مشرق وسطی پر جنگ کے منڈلاتے بادل

مشرق وسطی پر جنگ کے منڈلاتے بادل

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، پہلے سے کشیدہ صورت حال والے علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں تمام فریقوں کو زیادہ سے زیادہ برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے برادر پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، تمام فریقوں کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں کے دوران کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دوسرے حکام نے بھی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں، تحریک انصاف کی حکومت میں ایرانی وزیر خارجہ تیسری بار پاکستان کے دورے پر آئے ہیں، ملاقاتوں کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہ بہار بندرگاہ کو گوادر کے ساتھ منسلک کرنا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم اور آرمی چیف نے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے اس لئے کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے، لیکن اصل مشکل یہ ہے کہ کشیدگی کم کیسے ہو؟ اس خطے میں پہلے ہی عدم استحکام کا دور دورہ ہے، عراق کئی سال تک جنگ کا میدان بنے رہنے کے بعد اب بھی تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ پہلے تو عراق نے خود جارحانہ کارروائیوں کا آغاز کر کے کئی سال تک ایران پر جنگ مسلط کئے رکھی۔ عراق کو امریکہ اور مشرق وسطی کے کئی عرب ملکوں کی درپردہ سرپرستی حاصل تھی، لیکن اس جنگ نے عراق اور ایران کو تباہی کے سوا کچھ نہ دیا، پھرصدام حسین نے نہ جانے کس زعم میں کویت پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا، ان کا دعوی تھا کہ یہ ملک کبھی ان کے ملک کا حصہ رہا ہے، لیکن اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرتے ہوئے امریکہ نے عراق کو کویت سے نکال دیا۔ اس جنگ نے صدام حسین کے اقتدار کی چولیں ہلادیں اور عراق کی فوجی اور معاشی طاقت کا جو بھرم بنا ہوا تھا وہ بھی کھول کر رکھ دیا، خلیج کی اس پہلی جنگ کے بعد امریکی صدر بش نے دوسری مرتبہ عراق پر حملہ کرکے رہی سہی قوت بھی ختم کردی اور زیر زمین پناہ گاہ میں چھپے ہوئے صدام حسین کو گرفتار کرکے ان کے سیاسی مخالفوں کے سپرد کردیا، جو اب حکومت کر رہے تھے۔ صدام کو موت کی سزا دے دی گئی لیکن عراقی سیاست اور معیشت آج تک سنبھل نہیں سکی، پھر شام میں تباہی و بربادی کا کھیل شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔ بار بار کی امریکی کوششوں کے باوجود یہاں سے صدام کی طرح بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ تو نہیں کیا جاسکا لیکن یہ حکومت بھی اب کھنڈروں پر قائم ہے۔ لبیا کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی ہے اور مرد آہن معمر قذافی کے بعد یہ ملک بھی انتشار و خلفشار کا شکار ہے۔ یمن میں حوثی باغیوں نے تباہی و بربادی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کہیں کہیں امن کے جزیرے ہیں جہاں چنگاریاں سلگتی رہتی ہیں،پاکستان کے ہمسائے میں افغانستان میں 18سال سے امریکہ نے جو جنگ شروع کر رکھی ہے اس کے اختتام کی کوششوں کو بھی ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اور اعلان کے باوجود امریکہ ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ اپنی افواج افغانستان سے نکال سکے۔ نہ طالبان جنگ بندی پرآمادہ ہوئے ہیں۔

اب امریکہ خلیج فارس میں ایران کے ساتھ اگر کسی نئی جنگ میں الجھ گیا تو تباہی کا دائرہ وسیع تر ہو جائے گا اور اگر امریکہ کے خلیجی اتحادی ممالک بھی اس جنگ میں کود پڑے تو جنگ بہت زیادہ تباہ کن ہو جائے گی۔ ایران کے ساتھ امریکہ کا براہ راست تو کوئی تنازع نہیں لیکن اسرائیل اپنے مربی کو اس جنگ میں گھسیٹ کر ایران کی تباہی چاہتا ہے، اس کے خیال میں ایران واحد ملک ہے جو اس کے لئے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ خطے کے باقی ملک یا تو فوجی لحاظ سے کمزور ہیں اور اگر کسی میں تھوڑا بہت ”ساہ ست“ ہے تو اسے اس نے اپنی عیاری اور چالاکی سے غیر جانبدار کر رکھا ہے۔ چنانچہ اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے جو بھی پہاڑ توڑتا رہے، اور اسرائیلی توسیع پسندی میں جو بھی معاونت کرتا رہے اور بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بھی بنالے تو بھی یہ عرب ملک خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں صرف ایران ہی ایک ایسا ملک رہ جاتا ہے جو اسرائیل اور امریکہ کی نگاہوں میں کھٹکتا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کو جارح اور فلسطینیوں کو مظلوم سمجھتا ہے، اور صدر ٹرمپ نے اپنے عہد میں ایران کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کی کشیدگی ہمیشہ پیدا کر رکھی ہے اور اب تو جنگ کے بادل بھی منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ امریکی فوجی خطے میں آچکے یا آنے والے ہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ کو پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ مشورہ تو بہت ہی بروقت اور صائب ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے تمام فریق اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ جنگوں سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ مسائل کا نہ ختم ہونے والا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو جنگ کے بعد بھی مدتوں چلتا رہتا ہے۔ جدید دور کی جنگ تو ایسی تباہی و بربادی پھیلاتی ہے جس کا کوئی تصور اس سے پہلے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لئے خطے کے ملکوں کا کردار جنگ روکنے کے سلسلے میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کیونکہ جنگ کے اثرات ان تک بھی پہنچیں گے۔ امریکہ واحد سپر طاقت ہے اور وہ کسی نہ کسی طرح چین کے ساتھ اقتصادی جنگ میں بھی الجھا ہوا ہے۔ یہ اقتصادی جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے اس کے بارے میں تو ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن مائیک پومپیو تو اس جنگ کو بھی امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ خیال کرتے ہیں اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ جاری اقتصادی جنگ بھی ہر حالت میں جیتنا چاہے گا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اگر ایران کے خلاف بھی کسی جنگ میں الجھ گیا تو مشرق وسطی میں تباہی کا وہ دائرہ مکمل ہو جائے گا جو دو عشرے پہلے عراق سے شروع ہوا تھا اور پھر بہت سے دوسرے ملکوں کو لپیٹ میں لیتا ہوا اب ایران کے گرد منڈلا رہا ہے، کیا اس جنگ کو روکنے کی کوئی کامیاب کوششیں کی جائیں گی؟

مزید :

رائے -اداریہ -