ہفتے کی اضافی چھٹی‘ قرضہ لینے والوں کوسوا 2 سو ارب روپے کانقصان، ڈاکٹر ارشد

ہفتے کی اضافی چھٹی‘ قرضہ لینے والوں کوسوا 2 سو ارب روپے کانقصان، ڈاکٹر ارشد

  

لاہور(نیوز رپورٹر)لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سٹیڈنگ کمیٹی برائے ایگرو بیس انڈسٹریز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ارشد نے کہا ہے کہ پاکستان بھر میں بینکوں کی ایک دن کی چھٹی سے کھاتہ داروں کو مارک اپ کی مد میں سوا 4 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ ہفتے کی اضافی چھٹی کے باعث سالانہ سوا 2 سو ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، اس وقت سٹیٹ بینک کی تمام شیڈول برانچوں کے مجموعی ڈیپازٹس 13 کھرب روپے سے زائد ہیں جن پر ساڑھے 12فیصد کے پالیسی ریٹ کے مطابق 365 دنوں کے حساب سے مارک اپ ادا کیا جاتا ہے، تاہم ہفتہ کی اضافی چھٹی اور عوامی لین دن کیلئے بینکوں کی بندش کے ایام میں بینک صنعتکاروں کے یومیہ سوا 4 ارب روپے کھا جاتے ہیں۔روزنامہ ”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یکم رمضان المبارک کو بینک عوامی لین دین کیلئے بند تھے اور ساران دن بینکوں کا عملہ برانچوں میں موجود ہونے کے باوجود کھاتہ دار بینک سے پے آرڈر، ڈیمانڈ ڈرافٹ اور سی ڈی آر سمیت ہر قسم کے کاروبار سے محروم رہے، لہٰذا ایسے صنعتکار اور کاروباری افرادجنہوں نے 365 دن سالانہ کے حساب سے قرضہ جات حاصل کر رکھے ہیں انہیں مجموعی طور پر بینک کی چھٹی کا ایک دن سوا چار ارب میں پڑتا ہے، اس وقت صرف نیشنل بینک کی ملک بھر میں 1448 برانچیں ہیں جہاں معمول کا کاروبار نہیں ہوا۔ ڈاکٹر محمد ارشد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فیصل آباد جیسے بڑے شہروں سمیت سینکڑوں چھوٹے شہروں میں جمعہ کی چھٹی ہوتی ہے اور ہفتہ کاروباری افراد کیلئے پہلا کاروباری دن ہوتا ہے تاہم اس دن سٹیٹ بینک کی ہفتہ وار تعطیل کے باعث تمام سرکاری، نجی و کمرشل بینک بند ہوتے ہیں لہٰذا ہفتے کے روز کی اضافی چھٹی سے بھی سال میں 52 دن کاروبار نہیں ہوتا جس سے کاروباری افراد پر سوا دو سو ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔علاوہ ازیں کاروباری افراد کو ہفتہ کے روز ہونیوالی ادائیگیاں چھٹی کے بعد اگلے ہفتے منگل تک چلی جاتی ہیں جس کے باعث پہلے سے تباہ حال معیشت اور سست روی کا شکار ہو جاتی ہے اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بیرونی دنیا کو مثال بنا کر ہفتہ میں دو دن بینک بند رکھے جاتے ہیں تاہم ایسا ان ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

جہاں ہفتے کے روز تمام مارکیٹیں، فیکٹریاں، پراڈکشن ہاؤس اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہوتے ہیں، اس لئے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں معیشت سست روی اور کاروباری سرگرمیاں مندے کا شکار ہیں، یہ فارمولا نافذالعمل نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر محمد ارشد نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے اپیل کی کہ وہ کار وباری سرگرمیوں میں تیزی اور معیشت کی بہتری کیلئے بینکوں کی اضافی چھٹیاں ختم کریں۔

مزید :

کامرس -