مشکل کی گھڑی میں پیارے وطن کے ساتھ کھڑے ہیں، تارکین وطن

مشکل کی گھڑی میں پیارے وطن کے ساتھ کھڑے ہیں، تارکین وطن

  

جوہانسبرگ(بیورورپورٹ)جنوبی افریقہ میں مقیم پاکستانی سیاسی ،سماجی،مذہبی رہنماﺅں، صنعتکاروں، بزنس مینوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہم اپنے پیارے وطن کے ساتھ کھڑے ہیں،جنوبی افریقہ میں مقیم تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ وہ پاکستانی مصنوعات خریدیں اور اپنے ملک کی اشیا ءکو پرموٹ کریں،پاکستان موبائل فورم میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ﺅںسید احمد ولید بخاری اور سید تنویر بخاری نے کہا کہ پاکستان اسوقت مشکل ترین معاشی بحران کا شکار ہے اور اس مشکل وقت میں ڈالر کی خریدوفروخت صرف اور صرف اس لئے کی جائے کہ اسکو بیچ کر کاروبار کی غرض سے منافع کمانا مقصود ہو تو یہ پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔غیر ملکی کرنسی ایکسچینج ڈیلرز صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ان کو روکا جائے۔بائیکاٹ مہم کا ساتھ دینے سے کرنسی پھر سے مستحکم ہو گی ،ہم سب کواس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے،ڈالر کا بائیکاٹ کرنا ہے اور پاکستان روپے کی قدر کو بڑھانا ہو گا۔مشکل وقت میں قومیںملک کے ساتھ ڈھال بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔ممتاز بزنس مین سعید میو نے کہا کہ پاکستانی قوم اس مہم کو کامیاب کرے انشاءاللہ ملک بحرانی کیفیت سے نکل جائے گا،پھر ہمیں کسی دوسرے ملک سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔مسلم لیگ ن کیپ ٹاﺅن کے رہنما راشد بشیر سیال نے کہا کہ پاکستانیوں کے سامنے ترکی اور چائنہ کی مثال موجود ہے جنہوں نے ڈالر کو پاﺅں تلے روند کر ترقی کی ہے،ترکی نے اپنی مصنوعات کو پرموٹ کر کے اربوں ڈالر کا قرضہ اتارا ہے،چین کے لوگوں نے ہواوے موبائل کے سافٹ وئیر پر پابندی پر اپنے آئی فون بیچنے شروع کر دئےے ہیں جنہیں اب چائنہ میں کوئی خریدنے والا بھی نہیں۔خالد سلہریانے کہا کہ روپے کے استحکام اور ڈالر کی ویلیو گرانے کیلئے قوم اور تاجر برادری ملکر حکومت کا ساتھ دیں تاکہ روپے کی قدر مستحکم ہوسکے۔پاکستان عوامی تحریک بنونی کے رہنما رائے شہباز خان نے کہا کہ پاکستانی اشیاءخریدو پاکستانی بنو بہت اچھا اقدام ہے ،اس سے پاکستان کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے،ڈالر کے بائیکاٹ سے پاکستانی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو گا،مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری شہزاد انور نے کہا کہ دیار غیر میں بیٹھ کر اپنے وطن کے لئے جو کچھ ہم سے ہو سکا ہم کریں گے، کسی بھی سیاسی واسبتگی سے بالاتر ہو کر ہمیںسب سے پہلے پاکستان کا سوچنا ہو گا،ہم جو کچھ بھی ہیں اپنے پیارے وطن پاکستان کی بدولت ہیں۔

مزید :

علاقائی -