لاہور کے تاجروں نے گاڑیوں پر دی جانیوالی ایمنسٹی سکیم کو مستر د کر دیا: سروے 

لاہور کے تاجروں نے گاڑیوں پر دی جانیوالی ایمنسٹی سکیم کو مستر د کر دیا: سروے 

  

لاہور(سٹی رپورٹر)حکومت کی جانب سے گاڑیوں پر دی جانی والی ایمنسٹی سکیم کولاہور کے تاجروں نے مسترد کر دیا۔ایمنسٹی سکیم سے کاروبار مزید متاثر ہو گا جبکہ ان گاڑیوں کی کو ئی خرید وفروخت بھی نہیں کرتا۔حکومت کو امپورٹڈگاڑیوں کی رجسٹریشن کھول دینی چائیے جس سے کاروبار میں اضافہ ہو۔روزنامہ ”پاکستان“کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق حکومت کی جانب سے ملک بھر میں نان کسٹم گاڑیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے ان پر دی جانے والی ایمنسٹی سکیم کو جیل روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے تاجروں نے مسترد کردیا۔ مارکیٹ میں کاروبار گرمیاں بری طرح متاثر ہیں جبکہ اس سکیم سے صرف ان لوگوں کو فائد ہو گا جو نان کسٹم گاڑیاں اپنے استعمال کیلئے رکھتے ہیں علاوہ ازیں اس کام میں سب سے برا مسئلہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹ اور سمارٹ کارڈ کا اجراء ہے جس میں ایکسائیز کی جانب سے بہت پریشان کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے روزنامہ ”پاکستان“کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جیل روڈ ایسوسی ایشن میاں محمد جمشید، چیئرمین انور بھٹی اور ملک وسیم سمیت دیگر تاجروں کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں انویسٹرز نہیں ہیں لوگ پیسہ باہر نکالنے سے ڈر رہے ہیں جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہیں حکومت کو چائیے کہ اس سکیم کی جگہ جیسے پاکستانی نان فائلرز کی رجسٹریشن کا عمل کھول دیا ہے ویسے ہی امپورٹڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دینا چائیے۔ایکسائیز ڈیپارٹمنٹ والے گاڑیوں کی نمبر پلیٹ اور سمارٹ کارڈ کے اجراء میں خاصاََ پریشان کرتے ہیں۔ اس سے بہتر تو گزشتہ حکومت تھی کم سے کم اس میں کاروبار بہتر تھا اور ایسے کام بھی با آسانی ہو جایا کرتے تھے۔لوگ گاڑیاں اسٹاک کر کے رکھ لیتے ہیں اور جب یہ سکیم آتی ہے تو اسے کسٹم دے کر رجسٹر کروا لیتے ہیں۔ایمنسٹی سکیم کالے دھن کو سفید کرنے کا ذریعہ ہے۔یہ سب پیسے بنانے کا چکر ہے اس سے مارکیٹ پر مزید برے اثرات مرتب ہوں گے۔اس سکیم سے فائدہ صرف حکومت کو ہوگاجس کا مقصد پیسے اکھٹے کرنا اور اس سے نیا پاکستان بناناہے۔ اس حوالے سے عثمان شمسی کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی سکیم میں رجسٹرڈ ہو کر بکنے آنے والی زیادہ تر گاڑیاں تو ٹیمپر ہوتی ہیں جس میں گاڑیوں کے انجن یا دوسر ے حصے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔حکومت پہلے یہ اسکیم کھول دیتی ہے اور بعد میں ہم سے کہا جاتا ہے کہ یہ گاڑیاں ٹھیک نہیں انہیں مارکیٹ سے اٹھا لیں۔اس اسکیم کا فائدہ انہیں ہیں جنہوں نے یہ نان کسٹم گاڑیاں اپنے استعمال میں رکھنی ہیں۔ہمارے لیے اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ مارکیٹ میں یہ گاڑیاں فروخت ہی نہیں ہو تیں۔ 

مزید :

کامرس -