بجلی چوری، خود کار میٹر اور بوسیدہ ترسیلی نظام!

بجلی چوری، خود کار میٹر اور بوسیدہ ترسیلی نظام!

  

وفاقی وزیر عمر ایوب نے بجلی چوری روکنے کے لئے بجلی کے خود کار میٹروں کی تنصیب کا اعلان کیا ہے۔ یہ تجویز عرصہ پہلے منظور ہوئی تھی اور تجربہ بھی کیا گیا تھا،لیکن میٹر درآمد نہ ہو سکنے کے باعث اس پر عمل نہ کیا گیا،ان خود کار میٹروں کے علاوہ یہ تجویز بھی منظوری حاصل کر چکی ہے کہ بیرونی ممالک کی طرح ”پری پیڈ“ نظام بھی متعارف کرایا جائے کہ صارفین ضرورت کے مطابق بجلی استعمال کریں اور ادائیگی پہلے کر دیں، یہ سب تجاویز منظور اور منصوبے بن چکے تھے،لیکن رقوم مختص نہ ہونے کے باعث میٹر ہی درآمد نہ ہو سکے، اب اگر وفاق نے کہا ہے تو پھر یہ انتظام ہو چکا ہو گا۔بجلی چوری روکنے کی کوشش اپنی جگہ درست،لیکن یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ صارفین کو بجلی بھی مہیا ہوتی ہے؟ ابھی گزشتہ روز تیز ہَوا چلی اور بارش ہوئی تو ہر شہر میں فیڈر ٹرپ کر گئے، لاہور تک میں 300 سے زائد فیڈر ٹرپ ہوئے اور کئی گھنٹے تاریکی رہی،اس سلسلے میں بتایا جا چکا ہے کہ بجلی کا ترسیلی نظام نہ صرف مدت پوری کر چکا،بلکہ اس سے کہیں زیادہ مدت سے چلا آ رہا ہے۔ ترسیلی لائنیں ڈھیلی اور پرانی ہیں، تھوڑی تیز ہوا اور بارش سے ایک دوسرے سے ٹکراتی اور جڑ جاتی ہیں اس سے فیڈر ٹرپ کر جاتے ہیں، اور تب تک بجلی بحال نہیں ہوتی جب تک یہ خرابی درست نہ ہو۔یہ خبر بھی ہے کہ اس پرانے ترسیلی نظام کی تبدیلی کے لئے منصوبے بنتے اور رقوم بھی مختص ہوتی ہیں،لیکن آج تک یہ معلوم نہیں ہَوا کہ ان سے تبدیلی کہاں ہوئی۔ عمر ایوب نے بھی پرانے منصوبے کو دہرا دیا ہے،جس کا سارا وزن صارفین پر ہے کہ صارف ہی چور ہیں،حالانکہ چوری زیادہ کنڈوں کے ذریعے بجلی کمپنیوں کے لوگو ں سے مل کر ہوتی ہے، جو گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔ چوری کی ایک وجہ نرخ زیادہ ہونا بھی ہے، پاکستان ایک ایسا ملک ہے،جہاں بجلی، پانی وغیرہ زیادہ استعمال ہونے پر نرخ بڑھتے چلے جاتے ہیں،جبکہ دُنیا میں کم ہوتے ہیں۔ بہرحال وفاقی حکومت جیسا چاہے کرے، ضرورت اِس امر کی ہے کہ بجلی مہنگی نہ کی جائے اور صارفین کو پریشان نہ کیا جائے،کوئی بھی محب وطن پاکستانی سرکاری واجبات دبانے کا نہیں سوچتا۔ یہ تو حالات ہیں کہ ایسا ہوتا ہے، حکومت اور محکموں کو تمام امور پر غور کر کے ہی پالیسی بنانا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -