کیا مودی بھارت کی تقسیم کا باعث بنیں گے

کیا مودی بھارت کی تقسیم کا باعث بنیں گے
کیا مودی بھارت کی تقسیم کا باعث بنیں گے

  

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات واضح سبقت سے جیت لئے ہیں، جس کے بعد نریندر مودی نے ’تاریخی مینڈیٹ‘ پر ووٹروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔دہلی میں فتح کا جشن منانے کے لیے جمع ہونے والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب ایک نیا انڈیا چاہتے ہیں۔ میں سر جھکا کر آپ سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘ہمارے وزیراعظم عمران خان نے بھی نریندر مودی کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 350 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ راہل گاندھی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کا انتخاب عوام کا حکم ہے جسے وہ تسلیم کرتے ہیں۔ بھارت میں مرکزی حکومت بنانے کے لئے 272 نشستیں درکار ہیں اور بی جے پی کو حکومت سازی کے لئے سادہ اکثریت اپنے بل بوتے پر ہی مل گئی ہے۔

امریکی جریدے ”ٹائمز میگزین“ نے اپنے نئے شمارے کے سرورق پر نریندرا مودی کی تصویر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت کی تقسیم کا ذمہ دار۔ بھارت میں مودی کی دوبارہ حکومت بننا کسی سانحہ سے کم نہیں۔یہ بھارت کو تاریکی میں پھینکنے والی بات ہوگی۔ جریدے میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا بھارت اگلے پانچ سال بھی مودی جی کی حکومت سہہ سکے گی۔ مودی حکومت کے اگلے پانچ سال کا اندازہ لگانے سے پہلے گزشتہ 5 سال کے اندازِ حکومت پر غور کرنا ضروری ہے۔ سیکولر بھارت کی دھجیاں اڑانے کے لئے بی جے پی 5 سال قبل اقتدار میں آئی اور اس نے ہندوو¿ں اور خاص طور پر انتہا پسند ہندوو¿ں اور دوسری اقلیتوں کے درمیان تناو¿ اور تفریق پید ا کی۔ اس مرتبہ بھی انتخابی مہم میں مودی نے نعرہ لگایا کہ سب کا ساتھ سب کا ویکاس، مگر اپنے کرتوتوں سے اس نعرے کی دھجیاں اڑائیں۔

بھارت میں انتہا پسند اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ مسلمانوں پر آئے روز مشتعل انتہا پسند ہندو حملے کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ہندو اقلیت دلت بھی ان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں۔ ابھی گزشتہ ماہ ہی بی جے پی چیف امیت شاہ نے مسلمانوں کو دیمک کے ساتھ تشبیہ دی۔ 2017ءمیں اترپردیش کے ریاستی انتخابات جیتنے کے بعد یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریاست میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں ایک انتہا پسند یوگی ادیتھیا ناتھ کو وزیراعلیٰ لگا دیا تھا۔یہ سچ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ گزشتہ 5 سال بھارت میں تعصب کے نام پر مظالم عروج پر رہے تو اگلے 5 برسوں میں بھی بی جے پی کی وجہ سے اقلیتوں پر ان کے اپنے ملک کی زمین مزید تنگ ہو جائے گی۔

مغربی ذرائع ابلاغ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ مودی کی سیاست نفرتوں کی بنیادپر قائم ہے۔ یہ نفرت کبھی سیکولر سیاسی نظام کے خلاف نظر آئے گی تو کبھی بھارت کی مذہبی اقلیتوں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف۔ گویا مودی کی سیاست کا محور نفرت ہے،جو ان کی ہر تقریر ،ہر بیان میں نظرآتی ہے۔ مودی ہندوتوا کے کٹر نظریے کا علم بردار ہے۔

قوم کا وقار سر بلند رکھنے کے لئے وہ پاکستان اور چین کو سبق سکھانا چاہتے ہیں۔ گزشتہ اور حالیہ الیکشن انہوں نے پاکستان دشمنی کی بنیاد پر جیتا۔ اس مرتبہ وہ زبانی نہیں عملی طور پر بھی میدان میں آئے اور پاکستان پر سرجیکل اٹیک کا دعویٰ کرتے ہوئے تین چار بم بھی گرا دیئے۔ اس بات کو انہوں نے اپنا کارنامہ بنا کر پیش کیا اور ہندوو¿ں کی ہمدردیاں سمیٹیں۔ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ان کی اس حرکت سے دنیا میں بھارت کی کتنی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔بھارتی وقار کو کس قدر ٹھیس پہنچی ہے۔ انہیں تو بس اپنے اقتدار سے دلچسپی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی بھارتی گوربا چوف ہے۔ اس کے دور میں تحریک آزادی کشمیر مزید تیز ہوئی اور نہتے کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم آخری حد بھی کراس کرنے لگے۔ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اس کا حل بھی کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق ہونا چاہئے۔ کشمیر خطے کا سب سے اہم مسئلہ اور پاک بھارت تعلقات کی بنیاد ہے۔ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے انکار کیا ہے، کیونکہ اسے پتہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر وہ کشمیر ہار جائے گا۔ دھونس دھمکی سے اب تک کشمیر کا مسئلہ چلائے ہوئے ہے مگر اب ایسا ممکن نہیں۔ کشمیریوں کی تعلیم یافتہ نئی نسل کے میدان آزادی میں آنے سے بھارت خوفزدہ بھی ہے اور پریشان بھی۔ حریت رہنما سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت سے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی امید نہیں۔

مودی نے سابقہ دور میں بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر کشمیریوں کی مزاحمت کی وجہ سے کر نہ سکا۔ مقبوضہ کشمیر کی جہادی تنظیموں نے ان کے خلاف میدان میں آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔آرٹیکل 370 کی موجودگی میںبھارتی حکومت اب تک خواہش کے باوجود جموں اور لداخ کو کشمیر سے الگ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ نہ ہی پنجاب کی طرح وہ یہاں آبادی کا تناسب تبدیل کر سکتی ہے۔ اب یہ آئینی تبدیلی صرف اسی مقصد کے لئے کی جا رہی ہے۔

بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت کے خاتمے کی بات کی ۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کے ساتھ تناو¿ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انتخابی منشور اور بات ہوتی ہے، لیکن اقتدار کے تقاضے اور، اب دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ کشمیری اس کی بالکل اجازت نہیں دیں گے۔ مودی نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 ختم کرنے کی جو بات کی ہے اس سے کشمیر میں آزادی کی تحریک مزید تیز ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں بھی مسئلہ کشمیر پر بھارت کی مخالفت میں تیزی آئے گی اِس لئے یہ سوچ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو سٹیٹس کو پر رہنے دیں اور دیگر معاملات بہتر کریں۔

مزید :

رائے -کالم -