نئے سفر کے لئے نئی روشنی

نئے سفر کے لئے نئی روشنی
نئے سفر کے لئے نئی روشنی

  

سرکاری طور پہ سینئر سٹیزن بن جانے کے باوجود مَیں آج تک اپنے آپ کو اُن بڈھوں میں شمار نہیں کرتا جنہیں موجودہ زمانے کی کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔ چائے کا کپ پیش کر و تو کہیں گے ”نہیں میاں، دنیا بدل گئی، اب وہ چائے نہیں رہی“۔ اخبار پڑھنے کو دو، ارشا د ہوگا ”پتا نہیں سُرخیوں کو کیا ہو گیا ہے، لفظ پہ لفظ چڑھا ہوا ہے“۔ یہاں تک کہ دوستوں کی خوشنودی کے لئے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک پرانی انگریزی فلم دیکھنے کو لے آیا اور اپنے ہی ہم عصروں سے سُننا پڑا کہ یار، کالج کے زمانے میں جو بلیک اینڈ وائٹ ورشن دیکھا اُس کا جواب نہیں تھا۔ اِن میں بہت سے لوگ اُس حکیم الامت کے ماننے والے بھی ہیں جن کا فیصلہ تھا کہ ’ٹھہرتا نہیں کاروانِ وجود‘۔ گرد وپیش کے ’بزرگوں‘ کا وارفتگی کی حد تک ماضی سے یہ رشتہ میری سمجھ میں کیوں نہیں آتا؟ اِس کی وجوہات ہیں تو سہی، مگر ذرا عجیب و غریب۔

پہلی وجہ کا تعلق اُن خاتون سے ہے جو بجائے خود اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ مراد ہیں میری دادی جنہیں مَیں نے اپنی طالب علمی کے دَور میں اپنی طرف سے خوش کرنے کے لیے ایک دِن یوں ہی کہہ دیا ”بی جی، پرانا زمانہ واپس آ جائے تو کتنا مزا آئے۔ کہتے ہیں لوگ بہت اچھے ہوتے تھے“۔ ”بالکل غلط گل اے“۔ بی جی نے، جن کے منہ سے کسی نے کبھی سخت لفظ نہ سنا، یہ بات قدرے ڈانٹنے کے انداز میں کہی تھی۔ مَیں نے پوچھا ”کیوں؟“۔ جواب ملا ”پرانا زمانہ بہت بُرا تھا۔ پاکی پلیدی کا کوئی پتا نہیں تھا۔ آج کل بہت صفائی ستھرائی ہے۔ پہلی عورتوں کو تو ہم نے دیکھا کہ اِدھر بچے کا گند صاٖ ف کیا ہے، اُدھر دوبارہ آٹا گوندھنا شروع کر دیا۔ غربت اتنی کہ بڑے بوڑھے کہتے لڑکی کو اُس گھر میں بیاہو جہاں لوگ زیادہ ہوں۔ اُن کی بچی کھچی روٹی سے بے چاری کا پیٹ بھر جائے گا“۔

ہمارے مُلک میں خود تنقیدی عام نہ ہونے کے باعث یہ ہو سکتا ہے کہ آپ میرے اِس اولین سبق کو نئے پاکستان کے خلاف کسی سازش کا شاخسانہ سمجھ لیں۔ اگر نہیں تو دادی مرحومہ پہ غربت، سماجی حالات سے لاعلمی یا حد سے بڑھی ہوئی کسرِ نفسی کا الزام تو آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ سچ پوچھیں تو اِن میں سے ایک بھی لیبل بے انصافی پر مبنی نہیں۔ غربت اس لئے کہ غیر منقسم ہندوستان میں وسطی پنجاب کے بیشتر مسلمان تھے ہی غریب۔ پھر ہماری بی جی کو تو آٹھ سال کی عمر میں یتیمی کا صدمہ سہنا پڑا اور سیالکوٹ شہر سے ماں کے ہمراہ تحصیل ڈسکہ میں اپنے نانا کے گاؤں آ بسیں، جہاں زیادہ اراضی سکھوں کی تھی۔ سماجی حالات سے بے خبری کا سبب یہ کہ پہلا سیپارہ پڑھ لینے پر نانا نے کہہ دیا ”بس پُتر، بیٹیوں کے لئے ایک سیپارہ بہت ہے“۔ اِن حالات میں کسرِ نفسی نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟

بی جی نے دُور دراز گاؤں میں رہتے ہوئے خواہشِ مطالعہ کی تسکین کے لئے کِس طرح اپنی واحد سہیلی ہرنام کور کو ساتھ ملایا، یہ الگ داستان ہے۔ دونوں نے کسی نہ کسی طرح ایک دوسری کی مدد سے سید ہاشم شاہ کی سی حرفیوں، قادر یار کی کہانیوں اور حافظ برخوردار کے منظوم قصوں تک رسائی حاصل کرلی۔ اُس دَور میں اُن کے ہاتھ لگنے والی ایک کتاب کا نام تھا ’پکی روٹی‘۔ اپنے ماحول اور زمانے کے لحاظ سے سولہ صفحات کا سوال جواب پر مشتمل یہ کتابچہ بی جی کے نزدیک ’موسٹ ماڈرن‘ لٹریچر ہوگا کیونکہ اِس میں دینِ اسلام کے بعض بنیادی اصول خطیبانہ انداز میں درج تھے۔ جیسے ”جے کو پُچھ تُوں بندہ کس دا ہیں؟ توُں آکھ خدا تعالی دا۔ جے کو پُچھ اُمت کس دی ہیں؟ تُوں آکھ جی حضرت محمدؐ دی“۔ یہی باتیں سُن کر ہرنام کور کی کسی رشتہ دار نے طعنہ دیا تھا کہ لگتا ہے تمہارے آس پڑوس میں مسلمان رہتے ہیں۔

ہرنام کور کی پاکستان سے خلافِ مرضی روانگی کا منظر دکھانا چاہوں تو موضوع اپنی جگہ سے کھِسک جائے گا۔ کالم کی ابتدا یہ بتانے کے لئے تھی کہ مجھے ڈھلتی عمر میں بھی ماضی کے ساتھ چمٹے رہنا کیوں پسند نہیں۔ اِس ضمن میں دادی کا دیا ہوا سبق تو بیان کر ہی دیا۔ ہاں، انہوں نے یہ سبق اُس وقت دیا جب وہ اپنے سب سے بڑے پوتے سے (سمجھا کریں!) سالانہ امتحان کی تیاری کے سلسلے میں اردو کی دوسری کتاب کا مضمون ’دانتوں کی صفائی‘ سُن رہی تھیں۔ دراصل، اب سے کوئی سو سال پہلے ایک رونقی طبیعت کے آدمی سے بیاہے جانے کی بدولت بی جی نے پہلے پہل دس اور پھر سو تک گنتی سیکھی، پھر مسلسل مشق سے اردو پڑھنے میں روانی پیدا کی۔ یہ سب کچھ اپنے بچوں کو سکھانے کے لئے تھا۔ یہاں تک کہ اکلوتا بیٹا چند سال کا ہوا تو نہ صرف ٹائی باندھنی سیکھی بلکہ لڑکے کو بھی سکھا دی۔

اگر گزرا ہوا دور دوبارہ زندہ ہو جاتا تو اب سے سو سال پہلے کی پسماندہ عورت، جس نے بچپن میں اسکول کا نام تک نہیں سنا تھا، اسکول میں داخل ہونے کی حسرت پوری کر لیتی۔ وقت بدل گیا ہے، اِس لئے دو نسلیں بعد کا آدمی آج یہی سوچ کر ڈر جاتا ہے کہ پرانا زمانہ لوٹ آیا تو خود اُس کے ساتھ کیا ہوگا۔ ایک تو نئے سرے سے پھر اسکول داخل ہونے کی تگ و دو۔ کیا داخلہ مِل سکے گا یا نہیں؟ اور بالفرض داخلہ مل گیا تو کیا پتا کتابوں کا وہ بستہ اٹھانا پڑے جس کا بوجھ بعض حالتوں میں خود بچے کے اپنے وزن سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ اگر داخلہ نجی شعبے میں ہوا تو اُس اسکول تک پہنچنے کا وسیلہ کیا ہو گا جہاں بچے اپنی اپنی طبقاتی حیثیت کے مطابق، کار، موٹر سائیکل، سوزوکی وین یا چنگچی میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے نکلتے ہیں۔ سب سے بڑا عذاب ہے امتحانات کا خوف۔

اگر آپ اِس خوف کی شدت کو سمجھنا چاہیں تو یہ خبر پڑھ لیجئے کہ لاہور کی ایک یونیورسٹی میں امتحان کی پیداکردہ مایوسی نے سیکنڈ ائیر کے ایک طالب علم کی جان لے لی۔ چند ہی دن پہلے یہ ناقابلِ یقین انکشاف بھی ہوا تھا کہ بھارتی ریاست تلنگانہ میں ہائر سیکنڈری امتحانات کے متنازعہ نتائج سے دل برداشتہ ہو کر اُنیس امیدواروں نے خود کشی کر لی۔ ماہرین اِس روح فرسا صورت حال کے لئے عام طور پہ اُس ناقابلِ برداشت ذہنی دباؤ کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں جو والدین اور اساتذہ کی طرف سے اعلی تعلیمی کارکردگی کے مطالبے سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک حالیہ اخباری تجزیے کے مطابق، ہمارے ملک میں زیرِ تعلیم بچوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کے تین اسباب ہیں، یعنی غیر دلچسپ نصابی مواد، دقیانوسی طرزِ تدریس اور وہ امتحانی نظام جسے طالب علم کی سمجھ بوجھ سے زیادہ اُس کے حافظے کی آزمائش سمجھنا چاہئیے۔

تجزیہ نگار کی رائے اپنی جگہ، لیکن دل پہ ہاتھ رکھ کر ہمیں حقیقت پسندی سے کچھ اَور بھی تو سوچنا پڑے گا۔ جیسے یہ کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اسکول کی سطح کے امتحانات کیا ذہانت کے ساتھ ساتھ حافظے کی آزمائش نہیں ہوتے اور ہمارے یہاں تعلیمی نصاب اور طرزِ تدریس کیا ہمیشہ سے غیر دلچسپ نہیں تھے۔ اگر غیر دلچسپ تھے تو پھر ہوا کیا ہے؟ دو نسلیں پہلے اسکول میں داخلے کا خواب دیکھنے والوں کے بچے اب ظاہری سہولیات میں اضافے کے باوجود تعلیمی بوجھ کے ہاتھوں اپنی جان لینے کے درپے کیوں ہو گئے؟ کیوں نہ اِس کا جواب نصابی پیچیدگیوں سے ہٹ کر اُس سماجی ٹوٹ پھوٹ اور افراتفری کے پس منظر میں تلاش کریں جس میں فرد سے فرد کی لڑائی، طبقے کے خلاف طبقے کی دوڑ، نیز مراعات یافتہ شہروں اور محروم علاقوں کی باہمی نادیدہ چپقلش ہر لحظہ تیزتر ہوتی جا رہی ہیں۔

اِس نکتے کی نشاندہی ایک مرتبہ پہلے بھی کر چکا ہوں کہ ترقی پذیر دنیا میں تعلیم محض بلندتر شرحِ خواندگی، گردو پیش سے واقفیت اور معلومات میں اضافے کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ عمودی ترقی کا زینہ بھی ہوا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجموعی زندگی کے سُدھار کی خاطر تعلیم، صحت اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ضمن میں ہر شہری کے لئے بلا امتیاز یکساں ہموار مواقع مملکت کی اولین ذمہ داری ہوا کرتے ہیں اور اِن سے انحراف ارتکابِ جرم سے کم نہیں۔ مملکتی پالیسی کے ساتھ ساتھ معاشرے کا اپنا طرزِ عمل بھی اہم ہوتا ہے شکست و ریخت سے دوچار پاکستانی معاشرے میں کہیں کہیں خوشحال مڈل کلاس کے جزیرے نمودار تو ہوئے ہیں۔ مگر کیا اِن نئے جزیروں کے باسی تبدیلی کی لہروں کے مد و جزر میں اُن بستیوں کو بھی دیکھ پائیں گے جو خطِ غربت کے ساحل سے بہت پیچھے رہ گئیں؟ کیا کروں کہ سوا صدی سے پیشتر، پہلے سیپارے پہ رسمی تعلیم ختم کر لینے والی عورت مجھ سے اِس پرانے سوال کا نیا جواب طلب کر رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -