دو نوں کا خمیر شاید ہوا سے اٹھا تھا۔ جن کی روح میں کچھ مقدار پارے کی بھی تھی۔ دو نوں بے قرار، بے قیام۔ ایک صدیوں سے بہتا دریا اور دوسرا یہ مسافر۔ 

دھوپ تیز ہو تی جا رہی تھی ۔ گر می بھی بڑھ رہی تھی اور ہوا میں دھوپ کی خوش بُو گھلنے لگی تھی۔ میں سڑک سے کا فی دور آ گیا تھا۔ اب بہت دور نیچے چٹا نوں کے بیچ را ستہ بناتے دریائے سندھ کا سرخی مائل گدلا پا نی دکھا ئی دینے لگا تھا۔ میں ایک ہم وار پتھر پر دریا کے رخ بیٹھ گیا۔ یہا ں مکمل خاموشی تھی۔ طاہر بھی آ کر میرے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا جو نروان پانے والے سادھو یا دیر سے روکے ہو ئے پیشاب سے فارغ ہونے والے آ دمی کے چہرے پر ہوتا ہے۔ اس نے سر سے کیپ اتار کر گھٹنے کو اوڑھائی اور بسوں کے قطار کو دیکھ کر کہا ”بہت دیر لگا دی انہوں نے۔“یہ کو ئی شکایت تھی نہ احتجاج تھا، بس ایک بات تھی۔ طاہر کم لفظوں والاآدمی ہے اور میں بہت زیادہ بو لنے والا ہوں۔لیکن ہم دونوں تعلق کی اس سطح پر ہیں جہاں الفاظ اہم نہیں رہتے، اس لیے میں جواب دئیے بغیر دریا کو دیکھتا رہا۔

”کیسے خشک اور کورے پہا ڑہیں!“ طاہر نے ارد گرد کھنچی بے آب و گیاہ سنگی فصیل پر نظر ڈال کر کہا۔

”چلاّسی زبان میں پہاڑ کو ”کور“ کہتے ہیں۔“ میں نے اسے بتایا۔”شاید یہ لفظ اسی کورے پن کی وجہ سے بنا ہو۔“

ہم میدانوں سے اوپر جا رہے تھے، پستی سے بلندی کی طرف۔ دریا اوپر سے نیچے آرہا تھا، رفعت سے نشیب کی طرف۔بلندیوںمیں فاصلہ اور فا صلے میں خوف، دبدبہ اور تقدس ہوتا ہے۔ برابری اور قربت میں رحمت، محبت اورخد مت ہو تی ہے۔ پستی سے بلندی کی طرف سفر پُرمشقت ہو تا ہے۔ اوپر پہنچ کرخوشی ملتی ہے،نفس میں اینٹھن اور تکبّر پیدا ہو تا ہے۔ اوپر سے نیچے آنے میں سہولت ہوتی ہے، اس سے عاجزی اور کشادگی پیدا ہو تی ہے۔اوریہ بات رفعت اور معراج والے ہی جا نتے ہیں کہ بڑا ئی دُور ی اور فا صلے میں نہیں، بلندیوں پر گم ہونے میں نہیں، نیچائی میں آنے،ساتھ اور پاس رہنے میں ہے۔ یہی فیض کا راستہ ہے۔( جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -