مدرسوں کی تعلیم سے پیدا شدہ ماحول

مدرسوں کی تعلیم سے پیدا شدہ ماحول
مدرسوں کی تعلیم سے پیدا شدہ ماحول

  


مسلمانوں کا پہلا مدرسہ رسول اللہ ؐ کی حیات مبارکہ میں ”مدرسہ صفہ“ کے نام سے مدینہ منورہ میں قائم ہوا۔ یہاں قرآنی تعلیم کے علاوہ، عسکری تعلیم بھی دی جاتی تھی،مثلاًفرسٹ ایڈ، گھوڑا سواری اُس زمانے کے ہتھیاروں کا استعمال بھی مدرسہ صفہ میں سکھایا جاتا تھا۔ اس مدرسے کے معلّم رسول اللہؐ بھی کبھی کبھی ہوتے تھے، لیکن مستقل معلّم حضرت عبیدہ ابنِ السمت مقرر ہوئے۔ اسلامی معاشرے میں باقاعدہ مدارس کی شروعات 9ویں صدی عیسوی سے وسطیٰ اشیاء،شمالی افریقہ اور بغداد میں ہوئی۔ ابتداء میں اِن مدرسوں کا مقصد شریعہ اور فقہہ کی تدریس تھی، لیکن آہستہ آہستہ جب مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ یورپ،چین اور ہندوستان تک پہنچا تو اِن مذہبی مدارس میں دنیاوی علوم بھی پڑھائے جانے لگے۔ اگلے 400 سالوں میں اِن مدرسوں نے عظیم سکالرز پیدا کئے۔ علمِ طب، ریاضی، انجینئرنگ، جغرافیہ، تاریخ،فلسفہ، فلکیات اور دیگر سائنسی علوم کے مسلمان ماہرین اسلام کے اس سنہرے دور میں نظر آتے ہیں۔ 14ویں صدی کے آغاز سے مسلمانوں پر جہالت کے اندھیرے چھانے شروع ہوئے جو 21ویں صدی میں بھی قائم ہیں۔ تجسُس، تحقیق اور ایجاد و دریافت کا عنصر ہم میں سے ختم ہو چکا ہے۔اب تو ہم غیروں کے دئیے ہوئے علوم پڑھتے ہیں۔ اُن ہی میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لیتے ہیں۔ اچھی ملازمت یا اعلیٰ عہدہ حاصل کرتے ہیں اور علم کی دنیا میں کوئی مزید اِضافہ کئے بغیر ریٹائر ہو کر فوت ہو جاتے ہیں۔

برِصغیر میں انگریز کے آنے سے پہلے تعلیمی نظام مدرسے اور دھرم شالائیں چلاتے تھے۔ مسلمانوں کے مدرسے میں قرآن، حدیث، فقہہ، عربی،فارسی، گرامر، علمِ منطق اور ابلاغ کے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ برِصغیر کے دو مدرسے مشہور تھے، مدرسہ رحیمیہ جو شاہ ولی اللہ کے والدنے دھلی میں بنایا تھا اور ایک مدرسہ لکھنؤکا فرنگی محلی تھا جسکی بنیاد مُلاّ نظام الدین نے ڈالی تھی۔ بعد میں مدرسہ دیو بند، مدرسہ تھانہ بھون اور بریلی کا مدرسہ معرضِ وجود میں آئے۔ برِصغیر کے جس حصے کو پاکستان کہتے ہیں یہاں برطانوی حکومت سے قبل کوئی قابلِ ذکر مدرسہ یا دینی اِدارہ نہیں بنا تھا۔ انگریزی راج آنے کے بعد جدید Schoolingسسٹم شروع ہوا۔ سکولوں میں تعلیمی نصاب غیر مذہبی رکھا گیا۔ دینیات یا ہندو دھرم بطور Optional مضمون کے پڑھا جاتا تھا۔ زیادہ زور عمرانی اور سائنسی مضامین پر ہوتا تھا۔ منظّم کھیلوں کو اہمیت دی گئی۔ سکولوں، کالجوں اور یونیوسٹیوں کے درمیان کرکٹ، فٹ بال اور دوسرے کھیلوں کے ٹورنامنٹ ہوتے تھے جس سے نوجوان طلباء میں چستی اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ہر سکول اپنی شاخت بنانے کے لئے عموماً سکول یونیفارم رائج کرتا تھا۔ سکولوں کے درمیان تقریری مقابلے ہوتے تھے۔ موسمِ برسات کے شروع ہوتے ہی سکولوں میں فائن ڈے منایا جاتا تھا۔ غرض کہ انگریزی سکولوں کی آمد سے تعلیمی ماحول میں تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ، زندہ دِلی، مستعدی، چستی اور صحت مندسرگرمیاں بھی شامل ہو گئیں۔ اِن ہی سکولوں اور کالجوں کے طلباء فارغ التحصیل ہو کرسول سروس اور فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔بقیہ تعلیم یافتہ ریلوے، ڈاکخانے اور دوسرے سرکاری محکموں میں ”بابو“ بن گئے، لیکن ہم برِصغیر کے مسلمان کوئی موجد یا سائنسی محقق پیدا نہ کر سکے سوائے ڈاکٹر عبدالسلام کے، جنہیں ہم مسلمان ہی نہیں مانتے۔ اِسلامیات، اُردو، پنجابی کے Phd تو کثیر تعداد میں نظرآتے ہیں،لیکن سائنسی علوم کے Phd قابلِ ذکر تعداد میں نہیں ہیں۔

پاکستان میں مدرسوں کی بھر مار جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہوئی۔ ہر مسجد کے ساتھ خصوصی شرائط کے بعد مدرسہ کھولنے کی اِجازت تھی۔ اِن مدرسوں میں سوائے قرآن کی تعلیم کے ا ور کچھ بھی نہیں پڑھایا جاتا تھا، لیکن اِن کو سرکاری اِمداد ملتی تھی۔ پھر سعودی عربیہ نے 1984ء سے مخصوص مسلک کی ترویج کے لئے مالی اِمداد دینی شروع کر دی۔ 1947ء میں پاکستان کے دونوں حصوں میں 196 مدارس تھے جو تمام کے تمام غیر رجسٹرڈ تھے۔ 2017ء کی شماریات کی مطابق رجسٹرڈ مدرسوں کی تعداد 26000 کے قریب ہے۔ یہ رجسٹریشن حکومتی محکمہ تعلیم کے ذریعے نہیں ہے، بلکہ مختلف مسلکوں کے مدرسوں کی تنظیموں میں اِن مدرسوں کا اندراج ہے۔ اسی کو ہم رجسٹریشن کہہ سکتے ہیں۔ 9000 سے زیادہ مدرسے بالکل ہی غیر رجسٹرڈ ہیں۔ اسلامی مدرسے قائم کرنا ایک کاروبار بن گیا ہے۔ دیہاتوں اور قصبوں کے مدرسے عموماً دینی سیاسی جماعتوں کے زیرِاثر ہوتے ہیں۔ یہ مدرسے یتیم خانوں کا بھی کام کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں چندے اور خیرات کی شکل میں کافی رقم مل جاتی ہے۔ یہ مدرسے طلباء کی سپلائی کا کام بھی کرتے ہیں۔ آپ نے کسی کی موت کے بعد قل پڑھوانے ہوں یا کوئی ختمِ قرآن کی تقریب ہو، آپ کو اِن مدرسوں سے مطلوبہ تعداد میں ختم پڑھنے والے مل جائیں گے۔ یہ ہی طلباء سیاسی دینی جماعتوں کو Street power کی رسد مہیا کرتے ہیں، بلکہ میرے علم میں ایسے مدرسے بھی ہیں جو عام سیاسی پارٹیوں کو بڑی رقم کے عوض اپنے مدرسوں کے طلباء کو سٹرکوں پر اودہم مچانے کے لئے لاتے ہیں۔

پاکستان کے بڑے مدارس میں جامعہ بنوریہ کراچی کا بڑا نام ہے۔ اس جامعہ کا الحاق دارالعلوم دیوبند سے ہے۔ پاکستان میں یہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ بھی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ اس جامعہ کی تعلیم کا 90 فیصد حصہ مذہبی تعلیم پر ہے۔صرف کمپیوٹر کی تعلیم ہے جو غیر مذہبی ہے۔اس جامعہ میں 8000 کے قریب طلباء پڑھتے ہیں، جن میں خواتین بھی ہیں۔ دینی تعلیم کا معیار بہت اونچا ہے۔9 ستمبر 2001ء سے قبل یہاں نو مسلم امریکی، کنیڈین، برطانوی اور یورپی اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے آتے تھے۔ اس جامعہ نے 1978ء میں ایک مدرسے کی صورت میں اِبتداء کی تھی۔ یہ جامعہ مکمل طور پر غیر سیاسی ہے۔ اس کے مدرسے اور یونیورسٹی کے طلباء بڑے باعزت طریقے سے رہتے ہیں اور کسی بھی بلوہ گردی میں شامل نہیں ہوتے۔ برِصغیر میں مسلمان حکمرانوں نے تعلیم کو کبھی ریاستی ذمے داری نہیں سمجھا لہٰذا انگریزی راج سے قبل تعلیم کا مطلب مذہبی تعلیم ہوتا تھا۔ جو مسلمانوں کے بچے مسجدوں میں حاصل کرتے تھے یا مسلمان اشرافیہ کی خواتین اپنی رہائش پر غریب بچوں کو قرآن پڑھانے یا حفظ کرانے کی تعلیم دیتی تھیں۔ گھروں پر غریب بچوں کو تعلیم دینے کا رواج تو اَب تک رہا ہے۔ تقسیمِ برِصغیر سے پہلے مجھے اپنابچپن یاد ہے۔ آس پاس کے سرکاری کوارٹروں کے مسلمان بچے قرآن پڑھنے اور تختی لکھنے کے لئے ہمارے گھر آتے تھے جو سوِل لائنز میں سرکاری طور پر ملا ہوا تھا۔

جنرل ضیاء کی حکومت سے قبل پنجاب اور KPK کے مدرسوں کے طالب علموں میں شدّت پسندی نہیں آئی تھی۔ مدرسوں کی ملکیت یا تو کسی دینی عالم کی ذاتی کوشش سے ہوتی تھی یا پھر دینی جماعتیں اُن مدرسوں کی سرپرست ہوتی تھیں۔ اِن مدرسوں کے طلباء کو سڑکوں پر مظاہرہ کرنے کے لئے اُس وقت بھی استعمال کیا جاتا تھا، لیکن نوبت خون خرابے اور توڑ پھوڑ کی نہیں آتی تھی، ہمارے مدرسوں میں شدّت پسندی آنی شروع ہوئی، جب 1979ء میں افغان / روس جنگ شروع ہوئی اور بیرونی مداخلت ملک کی سیاست میں بھی اور ہمارے مدرسوں میں بھی شروع ہوئی۔ بیرونی فنڈنگ کے دھارے کھول دئیے گئے۔ ہمارے علماء جو سائیکلوں پر ہوتے تھے پیجرو اور لینڈ کروزر پر براجماں نظر آنے لگے۔ اہل حدیث اور دیو بندی مدرسوں سے طلباء جہاد کے لئے بلائے جاتے تھے۔اہلِ تشیع اور بریلوی مدرسوں کو چونکہ اِمداد نہیں ملتی تھی اس لئے اُن کے طلباء نے جہاد میں حصہ نہیں لیا۔اِن مدرسوں کے طلباء غیر شدّت پسند سمجھے جاتے تھے۔ ایک دلچسپ حقیقت۔ جب افغان جنگ ختم ہوگئی اور امریکہ نے جہادی مدرسوں اور جہادی طلباء سے منہ موڑ لیا تو اِن مدرسوں کے طلباء اور سرپرستوں کو امریکی ویزہ ملنے بند ہوگئے۔ اَب یہ مدرسے اور اِن کے طلباء امریکہ کے لئے Persona non grata بن گئے، جبکہ امریکی ویزہ اہلِ تشیع،بریلوی اور تبلیغی جماعت والوں کو اَب بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔ چند سال قبل تک بریلوی مدارس شدّت پسند نہیں تھے، کیونکہ اُن کے مزاج میں صوفی اِزم کی نرم خوئی ڈالی جاتی تھی، لیکن جب سے اِن مدرسوں کی سیاسی سرپرستی ہونی شروع ہوئی، اِن مدرسوں میں بھی جاہلانہ شدّت پسندی اپنے ہی ملک کے قوانین کے خلاف پیدا کر دی گئی۔

اِن دینی مدرسوں کے طلباء (سوائے چند بڑے مدرسوں کو چھوڑ کر) کا ذہن اِنتقامی خود بخود بن جاتا ہے۔ چونکہ یہ نہائت غریب گھرانوں سے آتے ہیں، 24 گھنٹے 12 مہنے مدرسوں کے گھُٹے ہوئے ماحول میں رہتے ہیں، اِن کے اساتذہ بھی ایسے ہی غریبانہ پس منظر سے آئے ہوتے ہیں، اس لئے اِن طلباء کو آسانی سے شہروں میں لا کر توڑ پھوڑ کے لئے اُکسایا جاسکتا ہے۔ مدرسوں کے طلباء کی تعداد قریباً 25 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ اِن میں سے نصف کے قریب چند دینی سیاسی جماعتوں کے مدرسوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِن طالب علموں کی تعداد کو دیکھ کر ہر سیاسی مولوی ملین مارچ کا نعرہ لگاتا ہے اور ہر حکومتِ وقت کو اپنی اس طاقت سے خوفزدہ کرتا رہتا ہے۔ اِن مدرسوں کے طلباء آہستہ آہستہ ایک مخصوص ذہن اور چال چلن کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اِن میں ایک اچھا اور امن پسند شہری بننے کی صلاحیت پیدا ہی نہیں ہوتی۔ مدرسوں میں رہتے ہوئے یہ چندہ مانگنے پر لگا دیئے جاتے ہیں۔ بڑے ہو کر یہ ہی طلباء مذہبی لبادہ اوڑھ کر زبردستی ”عطیات“مانگتے ہیں۔ حکومتیں بھی اِن کی Nuisense-value کو سمجھ کر ”عطیات“کے ذریعے اِنہیں خوش رکھتی ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق پاکستان میں صحیح اسلام اور اُسکی معاشرتی اِخلاقیات رائج ہوں نہ ہوں، لیکن مدرسوں والا اسلام مزید پھیلے گا، کیونکہ اس میں چند لوگوں کے لئے مستقل کمائی اور سٹریٹ پاور بطور بونس کے میسر ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...