محرومیوں کی وجہ سے جنوبی پنجاب اور جنوبی سندھ صوبوں کا تقاضہ

محرومیوں کی وجہ سے جنوبی پنجاب اور جنوبی سندھ صوبوں کا تقاضہ

  

کراچی : تجزیہ مبشر میر

جنوبی سندھ اور جنوبی پنجاب میں محرومیوں کی وجہ سے نئے صوبوں کا تقاضہ کیا جارہا ہے ۔صوبائی حکومتوں نے موثر بلدیاتی نظام نہیں دیا اور نہ ہی ضلعی حکومتوں کو اختیارات دیئے ۔18ویں ترمیم کے مطابق ہر صوبے نے صوبائی مالیاتی کمیشن بنانا تھا اور ترقیاتی بجٹ کا کم از کم 30فیصد صوبائی مالیاتی کمیشن کے تحت مقامی حکومتوں کو دیا جانا تھا ۔باخبر ذرائع کے مطابق سندھ کی صوبائی حکومت نے چار سال گذارنے کے بعد صوبائی مالیاتی کمیشن بنایا اور آج تک اس کا صرف ایک اجلاس ہوا ہے اور صوبائی حکومت کے پانچ سال پورے ہورہے ہیں ۔گویا پیپلزپارٹی کی اپنی صوبائی حکومت نے ہی اٹھارہویں ترمیم پر عمل نہیں کیا ۔کراچی کی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ذرائع کے مطابق سندھ صوبائی مالیاتی کمیشن کا ایک ہی اجلاس منعقد ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے ضلعی چیئرمین کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور انہوں نے صوبائی حکومت سے اپنا حق مانگا تو اجلاس ملتوی کردیا گیا اور آج تک دوسرا اجلاس منعقد نہیں ہوا ۔ایسی ہی محرومیاں دوسرے صوبوں خاص طور پر جنوبی پنجاب میں بھی موجود ہیں ۔اس بات کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا کہ مستقبل میں جنوبی پنجاب کے ساتھ جنوبی سندھ صوبے کامطالبہ بھی زور پکڑے گا ۔

مزید :

تجزیہ -