امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (2)

امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (2)
امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار (2)

  



ان لوگوں سے امن و امان کی بحالی اور عوام کے مسائل کا ادراک رکھنے کی امید کرنا عبث نہیں تو اور کیا ہے۔یہی لوگ جو سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہوتے ہیں،اپنے سیاسی آقاؤں کے احکامات کو سرکار کے آرڈرز سے زیادہ معتبر سمجھتے ہیں، اسی لئے ان کے نزدیک نظم و نسق کی بہتری ان کے فرائض میں کہیں جگہ نہیں پاتی، بلکہ سیاسی وابستگی کو ہی اپنی ترقی کا زینہ بناتے اور اپنا کیرئر اسی طرح گزار جاتے ہیں، اس لئے امن و امان کے لئے ان کی خدمات کہیں نظر نہیں آتیں۔ ایسی بھرتی شدہ اور ٹریننگ یافتہ پولیس فورس کی نمائندگی کے لئے جن افسران کا انتخاب کیا جاتاہے، وہ بھی اگر ایسے لوگ ہوں جو فیڈرل کیڈر سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کا احتساب کوئی صوبائی حکومت نہ کر سکتی ہو تو پھر ان سے اچھے اعمال کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ یہی افسران جن کو اوائل سروس میں اپنے صوبے میں تعیناتی نہیں دی جاتی، وہ بھی سفارش کے ذریعے اس قاعدے سے استثنا حاصل کر کے اپنے رہائش کے صوبے میں تعیناتی حاصل کر لیتے ہیں،پھر صوبائی انتظامیہ کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ بھی نہیں سمجھتے۔ کیا ایسی پولیس کے حکام عوام کی بہتری کی سوچ اپنے اندر سمو سکتے ہیں؟۔۔۔ ہرگز نہیں۔

ایسے پولیس حکام جو صوبائی حکومت کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ نہ سمجھتے ہوں، اُن پر صوبائی انتظامیہ کی گرفت کتنی مضبوط ہو سکتی ہے؟۔۔۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ صوبے کی اپنی پولیس فورس کی تشکیل کی جائے۔ ہر صوبے کو اپنی پولیس فورس کے قیام کے لئے قانون اور آئین میں ضروری ترمیم کرنی چاہئے تاکہ پوری پولیس اور اس کے حکام کو احساس رہے کہ وہ صوبے کی حکومت کے سامنے جوابدہ ہے ۔۔۔ اگر سفارش سے مبرا صوبائی سروس کا قیام عمل میں لایا جائے تو معاملات کو بڑی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے، کیونکہ امن وامان کا قیام صوبائی معاملہ ہے، اس لئے فیڈرل کیڈر سے صوبے میں تعینات ہونے والے افسران کی تعداد بہت محدود ہونی چاہئے اور زیادہ ڈیوٹی صوبے کے حکام کو ہی ادا کرنی چاہئے۔ فیڈرل کیڈر کے حکام اپنی نوکری کے لئے سیاسی امداد کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں،یوں یہ حکام احتساب کے شکنجے سے بچ جاتے ہیں، کیونکہ صوبائی حکومت اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس کے علاوہ جو جونیئر افسران ہوتے ہیں، وہ بھی سیاست کے بل بوتے پر ہی اپنا مقام بناتے ہیں۔ اگر کسی وقت ان پر کڑا وقت آتا ہے، تو وہ بھی وقتی طور پر، کیونکہ سزا و جزاکا تصور ان کے بارے میں بالکل عنقاً ہو چکا ہے، اِسی لئے پولیس فورس تباہی کے کنارے تک پہنچ چکی ہے۔ ان حالات میں ہماری یہ تجویز ہے کہ صوبائی پولیس کیڈر کو بڑھایا جائے اور اس میں بھرتی کا نظام باقاعدہ بنایا جائے تاکہ انتظامی معاملات صوبائی حکومت کے براہ راست دائرہ اختیار میں آ جائیں۔ بھرتی کے لئے ہر صوبے کے پبلک سروس کمیشن کی خدمات سے استفادہ کیا جائے۔

ٹریننگ فراہم کرنے والے اداروں کی اصلاح اور بعد از ٹریننگ فیلڈ میں نوکری کے لئے چُنے جانے والے افراد کا چناؤ صرف پیشہ ورانہ بنیادوں پر ہونا چاہئے۔ اس مرحلے کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ کام کرنے کے ماحول میں تبدیلی پیدا ہونی چاہئے۔ پولیس کی تنظیم نو بھی اتنی ہی ضروری ہے، جتنی اس کی استعداد کار میں بہتری پیدا کرنا، کیونکہ استعداد کار کا براہ راست تعلق حالات کار سے ہوتا ہے۔ تھانوں کی حالت زار پر غور کرنے کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مقامات پولیس کی استعداد کار میں معاون ہو سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں پولیس تھانے عقوبت خانوں کا منظر پیش کرتے ہیں، جہاں امن، سکون اور تحفظ کی بجائے خوف کی فضا پائی جاتی ہے، ہر شخص اُن میں داخل ہوتے ہوئے گھبراتا ہے۔ ان اداروں کے اندرونی حالات اتنے دگر گوں ہیں کہ لوگ اپنی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے اُن کا رُخ کرنے سے کتراتے ہیں۔ تھانے کے منتظمین کا رویہ دیکھ کر شکایت کنندگان کی ہمت جواب دے جاتی ہے، جہاں لوگوں کا واسطہ ناخواندہ قسم کے اہلکاروں سے پڑتا ہے، جو لوگوں کی اشک شوئی کی بجائے اُن کے خوف میں اضافہ کرتے ہیں۔ اپنی شکایات کے اندراج کے لئے عوام کو جو بے شمار پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وہ ایک ایسی داستان ہے، جس کو سننے کا یارا ہم میں نہیں۔ یہاں پر اپنی شکایات کے اندراج کے لئے سفارش کے ساتھ پیسے کی چمک کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد جب شکایت درج کر لی جاتی ہے تو تحقیقات کا حصول اس سے بھی زیادہ مشکل ہے، جن خطوط پر تحقیقات ہوتی ہیں، اس پر بحث کے لئے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہو گی۔ قصہ مختصر عوامی بھلائی کے ان اداروں سے معاشرے کی توقعات بالکل پوری نہیں ہو پاتیں۔ (جاری ہے)

مزید : کالم